اسلامی نظامِ ریاست وحکومت

جانشین امیرِشریعت سید ابوذربخاریؒ

اسلام دینِ کامل ہے،صرف مسلمان نہیں،بلکہ دنیاکے تمام انسانوںکی فطری ضروریات اورزندگی کے تمام مطالبات کی تکمیل کامدعی وعلمبردار ہے اوراپنے نہ بدل سکنے والے الہامی اصول کے زیرِسایہ قائم ہونے والی حکومت میں عوام کے جملہ حقوق ومفادات کاعملی محافظ اورضامن ہے۔عہدنبوت علیٰ صاحبہاالسلام اوردورِخلافتِ صحابہءکرام رضی اللہ عنھم کی خالص اورمکمل اسلامی خلافت وریاست (سٹیٹ) کے بعد اموی اورعباسی اقتدارسے لے کرسلطان محی الدین اورنگزیب عالمگیر رحمۃاللہ علیہ کے عہدتک قائم ہونے والی تمام شخصی مسلمان حکومتوں میں بھی بہ قدرممکن اس دعویٰ کی عملی تفسیرکاسراغ ملتاہے،اورقریباَ ڈیڑھ ہزارسال کی اسلامی تاریخ کے صفحات اس پر گواہ ہیں۔اسلام اپنے عالم گیر اخوت ومساوات کے بنیادی ضابطہ کے تحت ایک مثالی معاشرہ ،ایک روشن اورانقلاب انگیز تہذیب وتمدن نیز غربت و بدحالی، خیانت و غصب، رشوت و سود اورظلم و جبرسے پاک وصاف اقتصادی نظام کوجنم دیتاہے۔اسلام کے الٰہی اصول جہانبانی کے مطابق فرقہ وارانہ اختلافات اورپیشہ وارانہ امتیازات کے جاہلی نظریہ پرمبنی سلطنت کبھی قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ اس فساد سے خالی اقتدار و غلبہ ہی دینی حکومت کہلاسکے گا،اسلامی نظام میں تمام فرقے متحدہوکرایک امت اورتمام پیشہ ورطبقات مل کرایک قوم میں تبدیل ہوجائیںگے۔ اس کے علاوہ اقتدارکی ہرشکل چاہے وہ ظاہرمیں کتنی ہی عوامی اورجمہوری کیوں نہ ہو، درحقیقت سیکولرازم اورلادینیت کے مہذب مگرمنافقت آمیزاورکافرانہ نقطہءنظر کی حامل ایک سراسرغیراسلامی حکومت قراردی جائے گی ۔یہ فیصلہ کسی شخصی خیال ،رائے یاگروہی عصبیت کانتیجہ نہیں،بلکہ بلااستثناءوترمیم پوری امت کامتفقہ اسلامی عقیدہ ہے۔قرآن کریم کے تیس پارے ،بیس لاکھ احادیث شریفہ ، دولاکھ صحابہ کرام ؓ کااجماع واجتہاد، نیز امت کی قطعی اورواحدنمائندہ اکثریت، سواداعظم اہلسنت والجماعت کے حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی چاروں فقہی مذاہب کے متفقہ و مسلمہ پندرہ لاکھ مسائل اورخالص اسلامی قوانین، ہردور اور ہر زمانہ میں ہرمسئلہ کااصل ماخذ اور بنیاد و سرچشمہ ہیں۔

(اداریہ پندرہ روز”الاحرار“جلد۱شمارہ۱جنوری ۱۹۷۰ء)

Related posts