الیکشن2013ء سے وابستہ توقعات

مولانامحمدزاہداقبال

2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے خاتمے کے بعد از سرنو انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔جوں جوں انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں،سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔تقریبا ہر چھوٹی بڑی جماعت نے اپنے منشور کا اعلان کردیا ہے اور عوام کو متوجہ کرکے ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مختلف جاذب اور پرکشش نعرے بلندکیے جا رہے ہیں۔گذشتہ پانچ سالوں کے دوران وفاق اور صوبوں میں حکومت کرنے والی جماعتیں اپنی کامیاب پالیسیوں اور شاندارکارکردگی کے ریکا رڈ پیش کر کے عوام سے ووٹ دینے اور دوبارہ حکومت بنانے کا موقع فراہم کرنے کی اپیل کر رہی ہیںتا کہ وہ ملک و قوم کے لئے مزید” خدمات” سرانجام دے سکیں۔حزب اختلاف کی جماعتیں سابقہ حکومت کی پالیسیوں اور کا رکردگی کا پول کھولنے میں مصروف ہیںاور وہ عوام کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیںکہ وہ اس مرتبہ ان کو خدمت کرنے کا موقع دیں تا کہ وہ اپنے ”جوہر”دکھا سکیں۔نگران وفاقی و صوبائی حکومتیں صاف،شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد کروانے کے عزم کا اظہار کر چکی ہیںجبکہ الیکشن کمیشن نے بظاہر اس بات کا عزم کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت میں بروقت انتخابات کروائے گااورچوروں،لٹیروں،نادھندہ اور جعلی ڈگری کی بنیاد پرگذشتہ الیکشن میں منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی کو دوبارہ انتخابات میں شریک نہیں ہونے دے گا۔اسی طرح عدالتیں خصوصاًسپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی اس حوالے سے اپنا کردار اداکررہے ہیں۔
نگران حکومت کے عزائم،سپریم کورٹ کے احکامات اور الیکشن کمیشن کی کوششیں اپنی جگہ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح نظام تبدیل ہوجائے گا؟کیا کرپٹ اور بدعنوان عناصر سے اسمبلیاں پاک ہو جائیں گی؟کیا چوروں،لٹیروںاور قومی خزانے پر ہاتھ صاف کر کے اپنی تجوریاں بھرنے والوں کو حکومت سے باہر کیا جائے گا؟کیا قوم اور ملک دشمن عناصر کو منتخب ہونے سے روکاجاسکے گا؟کیا امریکہ ویورپ کے غلام اور ایجنٹ سیاستدانوں سے آزادی مل جائیگی؟کیا عوام کے مسائل حل ہوسکیں گے؟کیا ملکی وسائل کا صحیح استعمال شروع ہوجائیگا؟کیا تیل،بجلی اور گیس کے بحرانوں پر قابو پایا جا سکے گا؟کیا غربت،بیروزگاری اور مہنگائی کو ختم کیا جا سکے گا؟کیا تعلیم عام ہوجائیگی؟کیا لوگوں کو فوری اورسستا انصاف ملنا شروع ہو جائیگا؟کیا ظالم جاگیرداروں،سود خود سرمایہ داروںاور کرپٹ صنعت کاروںکی قوم کا خون چوسنے والی پالیسیوں اوراور منصوبوں کا سدباب ہوجائے گا؟کیا چوری،ڈاکے،قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا خاتمہ اورامن وامان کا قیام ممکن ہو جائیگا؟
معروضی حقائق کو دیکھا جائے اور حالات کا حقیقت پسندی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو مذکورہ تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے اور حالات و واقعات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیںکہ حالیہ الیکشن کے نتیجے میں کچھ بھی بدلنے والا نہیںہے کیونکہ انتخابات میں وہی پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں جو اس سے پہلے کئی مرتبہ حکومت کر چکی ہیںاور ان کے قائدین بھی وہی ہیںجو پہلے کئی مرتبہ بلند آہنگ دعووں کے ساتھ حکومت میں آئے لیکن ان کی حکومتیں کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر ختم ہوگئیں۔اگر کچھ نئی جماعتیں منظر عام پرآئیں ہیں تو ان کے اندر بھی وہی خاندانی اور موروثی اور کئی مرتبہ قوم کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے والے پرانے سیاستدان گھس بیٹھے ہیں اور ان جماعتوں پر حاوی ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کی حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی سیاست100خاندانوں کی میراث بن کر رہ گئی ہے۔(روزنامہ نوئے وقت لاہور29مارچ2013ئ)
