انتخا با ت اور ووٹ کی سیا ست

مولا نا محمد زاہداقبا ل

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے احکام،قوانین اور نظام کو دنیا میں نافذکرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہر رسول علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کے عطاء کردہ نظام کودنیا میں نافذ کیا۔ خاتم الانبیاحضرت محمدۖنے اپنی مبارک زندگی میں دعوت و جہاد کے ذریعے اسلام کو پھیلایا اور پورے جزیرئہ عرب میں اسلامی نظام حیات کو نافذ کیا۔پھر آپ کے خلفاء نے دنیا کے تمام بڑے مذاہب، ادیان اور نظامہائے حیات کو شکست دیکر اسلام کے نظام خلافت کو غالب کیا۔اسلامی نظام خلامت ١٣صدی ہجری تک دنیا کے مختلف خطوں میں نافذ رہاپھر بیسویں صدی عیسوی کی دوسری دہائی میں جنگ عظیم اول کے بعد خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا۔اس کے بعد سے آج تک مسلمان ہر پہلو سے زوال کا شکار ہیں اور معاشرتی،عدالتی ،اقتصادی،سیاسی اور عسکری طور پر کفریہ طاقتوں اور باطل نظاموں کا راج ہے۔اسلام کا دیا ہوا نظام خلافت دنیا کے کسی بھی ملک میں نافذ نہیں ہے۔یہاں تک کہ نام نہاد مسلم ممالک میں آمریت،بادشاہت اور جمہوریت نافذ ہے۔ جمہوریت کافروں اور مشرکوں کا بنایا ہوا اور رواج دیا ہوا کافرانہ اور مشرکا نہ نظام ہے جو کہ سراسرباطل اور فاسد ہے۔
جمہوریت کی تعریف یہ ہے۔(government of the people by the people for the people)یعنی عوام کی حکومت ،عوام کے ذریعے،عوام کے لئے
١: اسلام میں حکمرانی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ان الحکم الا للہ خلیفہ اور امیرالمئومنین اللہ کا نائب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جمہوریت میں حکمرانی کا حق عوام کو اور ان کے منتخب کردہ نمایندوں کو حاصل ہوتا ہے۔جو کہ کھلم کھلا شرک ہے۔
٢: اسلام میں قانون سازی(قانون بنانے)کا حق صرف اللہ کو حاصل ہوتا ہے۔الا لہ الخلق والامرحتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ورسول کو بھی قانون سازی کا حق نہیں دیا۔البتہ اس کی تشریح ،توضیح،تفہیم اور عملی تطبیق کا حق دیا ہے۔اس کے برعکس جمہوریت میں عوام اور ان کے منتخب کردہ نمایندوں کو صحیح اور غلط ،جائز ونا جائز اور حلال و حرام پرمبنی ہر قسم کے قوانین بنانے کا حق حاصل ہے جو کہ سراسر شرک ہے۔
٣: اسلام میں صحیح وغلط،سچ وجھوٹ،جائزناجائز اور حق وباطل کا معیار دلیل یعنی قرآن وسنت کو قرار دیا گیا ہے۔چاہے اس کے ماننے والے اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں۔اس کے برعکس جمہوریت میں عوام کی اکثریت کی رائے کو معیار حق تسلیم کیا گیا ہے۔یعنی عوام اور ان کے منتخب کردہ نمایندوں کی اکثریت جس بات کو صحیح،درست اور حق قرار دے وہ صحیح ،درست اور حق ہے ۔چاہے حقیقت میں وہ غلط ،باطل اورشرعی طور پر ناجائز اور حرام ہی کیوں نہ ہو۔
٤: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں عوام کی اکثریت کو بے عقل،بے شعور اور جاہل قرار دیتے ہیں۔جبکہ جمہوریت میں عوام کی اکثریت اور ان کے منتخب کردہ نمایندوں کو حکمرانی اور قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ جو کہ نہ صرف خلافِ اسلام بلکہ خلاف عقل بھی ہے۔کیوںکہ عوام کی اکثرت کو حکمرانی اور قانون سازی کا حق دینے کا مطلب تو جاہلوں، بیوقوفوں،احمقوں،پاگلوںاور علم وشعور سے عاری لوگوں کو حکومت و قانون سازی کا حق دینا ہے چنانچہ آج جاہل اور احمق عوام کے منتخب کردہ جاہل اور احمق حکمرانوں کی جمہوری حکومت کا تماشہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔
٥: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں عالم و جاہل کے درمیان فرق بیا ن کرتے ہیںاور انہیں برابر قرارانہیں دیتے۔جب کہ جمہوریت میںعالم جاہل،عاقل وپاگل اور احمق ودانشور کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ عالم،پروفیسر،ڈاکٹر،انجینئر،جج،وکیل،صحافی اور ان پڑھ جاہل ،علم و شعور سے تہی دامن،ملک ملت کے مسائل و وسائل سے نا واقف اور ریاست ،حکومت اور سیاست کے الفاظ سمجھنے سے بھی قاصر غرض ہر آدمی کے ووٹ کی قیمت برابر ہے۔ حالانکہ ہر آدمی اس کھلی ہوئی حقیقت کو جانتا ہے کہ علم وشعور اور عقل وفہم کے لحاظ تمام انسان برابر نہیں ہوتے۔
٦: الیکشن،انتخابات اور ووٹ جمہوری نظام کی بنیاد ہے اور انتخابات میں شرکت کرنا اور ووٹ لینااور دینا دراصل جمہوری نظام کی تائید و تصدیق کرنا اور اسے مبنی برحق قرار دینا ہے۔حالانکہ جمہوریت کافرانہ و مشرکانہ نظام ہے۔لہٰذا ووٹ لینا اور دینا کافرانہ و مشرکانہ نظام کو درست قرار دینا ہے اور اکافرانہ و مشرکانہ نظام کو درست قرار دینا ایمان اور اسلام کے منافی ہے۔
٧: انتخابات اور ووٹ کے ذریعے نہ تو آج تک ملک کو ترقی و خوشحالی حاصل ہوئی ہے اور نہ اسلامی نظام نافذ ہوا ہے۔بلکہ انتخابات اور ووٹ کے ذریعے آنے والی جمہوری حکومتوں نے جہاں ایک طرف ملک میں کرپشن،بدعنوانی،جہالت،دھوکہ، فراڈاور قانون شکنی کو فروغ دیا ہے،وہاں الحاد وبے دینی ،فحاشی و عریانی اور بے راہ روی کا سیلاب برپا کر دیا ہے۔
٨: مذہبی سیاسی جماعتیں ٦٥ سال سے انتخابی اور جمہوری سیاست کا حصہ ہیںاور اسلام کے نام پر عوام سے ووٹ حاصل کیاجاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی ٦٥سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آج تک اسلامی نظام نافذنہیں ہوا۔اکابر علمائے کرام نے انتخابی سیاست میں مجبوری کی حالت میں حصہ لیااور وہ جمہوریت کو باطل و کفریہ نظام یقین کرتے ہوئے انتخابات کو اسلامی نظام کے نفاذ کا محض ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔لیکن تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ انتخابات اورووٹ کے ذریعے نہ اسلامی نظام آیا ہے اور نہ آئندہ کبھی آسکتا ہے۔
٩: باقی رہا اسمبلیوں میں اسلام کا دفاع اور خلاف اسلام قانون سازی کی روک تھام تو مذہبی سیاسی جماعتیں اس مقصد میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔تحفظ حقوق نسواں بل کا پاس ہو کر قانون بن جانا اور حسبہ بل کا منظور نہ ہونا اس کی واضح دلیل ہے۔
١٠: مذکورہ بالا تمام امور کے پیش نظر اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ باطل جمہوری نظام کے خاتمے اور اسلامی نظام خلافت کے نفاذ کے لئے انتخابات اورووٹ کی سیاست کو چھوڑ کر نبوی انقلابی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
آئیے !اسلامی نظام خلافت کے قیام کے لئے نبوی طریقہ کار پر عمل پیرا”تحریک نفاذ اسلام”کا حصہ بنیںاور اس کا دست بازو بن کر نبوی انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔اللہ
ہمارا حامی وناصر ہو۔

Related posts