جمہوریت اور اسلام کا سیاسی نظام

محمد عالم انصاری

جمہوریت کو دنیا تہذیب و تمدن کی علامت اورایک فطری طرز حکومت کے طور پر تسلیم کر چکی ہے۔بیشتر ممالک میں جمہوری نظام سیاست قائم ہو چکا ہے اور جہاں اب تک جمہوری نظام قائم نہیں ہو سکا ہے ۔ وہاں جدوجہدجاری ہے۔لیکن ایک صدی قبل دنیا کو جمہوریت سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ آج تک پوری نہیں ہو سکیں۔اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔
١:جمہوریت کے علمبرداروں اور اس کا خیر مقدم کرنے والوں نے درحقیقت اس کے مفہوم کو خود ہی نہیں سمجھا تھا۔وہ لوگ اس غلط فہمی یا خوش فہمی میں رہ گئے کہ جمہوریت قائم ہوتے ہی بس ہر طرف عدل و انصاف اور آزادی و مساوات کا دور دورہ ہو گا۔مگر یہ ایک خواب تھا جو کہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ٢:اس نظام کو قائم کلرنے والوں نے صحیح معنوں میںجمہوری نظام قائم نہیں کیا۔
ماہرین سیاسیات نے مختلف پہلو سے اس مسئلہ کا تنقیدی جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ابتدا سے ہی جمہوریت کا مفہوم واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔اس کی اتنی مختلف اور مبہم تعریفات بیان کی گئیں کہ ہر شخص نے اس کا جو مطلب چاہا سمجھ لیااور آج بھی صورت حال یہ ہے کہ ہر فریق اپنے پسندیدہ نظام کو ہی جمہوری نظام بتاتا ہے اور اپنے آپ کو ہی جمہوریت کا حامی اور علمبردار کہتا ہے۔جب کہ ان میں سے ہر گروہ کے نظریات و اصول با لکل مختلف ہیںاور ہر فریق ،مخالف فریق کو جمہوریت کا دشمن،ملک کا دشمن ،قوم کا دشمن اور آخر میں دہشت گرد قرار دیتا ہے۔اگر جمہوریت اتنا وسیع المعنیٰ لفظ ہے کہ اس کا اطلاق ہر قسم کی حکومتوں اور ہر نوع کے نظام پر ہو سکتا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گاکہ یہ ایک ایسا لیبل ہے جو جب اور جہاں چاہیں چسپاں کردیا جائے۔اگر ایسا ہے تو پھر اس کے نام پر اختلافات،بحثیں،تصادم،خون ریزیاں اور قربانیاں کیوں؟
جمہوریت انگریزی لفظ”ڈیمو کریسی”کا ہم معنی ہے اور انگریزی کا لفظ ڈیمو کریسی یونانی لفظ”ڈیمو کریٹیا”سے مشتق ہے جو دو لفظوں ”ڈیموس”یعنی لوگ اور”کریٹیا”یعنی طاقت یا اقتدار سے مل کر بنا ہے۔اس طرح جمہوریت کے معنی ہوئے ”لوگوں کی طاقت یا لوگوں کا اقتدار ”یعنی ایک ایسا نظام جس میں اقتدار کی باگ ڈور لوگوں کے ہاتھ میں ہو،نہ کہ فرد واحد اور چند لوگوں کے ہاتھ میں۔لیکن یہاں پر لوگوں سے مراد لوگوں کی کل آبادی نہیں۔بلکہ یونان کے وہ مرد (عورتیں نہیں)جنہیں وہاں شہری حقوق حاصل تھے۔معلوم ہونا چاہیے کہ یونان میں عورتیں ،غیر یونانی لوگ اور غلام شہری حقوق سے محروم تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ یونانیوں کا تصورِ جمہوریت نہایت محدود تھا ۔انتظامی امور میںآبادی کا بہت چھوٹا حصہ شامل تھا۔اس اعتبار سے اس پر جمہوریت کا اطلاق نہیں ہوگا کیوں کہ یہ جمہور (عوام) کی حکومت نہیں تھی۔ایک ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے اوائل تک نہ صرف یورپ کے تمام ممالک بلکہ خود برطانیہ میں ووٹ کا حق تمام لوگوں کو حاصل نہیں تھا۔یورپ میں حق رائے دہندگی تمام بالغ مردوں کو پہلی عالمگیر جنگ کے بعد حاصل ہو گیا تھا۔ تاہم بہت سے ایشیائی اور افریقی ممالک میںیہ حق عام طور پر دوسری عالمگیر جنگ کے بعد ملا۔
