اقتصادی عالم گیریت

مولانایاسرندیم

تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جس قوم نے بھی کوئی ایسی منفی تحریک شروع کی،جس کا اثر براہِ راست یابالواسطہ دیگر اقوام پر پڑتاہو،تواس کاسبب مادّیت پرستی کے علاوہ اورکچھ نہیں رہا ہے،اس قسم کی ہر تحریک کے پیچھے یہی عامل کار فرما رہا ہے کہ ایک قوم کے افرادکودیگر اقوام پر مادّی تفوق اور بالادستی حاصل ہوجائے ،تاکہ ان کے عیش وعشرت اور سکون میںمال ودولت کی عدم فراہمی کااحساس مخل نہ ہو،قدیم زمانے ہی سے انسانی تاریخ ایسے نظام سے واقف ہے ،جس میںدولت کی ہوس اوربے تحاشہ مال وثروت کی خواہش کے نتیجے میں طاقت ورقوم کمزور قوموںکااستحصال کرتی ہے ،مادّی طور سے خودکو مضبوط کرنے کے لیے مخالف قوموںپر مختلف حربے استعمال کرتی ہے،ان پر حملے کرتی ہے، لوگوںکوغلام بنالیتی ہے اوران کے اموال وجائیدادکو قبضے میں کرلیتی ہے۔

حیوانیت کا یہ ننگاناچ مال ودولت کے حصول ہی کے لیے کیا جارہا ہے۔یورپ نے جدید دور میں قدم رکھا توسائنس کومحض ایک تھیوری یا نظر یہ نہیں بنایا بلکہ اسے تجرباتی طریقے پراپنایا اورمختلف ایجادات کیں ،تب ہی سے یورپ نے لالچی نگاہوںسے مشرق کی دولت کی طرف بھی دیکھنا شروع کردیا تھا ،چنانچہ سامراجیت کایہ سیلاب مغرب سے بہتا ہوامشرق میں ایشیااورجنوب میںافریقہ کی طرف بڑھا اوردنیاکے طویل وعریض علاقے کواپنی کالونی بنالیا،اگراس زمانے کی سامراجیت کے مقصدپرغورکیاجائے تو مادّیت پرستی ہی کی طرف ذہن  جاتا ہے ،ما ل ودولت ہی کانشہ تھا جو مغربی اقوام کو کھینچ کر مشرق کی طرف لایا تھا ،لیکن بیسویں صدی کے آفتاب نے جب کرنیں بکھیریںتواستعماریت کی شفق نے بھی اپنی چادر پھیلادی ،پچاس برس گزرے بھی نہ تھے کہ سامراجیت مکمل غروب ہو گئی اورسالہاسال سے غلامی کی زنجیرو ںمیں جکڑے ہوئے ممالک نے آزادی کی نئی صبح میں قدم رکھا ،لیکن چند سالو ںکی خاموشی کے بعد سامراجیت نے ایک با رپھر اپنی سابقہ کالونیوںکا رخ کیاگویا کہ اس کے پیش نظر یہ بات تھی کہ دوبارہ پھرواپس آنا ہے، اگرچہ اس مرتبہ اس کی شکل وصورت اورلباس بدلے ہوئے تھے اورملٹی نیشنل کمپنیاں اس کی قیادت کررہی تھیں ،ان کمپنیوںکا اُس وقت وطن تو تھا ،لیکن یہ سرحدوں سے ناآشنا تھیں ،اس لیے یہ ملکی حدود کی پروا کیے بغیر بڑھتی ہی چلی گئیں اور مشرق کو ایک بار پھر اپنے دام میں جکڑلیا۔

گلوبلائزیشن کے یوںتو مختلف میدان کار ہیں ،لیکن اقتصادی میدان میں اس کی کرم فرمائیاں سب سے زیادہ ہیں ،حتی کہ مفکرین کے ایک طبقے نے گلو بلائزیشن کا اقتصادی اعتبار ہی سے جائزہ لیاہے ،اقتصادی گلو بلا ئزیشن یہ چاہتا ہے کہ صنعت وتجارت کے میدان ،ملکی حدودمیں محدودنہ رہیں بلکہ ہر شخص کو انفرادی طور پر یاکسی گروپ کی شکل میں یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ دوسرے ملک کی تجارت میں سرمایہ کاری کرے اوراس کے بدلے نفع حاصل کرے ،اسی کو اصطلاح میں عالمی تجارت سے تعبیر کیاگیا ،لیکن عالمی تجارت کے سودمندہونے کے لیے یہ ضروری تھاکہ تجارتی میدان میں کسی بھی قسم کی قیداور پابندی کو روانہ ر کھا جائے بلکہ ہر شخص کے لیے اس کی وطنیت اور قومیت سے صرف نظرکرتے ہوئے تمام منڈیوںکے دروازے کھول دیے جائیں،اس لیے عالم گیریت کے علم برداروںنے اس مقصد کے حصول کے لیے یہ نظریہ پیش کیا کہ ”جانے دو،کام کرنے دو ”اس سے قطع نظر کہ کوئی کہاں جارہا ہے اور کیاکام ہورہاہے ۔ظاہر ہے کہ شخصی اورانفرادی طور پر عالمی تجارت میں بڑی سرمایہ کاری کرنا ممکن نہ تھا ،اس لیے کمپنیوںکا وجود ہوا،جنھوںنے مختلف ممالک کے تجارتی سیکٹروںمیں سرمایہ کاری کی اور اپنے مالکان کی پیٹ بھرائی کی۔

