اسلامی حکومت اور اس کے اساسی قوانین

اسلامی حکومت اور اس کے اساسی قوانین

فخرالمحدثین ،مولاناسیدمحمدیوسف بنوری رحمہ اللہ

کون نہیں جانتا کہ اسلامی حکومت کے اساسی قوانین کیا ہیں؟ اور اس کے خدوخال کیسے ہوتے ہیں؟ کون سا ایسا مسلمان ہے، جو اسلام کے بنیادی عقیدوں کو نہ جانتا ہو؟ مگر مسلمان کے لیے جہاں جاننا ضروری ہے، وہاں ماننا بھی ضروری ہے۔ صرف جان لینے سے اسلام کی شہادت و سند نہیں مل سکتی۔ ابوطالب بھی اسلام کی حقانیت کا اقرار کر چکے تھے۔ عہدِنبوت کے یہودی بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، بلکہ خاتم النبیین ہونے کو دل سے جانتے تھے۔ جس پر وحی آسمانی و تعلیمات قرآنی کی تصریحات موجود ہیں۔ لیکن باوجود جاننے کے مانتے نہیں تھے۔ اس لیے ”مغضوب علیھم” کفار کی صفِ اول میں شمار ہوتے ہیں۔ الغرض جاننا اور پھر ماننا اسلام کی اولین شرط ہے۔ ماننے کے بعد عمل کرنا یہ اعلیٰ درجہ ہے۔
اسلام کیا ہے؟
”اسلام” کیا چیز ہے؟ اللہ تعالی کی وحدانیت پر (ذات میں ہو یا صفات میں یا افعال میں) ایمان لانا، حضرت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر ایمان لانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اور اللہ تعالی کے فرمانے سے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے سے جو باتیں امت کو قطعی طور پر پہنچی ہیں، جن کو علمی زبان میں ‘ضروریاتِ دین’ کہا جاتا ہے، ان سب کو بہ دل و جان تسلیم کر لینا… یہی خلاصہ ہے کلمۂ طیبہ کاجواسلام کا پہلا کلمہ ہے: ‘لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ’ یا دوسرا کلمہ شہادت ہے، اس کی تعبیریہ بھی ہو سکتی ہے کہ ‘قرآن کریم پر ایمان لانا اور اس کو حق تعالی کا آخری پیغام تسلیم کرنا اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس کی تشریح کی ہے، اسی طرز پر اس کو سمجھنا اور مان لینا۔’ اسی طرح اس کی اور کئی طرح تعبیریں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً یہ کہا جائے کہ ‘مسلمان وہ ہے، جو قرآن کریم اور احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔’ یا یہ کہا جائے کہ ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین کی باتیں بتلائی ہیں اور یقینی طورپر امت کو پہنچی ہیں یا یہ کہ دین اسلام کی جتنی بنیادی باتیں ہیں، ان پر ایمان لائے۔’ یا یہ کہا جائے کہ ‘حق تعالی کی الوہیت و توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت، نماز، روزہ، زکوٰة، حج وغیرہ پر ایمان لائے’ یا یہ کہا جائے کہ ‘اللہ و رسول کی تمام ہدایات و تعلیمات پر ایمان لائے۔’ یہ سب تعریفیں صحیح اور درست ہیں۔ صرف الفاظ و تعبیر کا اختلاف ہے۔
تعبیرات اور الفاظ کے اختلاف سے حقائق کا اختلاف سمجھنا یہ عناد ہے۔ یا جہل ہے یا پھر دونوں باتیں ہیں۔ اب یہ کہنا کہ آج تک اسلام کی اتفاقی تعریف نہیں ہو سکی، جو شخص یہ خیال کرتا ہے، اس کا تو مطلب یہ ہے کہ اس کو اب تک اپنے ایمان و اسلام پر یقین تو کجا، اس کا علم بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے ایک سابق جج کی رسوائے عالم رپورٹ میں جو کوشش کی گئی تھی، اس کا تو مقصد یہی تھا کہ تعبیر کے اختلاف کا فائدہ اٹھا کر کافروں کو مسلمان ثابت کیا جا سکے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اسلامی حکومت کسے کہتے ہیں؟
