اسلامی نظامِ تعلیم کیاچاہتاہے؟

اسلام میں تعلیم وتربیت کی ضرورت و اہمیت

اسلام میں علم اور تعلیم کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے،بلکہ یہ کہنابیجانہ ہوگاکہ اسلام علم کو پھیلانے اورجاہلیت کی تاریکیوں کے خاتمے کا دوسرانام ہے ۔ اسلام سے قبل عرب میں جو کچھ برائیاں ہو رہی تھیں ،چاہے وہ ظلم وعدوان کی صورت میں تھیں یا قتلِ اولاد یا ڈکیتی اور راہزنی یا دیگر بد اخلاقی بیماریاں ،اسلام نے ایک ہی لفظ میں ان کی جامع تعریف کی کہ وہ زمانہ جاہلیت تھا ۔گویا اسلام نے عالم میں موجود تمام تر فسادات ،برائیوں، بداخلاقیوں اورہر قسم کے خلافِ انسانیت جرائم کا پیش خیمہ جاہلیت ہی کو قرار دیا ۔جب اسلام نے تمام تر فسادات کا بنیادی سبب جہالت کوقراردیا تو اسلام دنیا میں آیا ہی جاہلیت کو ختم کرنے کے لئے ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی پہلی وحی ( اقراء یعنی پڑھئے:سورۃ العلق)بھی تعلیم کی اہمیت ،اس کی ضرورت اور انسانی زندگی کے مختلف پہلووں میں اس کی بنیادی حیثیت کو بیان کر رہی ہے ۔قرآن مقدس میں اللہ کریم نے جہاں نبی کریم ﷺکے فرائض ِنبوت کو بیان فرمایا وہاں سب سے پہلے تعلیمِ کتاب کاذکرفرمایا :
ھُوَالَّذِی بَعَثَ فِی الاُمّیّینَ رَسُولَامِّنھُم یَتلُواعَلَیھِم اٰیتِہ وَیُزَکِّیھَِم وُیُعَلِّمُہُمُ الکِتٰبَ َوَالحِکمَةَ(سور ةالجمعہ) اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کے اس اہم مقصدکوبیان فرمایاہے تو اسلام نے تعلیم کو ہی اپنا بنیادی اور اہم مقصد قرار دیا اور خود نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی بعثت کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
انی بعثت معلما (مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ۔)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے سامنے اپنی حیثیت ایک معلم اوراستاذ ہونے کی پیش فرمائی اور اسی کو تعارف کا ذریعہ بنا یا۔پھر جب عملی زندگی میں تعلیم کے عملی اجرا ء کا موقع آیا تو تعلیم وتعلم کے باقاعدہ حلقے لگائے گئے،چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دار ارقم ،بیت ابی بکر ،مسجد قبا ، مسجد نبوی اور دیگرکئی مقامات پر تعلیم گاہیں قائم تھیں۔جب کوئی مسلمان ہوتا تو اسے سب سے پہلے اسلام کی تعلیمات سکھائی جاتیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے تعلیم کے اس سلسلے کو مزید مضبوط کرنا شروع کر دیا،پھر جوں جوں فتوحات کا سلسلہ بڑھتا رہا تعلیمی اداروں کے قیام کا سلسلہ بھی مسلسل بڑھتا رہا۔

اسلامی نظام تعلیم وتربیت کو مدون ومرتب کرنے کامعیار

اسلام چاہتا ہے کہ نصاب تعلیم یا نظام تعلیم کو اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد ونظریات پر ہی استوار کیا جائے اور اسلام کے بنیادی عقائد ونظریات سے ذرہ برابر انحراف ومخالفت نہ ہو۔لہذا اگر کوئی نظام تعلیم ان بنیادوں پر استوار نہ ہوہو تو وہ ہرگزقابل قبول نہیںہے اور مسلمانوں کے لیے ایسے نظام تعلیم کو اپنانا حرام اور ناجائز ہو گا۔ حضرات انبیا کرام کے دنیا میں بھیجے جانے اور ان کے تعلیم وتربیت کے تین بنیادی مقاصد ہوتے تھے ۔تصحیح عقائد،تصحیح اعمال ،تصحیح نیات۔انبیاکرام کی اس محنت میںسب سے اہم اور بنیادی محنت عقائد و نظریات کی اصلاح کی محنت ہوتی تھی۔اس لیے اسلامی نظام تعلیم میںاسلام کے عقائد ونظریات کو ہی ہمیشہ بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس مغربی نظام تعلیم میں سینکڑوں غلط عقائد ونظریات ایسے موجود ہیں جو اسلام کے بنیادی عقائد سے واضح طورپر متصادم اور سو فیصد منافی ہیںجو مسلمانوں کے لئے ہرگز قابلِ قبول نہیں ہیں ۔

