امت مسلمہ کی مظلومیت کا خاتمہ کیسے ہو؟

اداریہ

2017 نوائے امت ۔ اکتوبر

فی زمانہ اہلِ اسلام جن مصائب و تکالیف سے دو چار ہیں، یقینا اُن کی ایک وجہ قربِ قیامت بھی ہے۔ البتہ دنیا کے دارالاسباب ہونے کے سبب اس امر سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب کردار کی اُس ”مجرمانہ ضعیفی” کی بنیاد پر ہے، جس کا لازمی نتیجہ’ ‘مرگِ مفاجات” کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
اللہ تعالی کی ذات پر یقینِ کامل کی کمی،اپنے ہر طرح کے مادی و روحانی مسئلے کے حل کے لیے اللہ وحدہ لاشریک کی طرف توجہ کی کمی، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالی کے آخری پیغمبر ہونے کی بنیاد پر اُن ہی کی تابع داری میں ہماری دنیا و آخرت کی راحتیں پوشید ہ ہیں، اس حوالے سے فکری و عملی کمزوری، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطافرمودہ منہجِ سیاست و اقتصاد اور معاشرت و جہاد سے کنارہ کشی۔
اگر عالم اسلام اپنے عقائد، افکار، اعمال، اخلاق، معاشرت، تجارت اور جہاد کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ نہ کرتا تو آج کے ناگفتہ بہ حالات کے تاریک دن دیکھنے کو نہ ملتے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو جن عظیم مسائل کا سامنا ہے، اُن میں سے کچھ اپنی اہمیت اور اثرات و نتائج کے لحاظ سے مکمل اور دیانت دارانہ توجہ کے طالب ہیں۔
پہلا مسئلہ نظامِ اسلام کے نفاذ کا ہے۔ جب تک کم از کم اسلامی خطوں میں اسلام اپنے تمام تر احکامات، حدود و تعزیرات، فرائض و واجبات اور وقار و غلبے کے ساتھ نافذ نہیں ہو جاتا، تب تک ہم جس سربلندی، عزت و شوکت اور آسانیوں کی راہ تک رہے ہیں، اُنہیں نہیں پا سکیں گے۔
دوسرا مسئلہ سیاسی طور پر عدمِ استحکام کا ہے۔ یعنی مسلمان قیادت و سیادت کے معاملے میں ایک طرح سے یتیمی کا شکار ہیں۔ اسلام کے نظامِ حکومت ‘خلافت’ کے نہ ہونے کی وجہ سے عالم اسلام جس بے چارگی کی عملی تصویر بنا ہو اہے، وہ انتہائی دُکھ انگیز ہے۔ ایسی بے بسی پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ عالم کفر مسلمانوں کی سیاسی یتیمی کا فائدہ اُٹھا کر اِنہیں ہر اُس طرح کی اذیت دے رہا ہے، جسے وہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہتا۔
تیسرا مسئلہ جہاد ہے۔ جہاد سے متعلق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے:
جب تم تجارتِ عینہ (سودی کاروبار) کرنے لگو گے اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاؤ گے اور کاشت کاری کوہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالی تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تب ہی چھٹکارا مل سکتا ہے، جب تم اپنے دین کی طرف (مکمل طور پر) لوٹ آؤ گے۔
علمائے حدیث فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں حلال تجارت اور کھیتی باڑی کو بُرا نہیں کہا گیا، بلکہ اس فرمانِ مصطفوی علیہ الصلوٰة و السلام کا مقصد یہ ہے کہ تجارت و کھیتی باڑی میں اتنی زیادہ مشغولیت اختیار کر لینا کہ یہی کام زندگی کا سب سے اہم مقصد بن کر رہ جائے اور دنیا کو آخرت اور اللہ تعالی کی رضا پر ترجیح دی جانے لگے، حتی کہ جہاد تک کو چھوڑ دیا جائے تو یہ معاملہ قبیح اور بُرا ہے۔ یہی وہ قباحت اور بُرائی ہے، جو عالم اسلام کو اُس ذلت و مسکنت سے دوچار کرتی ہے، جس کا آج ہر کوئی نظارہ کر رہا ہے۔
جہاد حالات کے سُدھار کے لیے ایک ایسا علاج ہے، اگر اِس طریقۂ علاج کو اس کے تمام تقاضوں کے ساتھ اختیار کیا جائے تو مسائل ازخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔جب ‘جہادی آپریشن’ شروع ہوتے ہیں تو اُس کے نتیجے میں کیا کیا معجزے رونما ہوتے ہیں، اُن کی عملی تصویر دیکھنے کے لیے فلسفیانہ دلائل کی ضرورت نہیں، بلکہ مسلمانوں کی روشن اور شان دار تاریخ کا مطالعہ کافی ہے۔ یاد رکھیں! آج بھی اسلامی نظامِ خلافت کے قیام اور جہاد کے ذریعے ہی بدھ مت کے سرکش پیروکاروں کو برمی مسلمانوں کی نسل کُشی کے جرم کی سزا دے کر نہ صرف برما کے مظلوم مسلمانوں کی مظلومیت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے، بلکہ انہیں ظالم بدھ حکمرانوں سے مستقل آزادی دلوائی جا سکتی ہے۔

Related posts