جمہوریت کے ارکان خمسہ ١:اقتدار کا منبع لوگ ہوں۔یعنی اصل سیاسی طاقت کے مالک لوگ ہوںاور وہی رہیں۔یعنی اگر حکمرانی کا حق کسی کے سپرد کردیں تو واپس لینے کا بھی حق رکھتے ہوں۔ ٢:لوگ مختار کل اور مکمل آزاد ہوں۔یعنی ان پر کوئی بیرونی طاقت حکمران نہ ہو،بلکہ یہ خود ہی حاکم اعلیٰ ہوں،جو چاہیں کر سکیں۔ دوسرے ان کے سامنے جوابدہ ہوں۔یہ کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہوں۔ ٣:حکومت ان کی مرضی کے مطابق ہو اوران کی مرضی کا اظہار بغیر کسی دبائوکے واضح اورآزادانہ طور پر ہو۔ ٤:حکام کا تقرر لوگوں کی مرضی اور ان ہی کے نمایندوں کے ذریعہ ہواور حکام اسی وقت تک اپنے عہدوں پر فائز رہیں،جب تک انہیں لوگوں کا اعتماد حاصل رہے۔ ٥:ملک کا انتظام چلانے کے لئے جو قانون چاہیں یہ وضح کر سکیں اور جب جس قانون کو چاہیں بدل سکیں۔یعنی قانون سازی کے معاملہ میں مکمل آزاد ہوں،ان پر کوئی خارجی دبائو یا پابندی عائد نہ ہو۔
جمہوریت کی مذکورہ بالا نظریاتی تعریف کو پیش نظر رکھ کر جمہوریت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جمہوریت اپنی ان خصوصیات کے ساتھ کبھی بھی اور کہیں بھی قائم نہیں ہوئی۔اس کا تفضیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔طاقت(اقتدار اعلیٰ)جمہور(عوام) کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔اصل طاقت اور قانون سازی کا حق چند لوگوں کے پاس ہے۔جسے عام طور پر پارلیمنٹ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو کہ (بظاہر)خود مختار ہوتے ہیںکہ اپنے ملک کے لئے جو قانون چاہیں بنائیںحکام کی تقرری اور ان کے احتساب کا حق انہیں حاصل ہو۔ یہی انتظامیہ اور عدلیہ کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔بالفاظ دیگر کہاجا سکتا ہے کہ آج تک بیشتر ممالک میں سیاسی طاقت یا اقتدار پارلیمنٹ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ اقتدار کا چند ہاتھوں میں مرکوز ہونا جمہوریت کے منافی ہے۔
جمہوریت کی بنیادی خصوصیت میں اقتدار جمہور کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن عملاًہم دیکھتے ہیں کہ ساری طاقت چند پارلیمان کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔تو کیا اب بھی جمہوریت سے مراد چند لوگ ہیں؟ درحقیقت جمہوریت کی یہ تعریف ہی غلط کی گئی ہے۔عملاًیہ ممکن ہی نہیں ہے کہ تمام شہری ایک جگہ جمع ہو کر اس طاقت کا استعمال کر سکیں۔ کیونکہ یہ ایک دن کا معاملہ نہیں ،روزانہ کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہوگا، اس لئے اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ جمہوریت میں ہر شخص براہ راست سیاسی طاقت کا استعمال کر سکتا ہے تو وہ مغالطے میں مبتلا ہے،جس کسی نے بھی یہ توقع قائم کر رکھی تھی،دراصل اس نے ایک بہت مہمل سا خواب دیکھا تھاجو کبھی شرمندہ تعبیر ہوا اور نہ ہو سکے گا۔