اسلامی نظام تعلیم وتربیت کے اغراض ومقاصد

چونکہ تعلیم وتربیت ہی کے ذریعہ رجال کار تیار کیے جاتے ہیں۔اس لئے یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ دنیا میں جتنی بھی قومیں اورجتنے بھی مذاہب والے آباد ہیں ،سب کے ہاں اپنا ایک مخصوص نظام تعلیم و تربیت ہے کیونکہ اس قوم و تہذیب کو تعلیم یافتہ افراد سے اپنی تہذیب وقوم کے لئے خدمات لینی مقصود ہوتی ہیں ۔تو وہ تعلیم کے ذریعہ سے ان افراد کی ذہن سازی،ان کے عملی میدان کے مقاصد واہداف کے متعلق ان افراد کے دل ودماغ کی فضا کو ان مقاصد کے حصول کے لئے سازگار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی نظام ہائے تعلیم رائج ہیںان کا اہم مقصد فقط دنیاوی زندگی ہی کوبنانا ،سنوارنا اور اسی کے متعلق مفادات کے حصول کو ممکن بناناہوتاہے ۔جبکہ اسلام تعلیم سے کیا چاہتا ہے؟وہ کس قسم کی رجال سازی چاہتا ہے؟وہ تعلیم کے ذریعہ کس قسم کی تبدیلی لانے کا نظریہ رکھتاہے؟وہ افراد کو تعلیم یافتہ بنا کر ان سے کیا کام لینا چاہتا ہے؟ اسلام کے نظام تعلیم کے ذریعہ کسی انسان کی محض دنیا ہی سنوارنا انتہائی مقصود ہرگز نہیں ہے بلکہ دین ودنیا دونوں کو ہی کامیاب بنانا چاہتا ہے اور اپنے ماننے والوں کواللہ تعالی کی رضا اورجنت کی نعمتوںکے حصول والے اعمال اختیار کرنے کاحکم دیتا ہے، یہی اسلامی نظام ِتعلیم کی خصوصیت ،اس کا امتیاز اور انفرادیت ہے ۔

اسلامی نظام تعلیم وتربیت کا پہلا مقصد

خدا خوفی کے جذبے سے سرشار رجالِ کار کی تیاری:قرآن کریم نے جہاںتعلیم کاحکم دیاوہاںتعلیم کے اس اہم اوراساسی مقصدکوواضح کرتے ہوئے فرمایا:
اقراء باسم ربک الذی خلق (اپنے پیداکرنے والے رب کے نام سے پڑھیے)
اللہ تعالی نے واضح فرمایا کہ پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والے کے دل ودماغ میںخا لقِ کائنات یعنی اللہ رب العزت کی الوہیت وربوبیت کا تصور اچھی طرح نقش ہوجائے ۔ اگر دل ودماغ میں یہ تصور ہو تو یہ اسے اپنے رب کے ساتھ جوڑدیتاہے اور یوں انسان اللہ تعالی کے ہرحکم وقانون کوقبول کرتاہے اوردنیاوی زندگی میںہر قسم کی برائیوں سے بچ جاتا ہے ۔لہذااگر انسانوں کو الحادوبے دینی ،کفروشرک،ظلم وتعدی،بے راہ روی اورہر قسم کی برائی سے بچاناہے تو ان کے دل ودماغ میں مذکورہ تصورراسخ کرناضروری ہے۔ اسی طرح انسانوں میں روزِقیامت اللہ تعالی کے سامنے حاضری کایقین پیداکیاجانابھی لازم ہے ۔جب یہ یقین پیداہوگیاتو یہ انسان اپنے آپ کواپنے ہرعمل کاجوابدہ سمجھے گااورحرام وناجائزامورسے بچ سکے گا۔اس کے برعکس آج مغربی نظام تعلیم کے تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والوںکا حال یہ ہے کہ ان میںاللہ تعالی کی ربوبیت و الوہیت کاتصورپایاجاتاہے اورنہ آخرت میںاللہ تعالی کے سامنے پیشی اورپوری زندگی کے اعمال کے احتساب کایقین راسخ ہے۔