یہی 100خاندان ہیںجو مختلف جماعتوں اور پارٹیوں میں بٹے ہوئے ہیں،ہر پارٹی اور جماعت میں انہی کا اثرورسوخ بلکہ اجارہ داری ہے،یہی لوگ پارٹیوں کی قیادت کرتے ہیںاور ان کی پالیسیاں بناتے ہیں۔یہی لوگ انتخابات لڑکر اسمبلیوں میں پہنچتے اور حکومتیں بناتے ہیں۔چونکہ ان کا واحد مقصد ہمہ وقت اقتدار میں رہنا اور قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہے۔اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ حکومت چاہے جس پارٹی کی ہو لیکن یہ شریکِ اقتدار ہوں۔یہی وجہ ہے کہ ایک ہی گھرانے کے کئی افراد مختلف پارٹیوں سے وابستہ ہوتے ہیں،ایک ہی حلقے سے انتخابات میں حصہ لیتے ہیںحتیٰ کہ ایک ہی حلقے میںباپ، بیٹا،چچا، بھتیجا،سسر،داماد، چچازاد،ماموںزاد بھائی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتے ہیں،تا کہ جو بھی جیتے گھر کا فرد ہی جیتے اور نشست گھر اور خاندان سے باہر نہ جائے،چنانچہ عدالتیں یا الیکشن کمیشن جن سابق ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دے چکا ہے۔اس نے اپنی بیوی،بیٹی،بہن،بیٹا ،داماد، بھائی وغیرہ کو امیدوار بنادیاہے۔تمام سیاسی پارٹیاں بھی مضبوط خاندانی اور موروثی سیاستدانوں اور سابق ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دے چکی ہیں۔جب پارٹیاں بھی وہی،لیڈر شپ بھی وہی امیدوار بھی وہی، جاگیردار،سرمایہ دار،صنعت کار،اسی طرح بیوروکریسی،پولیس اور فوج بھی وہی تو کیسے یہ توقع کی جائے کہ حالیہ انتخابات بہت کچھ بدل دیں گے اور ملک وقوم کے حالات میں بہتری لائیں گے؟
یاد رہے محض چہرے بدلنے،منشور میں تبدیلی لانے،وعدوں اور نعروں کے الفاظ اور اسلوب بدلنے سے نہ پہلے کبھی تبدیلی آئی ہے اور نہ اب آسکتی ہے۔پرانی جماعتوں کی آزمائی ہوئی قیادتوں اور باربار قوم کو دھوکہ دینے والے اور ملک کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے والے سیاستدانوں سے اس بات کی امید رکھنا کہ وہ آئندہ قوم کی بھلائی اور خیرخواہی،ترقی و خوشحالی اورعروج پر مبنی پالیسیاں اختیار کریں گے اور ملک کے بگڑے ہوئے حالات کو سنوارنے کی کوشش کریں گے تو یہ ایک خواب ہی ہو سکتا ہے،جس کا حقیقت سے اور جیتی جاگتی زندگی سے کوئی تعلق نہیںہے۔ہماری پوری قوم آج تک ایسے حسین خواب ہی دیکھتے آرہی ہے،کیونکہ جمہوری سیاستدانوں نے انہیں ”عوام کی مرضی،عوام کی حکومت اور عوام کی رائے ”جیسے نعروں کی خواب آور گولیاں کھلائی ہوئی ہیںاور عوام محوِ خواب ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان میں زندگی گزار رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک ملک میں جمہوری نظام موجود ہے اور انتخابات او رووٹ کی سیاست رائج ہے تب تک نہ تو جاگیرداروں، سرمایہ داروں،صنعت کاروں اور دولت مندوں کو حکومت اور اقتدار سے باہر کیا جا سکتا ہے اور نہ ملک کے بگڑے ہوئے حالات کو سنوارا جا سکتا ہے اور نہ ہی قوم کو اغیار کی سیاسی اور اقتصادی غلامی سے نجات دلوائی جا سکتی ہے۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اس بات کا عزم کر کے ببانگ دہل یہ اعلان کر دے کہ ہمیں کافروں اور مشرکوں کا دیا ہواجمہوری نظام قبول نہیں ہے،ہمیں صرف اورصرف اسلامی نظام قبول ہے،اور چونکہ یہ ملک جمہوری نظام نہیں بلکہ اسلامی نظام کے قیام کے لئے حاصل کیاگیا تھا اس لئے ہم اسلامی نظام نافذ کر کے رہیں گے۔اگر پوری قوم موجودہ جمہوری سیاست سے برات کا اعلان کرکے اسلامی نظام خلافت کے قیام کے لئے اسلامی انقلابی جدوجہد کے لئے کمر بستہ ہو جائے تو وہ دن دور نہ ہو گا جب اس ملک میں اسلامی نظام قائم ہوجائے گا۔

Related posts