اقتدار جمہور کے نمایندوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جمہور کے پاس طاقت نہیں ہوتی یا وہ اس کا استعمال نہیں کرتے۔بلکہ تمام لوگ اپنی طاقت یا اختیا ر کو کسی نمایندہ کو تفویض کر دیتے ہیں اور یہی نمایندے جمہور کی طرف سے طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ظاہری طور پر اور عملاًسارے اختیارات پارلیمنٹ کے پاس ہوتے ہیں اور وہ خود مختار ہوتی ہے۔لیکن جب تک اسے جمہور کا اعتماد حاصل رہے۔یعنی ہر جمہوری ملک میں دو طرح کا اقتدار ہوتا ہے۔ایک تو قانونی، ظاہری،عارضی یا میعادی جو کہ پارلیمنٹ کے پاس ہوتا ہے اور اس کے استعما ل کے وقت اسے مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔اس کے اختیارات لامحدود ہوتے ہیں اور دوسرا اصلی اقتدار جو کہ جمہور کے پاس ہوتا ہے۔پارلیمنٹ اگر جمہور کی مرضی کے مطابق حکومت نہیں کرتی تو جمہور جب چاہے انتخاب کے ذریعہ پارلیمنٹ کو برطرف کر سکتی ہے۔پس جمہوریت کی روح یہ نہیں کہ اقتدار اعلیٰ جمہور کے ہاتھ میں ہو، بلکہ جمہور کے نمائندے جمہور کی مرضی کے مطابق اختیارات استعمال کریں۔
جمہور کے نمائندے جمہور کی نمائندگی نہیں کرتے،عملی دشواریوں کے پیش نظر جمہور اگر اپنے نمائندوں کے ذریعہ اپنے اختیارات کا استعمال کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر جمہور کے نمائندے واقعی جمہور کی مرضی ،خواہشات اور نظریات کے مطا بق حکومت کریںتو جمہوریت کی ایک شرط پوری ہو جاتی ہے کہ حکومت جمہور کی مرضی کے مطابق قائم ہو اور قائم رہے۔ اس کے لئے تین باتیں ضرور ہیں: ١:جمہور یا عوام میں سیاسی شعور بیدار ہو،ان کی اپنی خود کی مرضی ہو اور یہ خواہش ہو کہ ان کی مرضی کے مطابق حکومت قائم ہو۔ ٢:جمہور یا عوام کو اپنی مرضی اور خواہشات کا اظہار کرنے کا اختیار ، موقعہ،ماحول اور آزادی وغیرہ حاصل ہوں اور ان پر کسی قسم کا دبائو نہ ہو۔ ٣:جمہور جس پارٹی کو منتخب کرے،وہ اپنے انہی اصول ،پالیسی یا نظریہ کی پابند رہے جس پر وہ انتخابات کے وقت تھی۔ایسا نہ ہو کہ اقتدار اور اختیار ملنے کے بعد جمہور کی خواہشات کو پامال کرنے لگے۔ ان باتوں کو جب عملی جامہ پہنایاجاتا ہے تو اس کے نتائج حوصلہ افزا نہیں نکلتے اور کبھی کبھی نتائج تو بالکل جمہوریت کے منافی ہوتے ہیںاور جب اس پہلو سے غور کیا جاتا ہے تو سچائی سامنے آتی ہے کہ جمہوری حکومت میں سرمایہ داروں کی مداخلت اور کنٹرول ہوتا ہے۔
موجودہ جمہوری نظام میں عام طور پر انتخابات پارٹی کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔پارٹی تنظیم کی محتاج ہوتی ہے اور تنظیم کے لئے مال و دولت کی ضرورت سے کسی کو بھی انکار نہیں۔چنانچہ بہت سے سرمایہ دار اپنے سرمایہ سے مختلف پارٹیوں کی مدد کرتے ہیںتو پارٹی کے ارکان سے یہ امید لگاتے ہیں کہ وہ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں جا کر ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔اس طرح پارٹیاں جمہور کی نہیں مخصوص سرمایہ داروںکی نمائندگی کرنے لگتی ہیں۔اور ان کے مفادات کے پیش نظر ملک کی پالیسی اور قانون بناتی ہیں۔