اب اسلامی حکومت وہی ہو گی، جو اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے اور بتائے ہوئے احکامات کو نافذ کرے اور حکومت کی طاقت سے جاری کرے اور اس قسم کی کافرانہ رپورٹوں اور فیصلوں کے لیے اس میں کوئی جگہ نہ ہو۔ اور اس میں اسلامی حکومت کا عنوانِ دستور یہی ہوگا کہ’ ‘حکومت کا مذہب دین اسلام ہوگا۔’ ‘آج تک جنتی اسلامی حکومتیں ہیں، ان کے دستور کی پہلی دفعہ یہی ہے۔ نہ ہمارا مزاج سیاسی ہے اور نہ ہمارے ماہنامے ”بینات” کا موضوع سیاست ہے۔ بحیثیت ایک مسلمان اور بحیثیت ایک خادم دین ہم اس بات کے سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمارا یہ ملک پاکستان اب تک کیوں اسلامی مملکت نہیں بن سکا، بلکہ فقہی حیثیت سے اس کو ”دارالاسلام” کہنا بھی مشکل ہے۔ اس لیے اگرچہ قدرت قانونِ اسلام جاری کرنے کی بظاہر موجود ہے، (بظاہر اس لیے کہتا ہوں کہ شاید یہ خیال بھی صحیح نہ ہو، بلکہ اندر اس جسدِ عنصر کو حرکت دینے والی کوئی خارجی روح مخفی ہو، جو ہمیں نظر نہ آتی ہو۔ خیر ہم تو ظاہر کو جانتے ہیں، باطن اللہ تعالی کے حوالے ہے۔ بہرحال یہ قدرت اگرچہ ہے) لیکن اس قدرت سے نہ صرف یہ کہ احکاماتِ اسلام اور تعلیماتِ اسلام کو جاری نہیں کیا گیا، بلکہ طرح طرح کی مشکلات و عقبات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ متحدہ ہندوستان بلاشبہ علمی و فقہی اصطلاح سے ‘دارالکفر’ تھا۔ تقسیم ملک کے بعد وہ حصہ بالاتفاق دارالکفر رہا، خصوصا جب وہاں یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ ‘سیکولر’ (لادینی) حکومت ہوگی۔ یہاں صرف اعلان تو نہیں کیا گیا، لیکن عملاً کوئی فرق نہیں رہا، بلکہ یہاں کفر و ارتداد کے ساتھ وہاں سے زیادہ رواداری برتی گئی۔ وہاں عیسائی مشنریوں کو ہندوستان کے کسی باشندے کو مسلمان ہو یا ہندو، عیسائی بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں دوسروں کو عیسائی بنانے کی کھلی اجازت دی گئی۔ اور سب سے زیادہ کسی مسلمان ملک میں اگر عیسائی کی حوصلہ افزائی ہوئی تو ہمارا ملک ہے۔ اگر حکومت کا مذہب اسلام ہوتا تو کسی کو عیسائی بنانے کی کیا مجال تھی۔ تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس ملک میں نہ صرف یہ کہ زنا کرنا جرم نہیں، بلکہ اس کے لائسنس دیے جاتے ہیں۔ شراب پینا عام ہے۔ سودی کاروبار پر تمام زندگی کا ڈھانچہ قائم ہے۔ چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے۔ کوئی شرعی قانون نافذ نہیں، بلکہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو جانا بھی جرم نہیں۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ سمجھنا بھی جرم نہیں، بلکہ ملک کے اندر اور باہر حکومت کی اعانت و امداد سے قادیانیت کی دعوت و تبلیغ جاری ہے۔ اس ملک میں قرآن کریم کو برملا محرف کہا جاتا ہے۔ اکابر صحابہ پر تبرا بھیجا جاتا ہے۔