اسلامی نظام تعلیم وتربیت کا دوسرا مقصد

اسلامی تہذیب وثقافت کا تحفظ: اسلام ایک کامل و مکمل اورعالمگیر دین ہے جو اپنا ایک مخصوص طرز زندگی اور تہذیب رکھتا ہے اوراپنے ماننے والوں کو اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کا حکم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے غیراقوام کی تہذیب وتشبہ اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے اوراسلامی تہذیب اختیار کرنے کی پرزور دعوت دی ہے۔احادیث مبارکہ میں عبادات ، معاملات ،معاشرت،اخلاقیات،اور ظاہری و باطنی سینکڑوں چیزوں میںیہود ونصاری اور مشرکین کے ساتھ مشابہت سے سختی سے روکا گیا ہے ۔ اسلام نظام تعلیم کے ذریعے ایسے افراد کی تیاری چاہتا ہے جو اسلامی تعلیمات کا کامل نمونہ ،اسلامی تہذیب کے نمائندہ ،اسلامی اخلاق واقدارکی عملی شکل اور اسلام کی دعوت کے حقیقی ترجمان ہوں۔یہی اسلامی نظام تعلیم کا خاص مقصد ہے ۔اس کے برعکس مغربی نظام تعلیم وتربیت میںپروان چڑھنے والے ہرفرد کے دل ودماغ میں مغربی تہذیب وثقافت اورطرز زندگی کی محبوبیت، مقبولیت اچھی طرح پیوست ہوجاتی ہے اور وہ اسی طرز زندگی کو باعث فخرو عزت سمجھتا ہے ۔

اسلامی نظام تعلیم وتربیت کاتیسرامقصد

اسلام کاغلبہ اور بالادستی:اسلامی نظام تعلیم وتربیت کاایک اہم مقصدایسے افرادکی تیاری ہے جواسلامی نظام کے نفاذوقیام،غلبے اورپوری دنیامیں اس کی بالادستی کے لیے بھرپورکرداراداکرسکیں،چنانچہ اسلامی نظام کی طویل تاریخ میں ایسے افرادپیداہوتے رہے جنہوں نے اسلامی نظام کے نفاذوقیام اورپوری دنیامیں اس کے غلبے کے لیے شاندارکارنامے انجام دیے۔جبکہ مغربی نظام تعلیم نے اسلامی نظام کے خلاف زہریلا مواد پھیلادیاہے ۔یہاں تک کہ مغربی نظام تعلیم سے وابستہ افراد اسلامی نظام کی ضرورت واہمیت کے ہی منکر ہیںیا موجودہ دورمیںاس کے قابلِ عمل ہونے کے بارے میںشکوک وشبہات کاشکارہیں۔

اسلامی نظام تعلیم وتربیت کا چوتھا مقصد

کفریہ نظام کا خاتمہ:اسلام کے نظام تعلیم کے ذریعے ایسے افراد کی تیاری مقصود ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں اسلامی نظام کا احیا کریں اور غیر اقوام کے نظامِ حیات کوفکری وعملی طور پر مسترد کریں اور اس کے دل ودماغ میں غیرمسلم اقوام کے طرز سیاست و حیات سے مکمل طور پر نفرت جبکہ اسلامی طرز حیات سے مکمل رغبت اور محبوبیت پیدا ہوجائے۔لہذا ایک مسلمان جب بھی کوئی علم حاصل کرے گایاکوئی فن سیکھے گا تو اس کا بنیادی مقصد اس کے ذریعہ اسلام کا تحفظ اور غیر اسلامی نظریات کا رد ہو گا اور یہ زندگی کے ہرشعبہ میں اسلامی تعلیمات کے احیا کی فکر کرے گا ۔اس کے برعکس مغربی نظام تعلیم سے وابستہ فرد کا نظریہ کیا ہوتا ہے ؟ اس کی بلند فکری کا حال کیا ہوتا ہے ؟ وہ مذہب کے تحفظ وترویج کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ یہ بات واضح ہے۔ یہاں تو صرف ایک ہی مقصد پیش نظر ہوتا ہے کہ دنیاوی معاملات میں سبقت ،اقوام غیر کی کامل اتباع ،کفریہ نظام کا زبردست تحفظ اورمغربی تہذیب کی اندھی نقالی ۔

