تاریخ،اسلامی نظامِ تعلیم و تربیت

ڈاکٹر احمدشلبی

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم کی نشرواشاعت میں مساوات کا بڑا خیال رکھا اور افلاس کسی وقت بھی لائق طلباء کے راستے میں حائل نہیں ہوا۔ مدارس کے قیام سے قبل ہر مسلمان کو آزادی تھی کہ وہ ان لیکچروں میں شریک ہو، جو مساجد میں دیے جاتے تھے۔ ہونہار طلباء کی حصول علم میں ہر طرح ہمت افزائی اور امداد کی جاتی تھی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ‘جو غریب و امیر طلباء تمہارے پاس بغرض تعلیم آئیں، ان سے برابر کا سلوک کرو۔ اور امام غزالی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ فرماتے تھے:
”نااہل افراد کو تعلیم دینے کی کوشش کرنا ایسا ہی غیرمنصفانہ فعل ہے، جیسا کہ قابل طلباء کو تعلیم سے روکنا۔”
اس اصول کے ماتحت مساجد میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ حلقہ ہائے درس قائم تھے اور اساتذہ غیرجانب داری کے ساتھ سب طلباء پر یکساں توجہ دیا کرتے تھے۔ لکھا ہے کہ معزز افسران اور اونچے طبقے کے لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر محمد بن احمد کیسان (٢٩٩،م) کے درس میں آیا کرتے تھے، لیکن یہ لوگ غریب طلباء کے ساتھ ہی جماعت میں بیٹھتے تھے اور اب کیسان کی توجہ سب کی طرف یکساں رہتی تھی۔ اور لباسِ فاخرہ میں ملبوس طلباء اور پیوند لگے کپڑوں میں طلباء سب ان کی نظر میں یکساں تھے۔
مزید برآں اساتذہ نہ صرف اسی بات پر قانع تھے کہ مفت تعلیم دیں، بلکہ اکثر اوقات وہ اپنے شاگردوں کی مالی امداد بھی کیا کرتے تھے۔ ابو یوسف کے والد کارخانے میں کپڑے کو صاف کرنے اور دبیز بنانے کا کام کرتے تھے۔ یہی ابویوسف بعد میں ہارون الرشید کے ندیم اور اسلامی حکومت کے قاضی القضاة ہوئے۔ اپنے استادامام ابوحنیفہ کے ممنونِ احسان تھے۔ وہ انہیں پڑھاتے بھی تھے اور ان کی مالی امداد بھی کرتے تھے۔ ان کو اپنی روزی کے لیے محنت مزدوری کرنی پڑتی تھی، لیکن امام ابوحنیفہ کے درس میں شریک ہونے کی تمنا بھی تھی۔ اور روزانہ شریک درس ہونا چاہتے تھے، لیکن ان کی ماں محنت مزدوری کرنے پر مجبور کرتی تھیں۔ اس وجہ سے بعض اسباق میں مسلسل کئی کئی دن تک حاضری نہ ہو سکتی تھی۔ ایک مرتبہ جب غیرحاضری کے بعد وہ درس میں آئے تو امام صاحب کے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ بوجہ مالی مشکلات کے غیرحاضری ہوتی ہے۔ امام صاحب نے اسی وقت انہیں ایک سو درہم عطا کیے اور اس وقت سے برابر وہ انہیں روپیہ پیسہ دیتے رہے اور ابویوسف نے کپڑے کی صفائی اور دبازت کا کام ترک کر دیا۔
غریب طبقے میں سے بے شمار ہونہار لڑکوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل گیا، جنہوں نے بعد میں بہت شہرت پائی۔ اور خوش حالی کی زندگی بسر کی۔ اس قسم کے حضرات میں سے ہم صرف معدودے چند کی مثالیں بیان کرتے ہیں:
ابوتمام الطائی نامور شاعر مسجد عمر میں ایک غریب اور معمولی سقہ تھا۔الجاحظ روئی اور مچھلی کا بیوپار کرتا تھا، لیکن ایک بہت بڑا عالم ہوا۔ امام الشافعی یتیم تھے اور ان کی ماں مفلسی کے باعث اپنے بچے کے لیے قلم و کاغذ تک نہ خرید سکتی تھیں۔