جس ملک میں زنا، شراب، سود، جوئے اور بیمے کا عام رواج ہو، جس ملک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی و رسول نہ سمجھا جاتا ہو، بلکہ جھوٹے مدعیان نبوت کو ماننے والے بیشتر کلیدی آسامیوں پر فائز ہوں، جس ملک میں ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر معاذاللہ سب و شتم ہوتا ہو، جہاں علمی و نظریاتی طور پر تمام بنیادی مسائل کو مجروح کیا جاتا ہو، جہاں ہر کفر و الحاد کی نہ صرف اجازت ہو، بلکہ اس کی پرورش ہوتی ہے، جس ملک میں ہر بے حیائی کو فروغ دیا جاتا ہوا ور جہاں اسلام کے عادلانہ قانون کے مطابق نہ کسی کی جان محفوظ ہو نہ آبرو محفوظ ہو، نہ مال محفوظ ہو کیا وہ ‘دارالاسلام’ ہے؟ کیا یہی اسلامی مملکت ہے؟ کیا پاکستان میں اس کے سوا اور بھی کچھ ہے؟ کیا انہی چیزوں کی خاطر اللہ تعالی اس کی حفاظت کرے؟
آج آسمان سر پر اٹھایا جاتا ہے۔ شادیانے بجتے ہیں اور شور برپا ہے کہ قومی اسمبلی قائم ہو گئی اور عبوری آئین نافذ ہوگیا۔ عبوری آئین جیسا کچھ ہے، سب کے سامنے آ چکا ہے۔ نہ معلوم مستقل آئین بھی (اگر بنا تو) اسی نوعیت کا ہوگا یا اس کے کچھ مختلف؟ تاہم عبوری آئینے میں مستقل آئین کے خدوخال نظر آ رہے ہیں۔
قیاس کن ز گلستان من بہارِ مرا
ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ لاکھ جمہوریت بحال کر دی جائے، مگر جب تک صاف اعلان نہیں کر دیا جاتا کہ حکومت کا مذہب اسلام ہوگا، اس ملک میں کسی کو مرتد بننے اور بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صدر مملکت اور کلیدی اہمیت کے دیگر مناصب کے لیے مسلمان ہونا لازمی شرط ہوگی، اسلامی احکام کا اجراء ہوگا۔ تمام شرعی تعزیریں نافذ کی جائیں گی۔ شراب ممنوع، زنا حرام اور سودی کاروبار بند ہوگا، قمار اور جوئے کی اجازت نہیں ہوگی، شراب نوشی اور عصمت دری پر شرعی سزائیں جاری کی جائیں گی۔ چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ سرکاری مدارس ( اسکولوں)میں اسلامی تعلیم لازمی ہوگی۔ عیسائی اسکولوں میں مسلمان بچوں کو انجیل کی تعلیم ممنوع ہوگی۔ جو لوگ حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ‘ختم نبوت’ کا انکار کرتے یا اس میں تاویل کرتے ہیں، ان کے فرقے کو مسلمانوں سے الگ ایک غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
الغرض اسلامی شعائر کی بہت سی باتیں جن کو ہر مسلمان جانتا ہے اور جن سے کسی اسلامی مملکت کے خدوخال ہر شخص کو نظر آ سکتے ہیں۔ جب تک دل و دماغ سے ان باتوں کو اپنایا نہیں جاتا، اسلامی حکومت نہیں ہوگی۔ کسی اسلامی حکومت کی واضح علامت یہ ہے کہ وہ اسلامی شعائر کو بلند کرے اور کفر کے شعائر کو مٹائے۔اس کے بغیر چاہے چاردانگ عالم میں اس امر کا اعلان کیا جائے کہ یہ اسلامی مملکت ہے، یہ دعوی ان حقائق کی روشنی میں نفاق ہے۔ دھوکا ہے ۔ آنکھوں میں مٹی ڈالنے کے مترادف ہے۔ اور خدا تعالی اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دینا ہے۔ صرف جمعیت علمائے اسلام کے ایک آدھ وزیر ہونے سے یا مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی جیسے حضرات کے رکن اسمبلی بن جانے سے یہ ملک اسلامی نہیں بن جاتا۔ جہاں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو جمہوری ووٹنگ سے طے کیا جائے اور جہاں قرآن و سنت کے صریح احکام بھی اکثریت و اقلیت کے فیصلے کے رہینِ منت ہوں، اس نقارخانے میں طوطی کی آواز کو ن سنتا ہے؟ جمہوری فیصلوں کا دائرہ صرف انتظامی معاملات تک محدود ہے اور یہیں تک محدود رہنا چاہیے۔ قرآنی تعلیمات اور اسلامی ہدایات اور قوانین و احکام کے سامنے ان کی کیا وقعت ہے؟