انتخابات کے بعد جمہور کے ہاتھ میں اختیار نہیں ہوتا،عوام کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ کے ممبراور ہر سیاہ و سفید کے مالک بن جاتے ہیں۔عوام اپنے سارے اختیارات ان کو اس توقع پر دے چکے ہوتے ہیں کہ یہ عوام کی مرضی کے مطابق حکومت چلائیں گے۔اب اگر یہ اپنے وعدوں سے پھر جائیںاور عوام کی مرضی کے خلاف کام کرنے لگیںتو یہ بدترین اور ظالم و جابرفرمان روا سے بھی خطرناک ہو جاتے ہیں۔کیوں کہ انہیں قانون کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔اور قانون کی رو سے انہیں لامحدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں،انہیں ملک کا دستور بھی مسترد کرنے اور نئی دستور سازی کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے۔اور ووٹر،جمہور یا عوام ان سے نہ تو کوئی بازپرس کر سکتاہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے خلاف بغاوت کر سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ ایسے پارلیمان کے خلاف آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالا جا سکتا ہے۔لیکن ان پارلیمان کو یہ بھی قانونی حق حاصل ہے کہ انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی رکھیں اور اپنی من مانیاں کرتے رہیں۔ اسلام کے سیاسی نظام یعنی خلافت کی بنیاد اس عقیدہ پر ہے کہ انسان تو کیا کوئی بھی ہستی اس کی مستحق اور اہل نہیں کہ دوسروں پر فرماں روائی کرے۔
خلافت میں حاکم اعلیٰ اللہ ہے جس کی فرماں روائی کائنات کے ذرے ذرے پر ہے۔لیکن جمہوری نظام میں (بظاہر)حاکم اعلیٰ عوام ہوتی ہیںجو کہ اسلامی نقطہ نظر سے غلط ہے۔ حاکم اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے اس کی کئی وجہیں ہیں،جن کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ قانون سازی یا فرماں روائی کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔حاکم اعلیٰ اس ہستی کو کہتے ہیںجس کے اختیارات لامحدود ہوں اور وہ خود مختار ہو،جو کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔اور جسے فرماں روائی کا حق مالک ہونے کی بنا پر حاصل ہوکسی کا عطاکیا ہوا نہ ہو۔ خلیفہ جمہور کا نمائندہ نہیں۔رسول اکرم ۖ کا نائب ہوتا ہے۔ خلیفہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولۖ کی مرضی کی ترجمانی کرنے پر مامور ہوتا ہے نہ کہ امت کی مرضی کی۔خلافت میں شرعی قانون نافذ ہوتا ہے،قانون سازی نہیں کی جاتی، قرآن اللہ کی مرضی کا مظہر ہے۔خلیفہ اسی کا پابند ہوتا ہے۔
خلیفہ کے انتخاب کا معیار تقویٰ ہوتا ہے براہ راست عوام تو کیا خواص بھی اپنی ذاتی پسند کا متفقہ طور پر خلیفہ منتخب نہیں کر سکتے۔اس لئے اسلام میں اس صورت کو ترجیح دی گئی ہے کہ امت میں سب سے متقی اور پرہیزگار لوگ ،جن کی سیرت قرآن وسنت کے زیادہ قریب ہو ،وہ باہمی مشورے سے کسی بہترین شخص کا انتخاب کر لیں، یہ اصول حضرت عمرفاروقنے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کاجو طریقہ تجویز کیا تھا،اس سے بالکل واضح ہے۔اسلام نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے کہ لوگ مناصب کی خواہش وطلب کے ساتھ میدان میں آئیں اور پھر انہیںمنصب دیا جائے،جب کہ جمہوریت میں یہ لازمی ہے۔

Related posts