مغربی نظامِ تعلیم کے نتائج:

جب مسلمان زوال پذیرہوئے تومغربی کفریہ طاقتیںاسلامی ممالک پرحملہ آورہوئیںاوراسلامی نظام کوختم کردیا،چنانچہ مسلمان نسلوںکواپنامستقل غلام و محکوم بنانے کے لیے اسلامی نظام ِتعلیم وتربیت کویکسرمعطل کرکے اپنے الحادوبے دینی،کفروشرک اورباطل عقائدونظریات پرمبنی نظامِ تعلیم کومسلمانوںپرمسلط کیا،تاکہ آیندہ آنے والی نسلیںمغربی طاقتوںکی فکری وذہنی غلام بن جائیں اوران کے دل ودماغ میںیہ بات پختہ کردی جائے کہ مغربی عقائد،افکارونظریات،اقداروروایات،نظامِ حیات ،تہذیب وثقافت اورطرزِزندگی کوعملی طورپراپنانے میںہی انسانیت کی فلاح وبہبودہے ،چنانچہ مغربی نظامِ تعلیم کے تحت تعلیم وتربیت پانے والی نسلوںنے اس باطل فکرکونہ صرف ذہنی وفکری اور عملی طورپرقبول کیابلکہ اس کی نمایندہ وترجمان بن گئیںاورمغربی طاقتوں کی محکومی وغلامی پرفخرکرنے لگیں۔جب مغربی نظامِ تعلیم کایہ نتیجہ برآمدہواتومغربی طاقتیںاپنے وفاداروتابعدارطبقے کواپنے ہمہ جہت مفادات کامحافظ بناکراورمسلم ممالک کااقتداران کے حوالے کرکے خودرخصت ہوگئیں ۔چنانچہ مسلم ممالک کی تقریباََسات دہائیوںپرمشتمل تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مغربی نظام ِتعلیم کے تحت تیارہونے والی کھیپ ہی ان ممالک کے اقتدارواختیارپرقابض ہے اورمسلمان نسلوںکے دل ودماغ میں یہ زہر انڈیلنے کی بھرپورکوشش کررہی ہے(جس میںوہ کافی حدتک کامیاب بھی ہے ) کہ مغربی عقائد،افکارونظریات،اقداروروایات،نظامِ حیات ،تہذیب وثقافت اورطرزِزندگی کوعملی طورپراپنانے سے ہی انسان کودنیاوی فلاح وبہبودحاصل ہوسکتی ہے۔
مغربی نظام ِتعلیم کے مفاسداوراسلامی نظام ِتعلیم نہ اپنانے کے نقصانات کے پیشِ نظرضرورت اس بات کی ہے کہ مغربی نظام ِتعلیم کوفکری وعملی طورپرمستردکردیاجائے اوراسلامی نظام ِتعلیم کو اپنانے کی کوشش کی جائے،جس کی عملی طورپردوصورتیں ہیں۔پہلی یہ کہ ہر مسلمان اپنے بچوںکولازمی طورپراسلامی تعلیم دلوائے۔دوسری یہ کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے بھرپورجدوجہدشروع کردے،کیونکہ اسلامی نظام کے قیام کے ذریعے ہی اسلامی نظام ِتعلیم قائم ہوسکتاہے،اس کے علاوہ اس کاکوئی اورحل نہیںہے۔
یاد رکھیں! اسلامی نظام ہماری ضرورت بھی ہے اوراس کے قیام کے لیے جدوجہد کرناہمارافریضہ بھی ہے لہذااسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں شامل ہوجائیے۔

تحریک نفاذِ اسلام

اسلامی نظام کے قیام کی دعوت کو لے کر چل رہی ہے اور وقت کے جید علماء کرام ،مفتیان عظام ،محدثین اوراہل اللہ کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے ،لہٰذا آئیے ! اسلامی نظام کے نفاذکے فریضے کو نبھانے کے لئے اس تحریک میں شامل ہوکر اسے پروان چڑھائیں۔
اللہ رب العزت ہمارا حامی وناصر ہو۔آمین۔

Related posts