تئیس 23 مارچ اوراسلامی نظام

پاکستان کومعرض وجود میں آئے 69سال گزرنے کوآئے اور2016ء کا23مارچ بھی آگیا ہے ۔ جس مقصد کے لیے علیحدہ وطن حاصل کیاگیا اورجس وعدہ پرمسلمانان برصغیر کوتحریک پاکستان کی اعانت اوراس میں شرکت کی اپیل کی گئی ، آج تک وہ مقصد حاصل ہوااورنہ وہ وعدہ وفاہوا۔ جس اسلامی نظام کے لیے جانیں قربان ہوئیں ، عزتیں پامال ہوئیں ،گھراجڑے، خاندان ایک دوسرے سے بچھڑے ، زمینیں اورترک ہوئیں ، لاکھوں افراد نے ہجرت کی اوردوران ہجرت جس کرب واذیت سے دوچار ہوئے قلم اسے بیان کرنے سے قاصرہے ۔ لٹے پٹے اوربے سروسامان وطن عزیز کی سرحد میں داخل ہوئے تو”مقدس سرزمین ”کواس یقین کے ساتھ سجدے کیے کہ یہاں کی ہرچیز پاک ہوگی اوروہ ہندومعاشرے سے الگ پاکیزہ زندگی گزاریں گے ، کیونکہ وہ تحریک پاکستان کے دوران زعماء مسلم لیگ کی تقاریر میں یہ سن چکے تھے کہ آپ کے لیے ایسا علیحدہ خطہ ہوگاجہاں اسلامی معاشرہ ہوگااورلوگ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں اورآخرت سنواریں گے ۔


23مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس میں ایک قرارداد پاس ہوئی جس میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کامطالبہ کیاگیا۔ اس قرارداد نے تحریک کی شکل اختیار کرلی ۔ پھرجب اس میں ”پاکستان کامطلب کیا؟لاالہ الااللہ ”کانعرہ شامل ہواتومذہب کے نام پرمرمٹنے والے مسلمانان برصغیر نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ اس تحریک میں شمولیت اختیار کرناشروع کی ۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پربرطانوی سامراج کے پائوں اکھڑے اورادھر سے آزادی کی تحریک میں بھی شدت آگئی تواس نے سونے کی چڑیا کولوٹنے اوربے شمار مجاہدین آزادی کوموت کے گھاٹ اتارنے کے بعد”باعزت”طریقے سے واپسی کاپروگرام بنایا توتقسیم برصغیر کوقبول کرلیا اوراسی میں اس وک اپنی بھلائی نظرآئی ۔ کیونکہ وہ منقسم ہندوستان اورسابق غلاموں کی دوریاستوں سے زیادہ سے زیادہ اپنے مفادات کے حصول اورتحفظ کوممکن بناسکتاتھا۔ چنانچہ تقسیم کے بعد سے آج تک کے حالات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔

تحریک پاکستان کے دوران سادہ لوح مسلم عوام کویہی باور کرایاجاتارہاکہ قیام پاکستان کے فورابعداسلامی نظام کانفاذ کردیاجائے گالیکن اگست 1947ء کے بعد نظام اسلام کے نفاذ کے بارے میں تاخیری حربے شروع ہوگئے ۔ حضرت العلامہ مولاناظفراحمد عثمانی(جوکہ تحریک پاکستان میںپیش پیش تھے )نے مارچ 1948ء کوڈھاکہ (مشرقی پاکستان )میں بانی پاکستان سے ملاقات کرکے انہیں اسلامی نظام کے نفاذ کاوعدہ یاد دلایاتوانہوں نے جواب میں کہا”باقی رہانظام اسلام کامسئلہ ، توآپ مطمئن رہیں ۔ ذرامجھے مہاجرین کی طرف سے اطمینان ہوجائے اوراسمبلی کوبھی اطمینان نصیب ہوجائے توانشاء اللہ بہت جلد دستور پاکستان اصول اسلام کے موافق مرتب ہوجائے گا،،

(تعمیرپاکستان اورعلماء ربانی ص ١٤٤)

اسلام مخالف قوتیں شروع دن سے نظام اسلام کی مخالفت کررہی تھیں اوروہ پاکستان کوایک سیکولر سٹیٹ بنانے کے لیے کوشاں تھیں ، اس کے باوجود علماء کرام کی جدوجہد سے قرارداد مقاصد پاس ہوگئی ۔ لیکن افسوس اس قرارداد کی حیثیت بھی محض ایک قرارداد کی ہے ۔اس کے تقاضوں کوآج تک پورانہیں کیاگیا، اوراسلامی نظام کے نفاذ کی طرف پیش رفت نہیں ہوسکی ہے کئی حکومتیں بدلیں ، کئی حکمران آئے اورگئے ، بورڈ بنائے گئے ، کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اوراسلامی نظریات کے لیے کونسلیں قائم کی گئیں ، اس کے باوجود اسلامی نظام کی طرف ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایاگیا۔ہرآنے والے حکمران نے اسلام کانعرہ لگایا اوراسلامی قوانین کے نفاذ کے وعدے اوردعوے کیے مگعرکسی نے اس کوعملی جامہ نہ پہنایا اورنہ وہ ایساکرناچاہتے تھے بلکہ انہوں نے اسلام کانام اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے کیا۔ حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانویلکھتے ہیں ”پاکستان اسلام کے نام پرحاصل کیاگیاتھامگریہاںجتنے حکمران آئے ، انہوں نے لفظی طورپرتوخوب اسلام کے بلند بانگ دعوے کیے مگرعملی طورپراسلام کی تکذیب کی ، لادینیت کوملک میںپھیلایا، اسلامی شعائر کوپامال کیا،،(حسن یوسف جلد اول ص ٩)