جب مدارس قائم کیے گئے تو نظام الملک نے جو مدرسوں کے سب سے پہلے بانی تھے، یہ اعلان کر دیا کہ تعلیم بالکل مفت ہوگی اور طلباء کو وظائف بھی دیے جائیں گے۔امام غزالی اور ان کے بھائی احمد کو ان کے باپ کی وصیت کے مطابق کسی صوفی کی نگرانی میں دے دیا گیا تھا۔ ان صوفی صاحب کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ ان بچوں کی ضروریات پوری کر سکتے۔ چناں چہ انہوں نے دونوں کو ایک ایسے مدرسے میں داخل ہونے کا مشورہ دیا کہ جہاں ان کی تعلیم اور دیگر اخراجات کا انتظام ہوگا۔ انہوں نے اس مشورے پر عمل کیا اور اس طرح تعلیم حصل کر کے شہرت و نیک نامی حاصل کی۔نورالدین نے بھی نظام الملک کے نقشِ قدم پر چل کر جو مدارس قائم کیے، ان میں تعلیم مفت تھی اور طلباء کی مالی امداد بھی کی جاتی تھی۔
مصر کے متعلق لین پول نے جامعہ ازہر کا حال لکھا ہے:
”یہاں آج بھی بے شمار طلباء اسلامی دنیا کے اطراف سے آ کر جمع ہوتے ہیں۔ گھانا سے لے کر ملایا کی ریاستوں تک سے طلباء آتے ہیں اور ہر ملک کے طلبا کے لیے مخصوص رواق ہیں۔ جامعہ ازہر میں یہ سب طلباء نصاب تعلیم کے مختلف شعبوں میں فاضل شیوخ سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ طلباء کے لیے یہ رعایت ہے کہ کوئی فیس نہیں لی جاتی، بلکہ ان کے قیام و طعام کا انتظام بھی اوقاف سے ہوتا ہے۔ مفت تعلیم کی یہ نہایت قابلِ قدر مثال ہے۔ جس سے غریب سے غریب بھی مستفیض ہوتے ہیں۔ خواہ کسی قوم سے ان کا تعلق ہو۔ کوئی زبان ہو اورر کسی طبقے سے تعلق ہو۔”
عہدِ ایوبی میں ہر طالب علم کے قیام و طعام کا انتظام مفت ہوتا تھا۔ اور جس مضمون سے اسے دل چسپی ہو، اسی حلقۂ درس میں اس کاداخلہ ہو جاتا تھا۔ صلاح الدین نے ‘المدرسة السیوفیہ’ میں مجدالدین الجیبی کا تقرر کیا۔ وہ مدرس بھی تھے اور وقف کا انتظام بھی کرتے تھے۔ وقف کی آمدنی سے اپنی تنخواہ لینے کے بعد تمام بقیہ رقم طلباء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ تقسیم کا کام ان کی مرضی پر چھوڑدیا گیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ علی بن رضوان (متوفی ٤٦٠) جو ایک طبیب تھا اور نجم الدین جفوشانی (متوفی ٥٨٧) جو ایک مشہور قانون دان تھا، ایسی مثالیں ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غریب طلباء کس طرح مستفیض ہوتے تھے اور ترقی کر جاتے تھے۔ برخلاف اس کے جماعت امراء میں بمشکل ایسی مثالیں ملتی ہیں، جنہوں نے علم و فضل اور ناموری میں وہ بات پیدا کی ہو، جو غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے فضلائے متبحر کو حاصل ہوئی۔
اعلی تعلیم کے علاوہ جو مساجد و مدارس کے حلقہ ہائے درس میں دی جاتی تھی، ابتدائی تعلیم بھی مفت تھی۔ تحریری ثبوت موجود ہے کہ بے شمار مکاتب غریب اور یتیم بچوں کے لیے قائم کر دیے گئے تھے۔ تاکہ اس طبقے کے ہونہار بچوں کو شروع ہی سے تعلیم کے مواقع حاصل ہو سکیں۔ ہم ایسے مکاتب کی چند مثالیں درج کرتے ہیں:
”سب سے پہلے میسوپوٹیمیا (عراق) میں یحییٰ بن خالد نے ایک مکتب یتیموں کے لیے جاری کیا۔ بعدازاں شمس الدین نظام الملک نے ایک درس گاہ نادار اور یتیم بچوں کے لیے قائم کی۔ اور اس کے لیے بہت بڑی جائیداد وقف کی۔ نورالدین کے عہد میں بہت سے مدارس نادار طلباء کے لیے ملکِ شام میں قائم کیے گئے تھے، جو اوقاف کی آمدنی سے چلتے تھے۔ مصروشام میں صلاح الدین نے اسی قسم کی متعدد درس گاہیں قائم کی تھیں۔ اندلس میں الحکم ثانی نے بھی ایسے ستائیس مدارس قائم کیے تھے، جہاں نادار بچے مفت تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان میں بیشتر اقامتی درس گاہیں تھیں، جہاں طلباء کے لیے کتابیں کھانا، کپڑا سب کچھ مفت تھا۔”

2017 نوائے امت ۔ اکتوبر

Related posts