تجدد و مغرب زدگی کے اسباب اور ان کا علاج!

مولاناسیدابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ

اہل نظر جانتے ہیں کہ انسانی وجود کی طرح نظام تعلیم بھی اپنی ایک روح اور ضمیر رکھتا ہے۔ یہ روح اور ضمیر دراصل اس کے واضعین و مرتبین کے عقائد و نفسیات کے متعلق ان کے نقطۂ نظر ، مطالعۂ کائنات و ‘علم اسمائ’ کی اساس و مقصد اور ان کے اخلاق کا عکس اور پرتو ہوتا ہے۔ جو اس نظام کو ایک مستقل شخصیت ایک مستقل روح اور ضمیر عطا کرتا ہے۔ یہ روح اس کے پورے ڈھانچے، ادب و فلسفے، تاریخ، فنونِ لطیفہ، علوم عمرانیہ، حتی کہ معاشیات و سیاسیات میں اس طرح سرایت کر جاتی ہے کہ اس کو اس سے مجرد کرنا بڑا کٹھن کام ہے۔ یہ بہت بڑے صاحبِ اجتہاد اور اعلی تنقیدی صلاحیت رکھے والے کا کام ہے کہ اس کے مفید اجزاء کو مضر اجزاء سے الگ کر کے ‘خذ ما صفا و دع ما کدر’ پر عمل کرے۔ اور اصل و زوائد میں فرق کر کے اس کا جوہر اور س اکی روح لے لے۔ طبعی و تجربی (سائنٹفک) علوم میں یہ بہت زیادہ مشکل نہیں، لیکن ادب و فلسفہ اور علوم عمرانیہ میں یہ کام بڑا مشکل اور نازک ہے۔ خاص طور پر جب کوئی ایسی قوم جو متعین و محکم عقائد، مستقل فلسفۂ حیات اور مسلکِ زندگی، اپنی ایک مستقل تاریخ (جو محض ماضی کا ایک ملبہ (Debris) نہیں، بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے نشانِ راہ کی حیثیت) رکھتی ہے۔ اور جس کے لیے پیغمبر کی شخصیت اور اس کا زمانہ آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب کسی ایسی قوم یا دور کا نظام تعلیم قبول کرتی ہے، جو اساس و بنیاد اور مثال و معیار میں اس سے مختلف، بلکہ اس کی ضد واقع ہوئی ہے تو قدم قدم پر تصادم ہوتا ہے۔ اور ایک کی تعمیر دوسرے کی تخریب اور ایک کی تصدیق دوسرے کی نفی و تردید، ایک کا احترام دوسرے کی تحقیر کے بغیر ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں پہلے ذہنی کشمکش، پھر عقائد میں تزلزل، پھر اپنے دین سے انحراف اور قدیم افکار و اقدار کے بجائے جدید افکار و اقدار کا آنا ضروری ہے۔ یہ سب ایک قدرتی امر ہے۔ اور بالکل قدرتی امور کی طرح اس کا پیش آنا ضروری ہے۔ کسی قسم کی خوش بینی، ضمیر کی خلش، سرپرستوں کی خواہش، خارجی و جزئی انتظامات اس امر کے وقع میں حارج نہیں ہو سکتے۔ اس کی رفتار کو سُست اور اس کے وقوع کو مؤخر کر سکتے ہیں۔ ملتوی نہیں کر سکتے۔ درخت اگر اپنے طبعی نظام سے نشو و نما پائے تو وہ اپنے برگ و بار ضرور پیدا کرے گا اور وقت پر پھل لائے گا۔ انسانوں کو اس کا اختیار ہے کہ درخت نہ لگائیں۔ یا اس کو پانی نہ دیں۔ یا جب تیار ہو تو اس کی ہستی کو ختم کر دیں۔ مگر اس کا اختیار نہیں کہ ایک توانا و تندرست، سرسبز و شاداب درخت کو اپنے نوعی وجود و شخصیت کے اظہار اور وقت پر پھل پھول لانے سے روک سکیں۔یہی معاملہ مغربی نظامِ تعلیم کا ہے۔ وہ اپنی ایک روح اور اپنا ایک منفرد ضمیر رکھتا ہے۔ جو اپنے مصنفین و مرتبین کے عقیدہ و ذہنیت کا عکس، ہزاروں سال کے طبعی ارتقا کا نتیجہ، اہل مغرب کے مسلمہ افکار و اقدار کا مجموعہ اور ان کی تعبیر ہے۔ یہ نظامِ تعلیم جب کسی اسلامی ملک یا مسلمان سوسائٹی میں نافذ کیا جائے گا تو اس سے ابتدائً ذہنی کشمکش، پھر اعتقادی تزلزل، پھر ذہنی اور بعد میں (الا ما شاء اللہ) دینی ارتداد قدرتی ہے۔ ایک سلیم الطبع مغربی مبصر نے جس کو مغرب کے نظام تعلیم اور مشرق میں اس کے نتائج کا وسیع تجربہ ہے، صحیح لکھاہے:
”ہم نے گزشتہ صفحات میں اس بات کی تائید میں چند اسباب و دلائل پیش کیے ہیں کہ اسلام اور مغربی تمدن جو زندگی کے دو متضاد نظریوں پر قائم ہے، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے۔ جب واقعہ یہ ہے تو ہم کیسے اس بات کی توقع کر سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی نئی نسل کی مغربی بنیادوں پر ایسی تعلیم و تربیت (جو مجموعی طورپر یورپ کے علمی و ثقافتی تجربوں اور ان کے تقاضوں پرمبنی ہے) مخالفِ اسلام اثرات سے پاک ہو سکتی ہے۔”
ہماری اس توقع کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں۔ اگر ہم بعض ایسے غیرمعمولی حالات کا استثناء کر دیں، جن میںکسی انتہائی درجے کے روشن اور فائق دماغ کے لیے ایسا ممکن ہوا کہ وہ اپنے درسی مضامین سے متأثر نہیں ہو سکا تو بھی عام اصول یہی رہے گا کہ مسلمانوں کی نئی نسلوں کی مغربی تعلیم و تربیت ان کو اس قابل نہیں رکھے گی کہ اپنے کو اس مخصوص ربانی تمدن کا نمائندہ سمجھیں، جس کو اسلام لے کر آیا۔ اس میں ذرا بھی شک کی گنجائش نہیں کہ ان روشن خیالوں کے اندر دینی عقائد برابر مضمحل ہوتے جا رہے ہیں۔ جنہوں نے مغربی بنیادوں پر نشوونما حاصل کیا ہے۔’
پھر وہ نصابِ تعلیم کے مختلف اجزاء کے متعلق علیحدہ علیحدہ گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
‘مغربی ادبیات کی تعلیم کا انجام اس شکل میں جو اس وقت اکثر اسلامی اداروں میں رائج ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسلام مسلمانوں کی نگاہ میں ایک اجنبی چیز بن جائے۔ یہی بات بلکہ اس سے بہت زیادہ یورپ کے فلسفۂ تاریخ پر صادق آتی ہے۔ اس لیے کہ یورپ کا قدیم نظریۂ تاریخ یہ ہے کہ دنیا میں دو ہی گروہ ہیں۔ رومی اور وحشی۔ تاریخ کو اس طرح پیش کرنے کا ایک پوشیدہ مقصد ہے۔ وہ یہ کہ یہ ثابت کیا جائے کہ مغربی اقوام اوران کا تمدن ہر اس چیز سے زیادہ ترقی یافتہ ہے، جس کا اس وقت تک وجود ہوا آئندہ کبھی دنیا میں وجود ہو سکتا ہے، اس سے اہل مغرب کے حصولِ اقتدار کی کوشش اور مادی طاقت کا اخلاقی جواز پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ حق بجانب ہوتی ہے۔’
آگے چل کر وہ لکھتا ہے:
تاریخ کی اس طرح کی تعلیم نوجوانوں کے دماغ میں اس کے علاوہ کوئی اور اثر نہیں چھوڑ سکتی کہ وہ احساسِ کہتری میں مبتلا ہو جائیں۔ اور اپنی پوری ثقافت (کلچر) اور اپنے مخصوص تاریخی عہد کوحقارت کی نظر سے دیکھنے لگیں۔ اور مستقبل میں ان کے لیے ترقی و خدمت کے جو وسیع اور روشن امکانات ہیں، ان کا انکار کرنے لگیں۔ اس طرح وہ ایک ایسی منظم تربیت حاصل کرتے ہیں، جس میں اپنے ماضی اور مستقبل کی حقارت پورے طور پر کارفرما ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک ان کے مستقبل کی کامیابی صرف اس میں ہے کہ وہ مغربی معیار کے مطابق اور مغرب کے افکار و اقدار سے ہم آہنگ ہوں۔
آگے چل کر وہ بڑی جرأت کے ساتھ کہتے ہیں:
”اگر مسلمانوں نے زمانۂ ماضی میں علمی تحقیق و تفکر کے کام کو نظر انداز کر کے غلطی کی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس غلطی کی اصلاح کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ مغرب کا نظام تعلیم جوں کا توں قبول کر لیں۔ ہماری پوری تعلیمی پسماندگی اور علمی بے بضاعتی اس مہلک اثر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو مغرب کے نظام تعلیم کی اندھی تقلید اسلام کی مخفی دینی طاقتوں پر ڈالے گی۔ اگر ہم اسلام کے جوہر کو یہ سمجھ کر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ایک مستقل علمی و تہذیبی عنصر ہے تو ہمارے لیے ضروری ہوگا کہ ہم مغربی تمدن کے ذہنی ماحول اور فضاسے دور دور رہیں۔ وہ فضا، جو ہمارے معاشرے اور ہمارے میلانات پر غلبہ حاصل کر نے کے لیے تیار ہے۔ مغرب کے طور و طریق اور اس کے لباس و مظاہرِ زندگی کو قبول کر لینے سے مسلمان آہستہ آہستہ مغرب کے نقطۂ نظر کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ خارجی مظاہر کی تقلید اس ذہنی رجحان تک پہنچا دیتی ہے۔’
اس نتیجے کی پیش گوئی ان بعض مفکرین نے بھی کی ہے، جو ایشائی اور مشرقی ممالک میں اس نظام تعلیم کو رواج دینے والے تھے۔ مشہور انگریز اہل قلم لارڈ میکالے نے جو ١٨٣٥ء میں اس تعلیمی کمیٹی کے صدر تھے، جو یہ طے کرنے کے لیے بیٹھی تھی کہ ہندوستانیوں کو مشرقی زبانوں کی جگہ انگریزی زبان میں تعلیم دی جایا کرے۔ اپنی رپورٹ میں لکھا تھا:
‘ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہیے، جو ہم میں اور ہماری کروڑوں رعایا کے درمیان ترجمان ہو۔ یہ ایسی جماعت ہونی چاہیے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی، ہو، مگر مذاق اور رائے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو۔’
یہ مغربی نظامِ تعلیم درحقیقت مشرق اور اسلامی ممالک میں ایک گہرے قسم کی لیکن خاموش نسل کشی کے مرادف تھا۔ عقلائے مغرب نے ایک پوری نسل کو جسمانی طورپر ہلاک کرنے کے فرسودوہ اور بدنام طریقے کو چھوڑ کر اس کو اپنے سانچے میں ڈھال لینے کا فیصلہ کیا۔ اور اس کام کے لیے جا بجا مراکز قائم کیے، جن کو تعلیم گاہوں اور کالجوں کے نام سے موسوم کیا۔ اکبر مرحوم نے اس سنجیدہ تاریخی حقیقت کو اپنے مخصوص ظریفانہ انداز میں بڑی خوبی سے ادا کیا ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے
یوں قتل سے بچوں سے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
ایک دوسرے شعر میں انہوں نے مشرقی و مغربی حکمرانوں کا فرق اس طرح بیان کیا ہے
مشرقی تو سرِ دشمن کو کچل دیتے ہیں
مغربی اس کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں
اس سے کئی برس بعد اقبال نے (جنہوں نے اس نظام تعلیم کا خود زخم کھایا تھا) اس حقیقت کو زیادہ سنجیدہ انداز میں اس طرح پیش کیا:
مباش ایمن کہ ازاں علمے کہ خوانی
کہ از وے روحِ قومی می تواں کُشت
تعلیم جو قلبِ ماہیت کرتی ہے، اور جس طرح ایک سانچہ توڑ رک دوسرا سانچہ بناتی ہے، اس کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
تعلیم کے تیزاب میں ڈالا اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے ایک ڈھیر

2017 نوائے امت ۔ اکتوبر

Related posts