اسلامی مملکت کا دستوری ڈھانچہ
حکومت و سلطنت اگر مسلمانوں کے زیر اقتدار آئے تو ان کا طرز عمل کیا ہوگا؟ اور وہ اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہوئے کن چیزوں کو بروئے کار لائیں گے؟ اس سلسلے میں قرآن کریم نے چار باتوں کا ذکر کیا ہے:
(١) اقامت الصلوٰة (نمازوں کی پابندی)(٢) ایتائے زکوٰة (نظام زکوٰة کا قائم کرنا)
(٣)امر بالمعروف (نیک کاموں کا حکم کرنا)(٤) نہی عن المنکر (برے کاموں سے منع کرنا)
چناں چہ ارشاد ہے:
(الحج:٤١)
وہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میںحکومت دے دیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ (بیان القرآن)
یہی وہ ‘بنیادی نکات’ ہیں، جن پر اسلامی مملکت کا دستوری ڈھانچہ مرتب ہوگا۔ یہی وہ محور ہے، جس کے گرد مسلمانوں کا نظمِ مملکت گردش کرے گا۔ جنہیں اسلامی حکومت اپنے لیے نصب العین قرار دے گی۔ بلاشبہ اسلامی حکومت کو سیکڑوں قسم کے سیاسی مصالح، معاشرتی مسائل اور وقتی تقاضوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ لیکن وہ اس امر کی شدت سے پابند رہے گی کہ اس کا کوئی اقدام ان بنیادی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔
مسلمان حکمران کے شرائط
مختصر یہ کہ ایک مسلمان حکمران کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ خود صالح، متقی اور خداترس ہو۔ اور کتاب و سنت کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق تمام معاشرے کی اصلاح کر کے انہیں صالح اور خداترس بنائے۔ خود صالح ہونا اور دوسروں کو صالح بنانا یہ اسلامی حکومت کااساسی اصول ہے۔ اس کی علمی تفصیلات کتاب و سنت میں محفوظ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اسی نہج پر تربیت فرمائی اور خلافتِ راشدہ کے بابرکت اور زریں عہد میں اس کا مثالی نمونہ عملی طور پر ظہورپذیر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اللہ تعالی کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بعد اولی الامر کی اطاعت کو بھی لازم قرار دیا گیا:
(النساء: ٥٩)
(اے ایمان والو)حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہو۔
لفظ ‘منکم’ میں بتلایا گیا ہے کہ اسلامی حکومت کے سربراہ کا مسلمان ہونا اور مؤمن ہونا شرط ہے۔ یعنی اس کی اطاعت اس وقت لازم ہوگی، جب کہ وہ حق تعالی کے احکام کا مطیع اور فرماں بردار ہو۔ اور اگر وہ اللہ تعالی سے باغی ہو جائے، اس کے احکام سے سرتابی کرے اور اسلام کا زریں تاج اپنے سر سے اتار پھینکے تو اس کی اطاعت کا سوال باقی نہیں رہتا۔لاطاعة لمخلوق فی معصیة الخالق (مشکوٰة)
(بصائروعبر،ج١ص٥٨تا٦٢)

2017 نواءے امت ۔ اکتوبر

Related posts