ہمارے حصے میں نااہل خودغرض، دولت پرست، اغیارکی غلامی کرنے والے اوردین اسلام سے غافل ارباب اقتدار آئے جنہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کی بجائے کفریہ نظاموں کوترجیح دی اورانگریز کے کالے قانون کوآزادی کے بعد بھی برقرار رکھا، مسلم معاشرہ کی تشکیل تودرکنار مغرب کی مادر پدر آزاد تہذیب کوپروان چڑھایااورقوم کودینی تعلیمات سے برگشتہ کرنے کے اقدامات کیے ۔ عوامی مسائل حل کرنے اورفلاحی مملکت کے قیام کوممکن بنانے کی بجائے نئے سے نئے مسائل پیداکیے ۔ملک اورعوام کوبیرونی قرضوں میں جکڑااورفلاحی منصوبوں کے فنڈز سے ہاتھ صاف کیے ۔ چنانچہ ڈاکٹرحقی حق لکھتے ہیں ،،ہمارامقتدرطبقہ خواہ کوئی سابھی حالیہ یاگزشتہ ، ہمارے مسائل کی جڑ اورمعاشرے کااصل مسئلہ یہ کوڑھ زدہ اورکوڑھ فروغ قیادت ہے ،، (کوڑھ کی کاشت ص ٩٩)

تحریک پاکستان کے دوران کیے گئے وعدوں سے انحراف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ”اخص الخواص ”جنہوں نے قیام پاکستان کے بعداقتدار سنبھالنا تھااورانہوں نے سنبھالابھی ، ان کامقصد اسلامی نظام کانفاذ ہرگز نہ تھابلکہ انہوں نے تحریک کی کامیابی کے لیے اسلام کے نام کواستعمال کیا۔ قیام پاکستان کے بائیس سال بعد حضرت مولانا محمدیوسف بنوریکاکیے جانے والاتبصرہ ملاحظہ ہو۔

”افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ پاکستان کی بائیس سالہ سرگزشت نے ثابت کردیاہے کہ یہ تمام دعوے جھوٹے تھے ، تمام نعرے سیاسی ڈھونگ تھے ، اسلام کی شیدائی سادہ لوح قوم کویہ سبز باغ دکھاکرچند خود غرض افراد اورجماعتوں نے عوام کواپنا آلہ کاربنایاتھا۔ نہ اسلام کوسربلند کرنے کی نیت تھی نہ اسلامی قوانین نافذ کرنے کاارادہ تھابلکہ مٹھی بھردولت مندوں اوران کے سرپرست حکمرانوں نے بے خوف وخطر اوربے شرکت غیرے معاشی لوٹ کھسوٹ اوراستحصال کی غرض سے یہ ملک حاصل کیاتھا۔ اسی لیے اس بائیس سال کے عرصے میں اس کے سوااورکچھ نہیں ہوا،،(بصائر وعبرجلد دوم ص١٧٤)

حضرت بنوریکامندرجہ بالاجاندار تبصرہ آج کے حالات پرپوراپورامنطبق ہوتاہے ۔ آج 58سال گزرنے کے بعد بھی حالات تبدیل نہیں ہوئے بلکہ روز بروز بگڑتے جارہے اورہمارے موجودہ حکمران اپنے پیشرئوں کے نقش قدم پرچلتے اوردوہاتھ آگے بڑھتے ہوئے وطن عزیز کوبزور سیکولرسٹیٹ بنانے پرتلے ہوئے ہیں ۔ ہروہ ذریعہ اورطریقہ اختیار کیاجارہاہے جس سے پاکستان کے اسلامی تشخص کوختم کیاجاسکے اوراعتدال پسند روشن خیال ، معاشرہ تشکیل پاسکے ۔ نہ صرف پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پرشب خون ماراجارہاہے بلکہ پاکستان کی بنیاد”دوقومی نظریہ”کوبھی فرسودہ قراردیاجارہاہے ۔

یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ کیاہم نے 68سال گزرنے کے باوجود اسلامی نظام کے نافذ نہ ہونے کے اسباب ووجوہ پرغورفکرکیاہے ؟ان سے ہمیں کیانتیجہ حاصل ہوا؟پھران اسباب کودورکرنے اوراسلامی نظام کی منزل تک پہنچنے کے لیے ہم نے کیالائحہ عمل مرتب کیااوراس کوعملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نے کیاتگ ودوکی ہے ؟اس کے علاوہ اس بات پر ٹھنڈے دل ودماغ اورسنجیدگی سے غورکرناہوگا کہ دینی سیاسی جماعتوں کوجمہوری وانتخابی سیاست میںشرکت سے اسلامی نظام کے نفاذ میںکس قدر کامیابی حاصل ہوئی اورکیاآئندہ اس راستے سے اسلامی نظام کاخواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا؟اگران باتوں پرغوروفکر کیاجائے توامید ہے کہ منزل تک پہنچنے کے لیے کوئی صحیح راہ عمل ضرورمل جائے گی۔

Related posts