اقتصادی عالم گیریت کا بہ ظاہر یہ دعوی رہا ہے کہ عالمی تجارت سے خوش حالی بڑھے گی ،غربت کاخاتمہ ہوگا ،ہر سامان مناسب قیمتوں اوروافر مقدار میں دستیاب ہوگا ،ہر ملک کا سامان بازار میں فروخت ہوگا اوراس دور کا خاتمہ ہوجائے گا،جس میںمختلف اشیاء حتی کہ کھانے پینے کی چیزوں تک بھی صرف مال دار وں کی رسائی ہوتی ہے،لیکن اگر اقتصادی عالم گیریت کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ گلوبلائزیشن خوش حالی عطاکرنے اور معیارِزندگی بلندکرنے کی بجائے غربت اورفقروفاقہ پیداکرنے کاسب سے بڑا سبب ہے ،اس نظام سے خوش حالی ضرور آتی ہے لیکن صرف ان کمپنیوں کے مالکان کے گھروں میں آتی ہے جو مختلف ملکوں میں عوام کے پیسے سے اپنے مالکان کا پیٹ بھرنے لگی ہوئی ہیں،جب کہ ترقی پذیر ممالک جو ترقی یافتہ بننے کی خواہش میں اس نظام کو قبول کرتے ہیں ،وہ مسلسل غربت سے دوچار رہتے ہیں۔

اقتصادی عالم گیریت کا طریقۂ کار:اقتصادی عالم گیریت نے دراصل سرمایہ دارانہ نظام کو بنیاد بنایااور اس کے متعین کردہ اصولوں کی روشنی میں اپنے مادّی سفر کاآغازکیا ،گلوبلائزیشن کے پالیسی سازوں کے پیش نظریہ بات تھی کہ جہاں اس نظام سے کمپنیوں اور ان کے مالکان کو بلا حدوحساب فائدہ ہو،وہیں ان ممالک کو بھی فائدہ حاصل ہوتارہے ،جن کی طرف یہ کمپنیاں منسوب ہیں ،ان کی منصوبہ بند سازش رہی ہے کہ عالمی اقتصادیات پر چند گنی چنی کمپنیوںکا قبضہ ہو،برآمدات ودرآمدات انھی کی تحویل میںہو ںاورعوام کی کمائی

کابڑاحصہ ان کے مالکان کے بنک اکاؤنٹس میں محفوظ ہوتارہے،جب کہ دوسری طرف یہ کمپنیاںان ممالک کو جہاں یہ تجارت کررہی ہیں ،مختصر سا ٹیکس دے کر دامن جھاڑ لیں اوراپنی حکومتوںکو وافر مقدار میںٹیکس ادا کرکے ،اپنے ملکوںکی معاشی حالت مستحکم رکھیں،ظاہر ہے کہ جب ہر ملک کی چھوٹی بڑی منڈی میں چند ممالک کی کمپنیوں کے سامان فروخت ہوں گے تو ان کمپنیوں کو کبھی کوئی بڑا خسارہ نہیں ہوگا ،نتیجتاًمالکان کی جانب سے اپنی حکومتوں کو ٹیکس بھرتے رہنے کی بنا پر ،ان ممالک کی معاشی حالت ہمیشہ مضبوط رہے گی ،مثال کے طور پر ایک روپے کے سامان پر ٣٠پیسے جہاںاس کوبنانے میںصرف ہوتے ہیں، وہیںصرف١٠پیسے مقامی حکومت کو بہ طو ر ٹیکس دیے جاتے ہیں ، جب کہ ٢٥پیسے مالکان اپنے ملک کو ٹیکس کے طورپر ادا کرتے ہیں اور بقیہ ان مالکان کے پیٹ میں جاتے ہیں۔

جیساکہ ہم نے ذکر کیا کہ ہر منفی تحریک کے پیچھے مادیت پرستی کارفرما ہوتی ہے،اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ عالم گیریت کا ایک اہم اور بڑا عامل یہی مادیت اورمعاشی اعتبار سے مستحکم ہونے کی ہوس ہے، صہیونی پالیسی سازوں نے اس نظام کوجہاں پوری دنیا پر حکومت کرنے کے لیے وضع کیا ہے ،وہیں اس مقصد سے بھی اُس کو وجود بخشا ہے کہ جب پوری دنیا ان کے بنائے ہوئے نا م نہاد قوانین کے تابع ہوگی تو ہر ملک کے ہر فردکی کمائی کا بڑا حصہ ان کی غذا بن سکے گا ،لیکن کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟صہیونی منصوبہ اب تک کس مرحلے تک پہنچاہے ؟اس کا طریقۂ عمل کیا ہے؟اقتصادی عالم گیریت کے اثرات کیا ہیں ؟ان سب سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کوسمجھناضروری ہے ،جو اقتصادی عالم گیریت کی بنیاد ہے۔

Related posts