جمہوریت خلافِ اسلام ہے

مولانا حکیم محمود احمد ظفر

 

”جمہوریت وہ طرزحکومت ہے جس میں لوگوں پرلوگوں کے نفع کے لئے لوگوں کے ذریعہ حکومت کی جاتی ہے ”تو یہ بھی ایک بہت بڑا جھوٹ ہے کیونکہ جہاں تک لوگوں کی حکومت کا تعلق ہے تواس کی حقیقت یہ ہے کہ سب کے سب عوام توحکومت نہیں کرتے کیونکہ دستور سازی اورقوانین اور تشریعات کومحدود سی اقلیت وضع کیا کرتی ہے اوریہ اقلیت ایک بہت ہی محدودسی نسبت کی نمائندگی کیاکرتی ہے اورجہاں تک حاکم خود عوام ہونے کاتعلق ہے یعنی عوام خود اپنے حکام کومنتخب کیاکرتے ہیں تویہ دعویٰ بھی ایک بہت بڑے مغالطے پرمبنی ہے کیونکہ اصلاََ جوحکمرانی کیا کرتاہے وہ توایک شخص یاایک ہئیت تنفیذیہ ہوا کرتی ہے جو بعض حالات میں توبالکل ہی ایک چھوٹا ساگروہ ہوتاہے جو ان احکام کی تنفیذکرتاہے جو اس کے لیے طے کردیئے گئے ہوں ۔پھر جن لوگوں نے ان کااور ان قوانین کے بنانے والوں کاانتخاب کیاہوتاہے وہ کل معاشرے کی ایک چھوٹی سی تعداد ہوا کرتی ہے۔

جہاں تک پہلے سوال کہ” حکمرانی کرناعوام کاحق ہے اور یہ کہ عوام ہی اپنے لیے دستور اورقوانین بناتے ہیں ”کا تعلق ہے ،اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی ریاست یاکسی نئے سیاسی ڈھانچے کی نشو ونماپانے یاکسی ریاست میں کسی انقلاب وغیرہ سے کوئی بنیادی تغیر وقوع پذیر ہوتا ہے تواس تبدیلی یانشو ونماکاجولوگ ارادہ کیاکرتے ہیں وہ ایک مجلس بنادیتے ہیں جس میں زیادہ تر ایک ملک کے وکلاء اور قانون دان حضرات کو شامل کیاجاتاہے۔اور ان لوگوں کے افکار کا اصل سر چشمہ یاتوخود ان کے اپنے اپنے خود ساختہ افکار ہوا کرتے ہیں۔ یاپھر یہ لوگ یہ تمام چیزیں دوسری ریاستوں کے دساتیرکو اپنے سامنے رکھ کر تیار کرتے ہیں۔اور ان موجودہ دساتیر کے اندر کوئی تھوڑی بہت تبدیلی کرلیتے ہیں۔پھریہ دستور لوگوں کے اوپر لاگوکر دیاجاتاہے ۔اس لیے یاتولوگوں کی طرف بالکل رجوع ہی نہیں کیاجاتایااس کومجلس قانون ساز کے سامنے منظوری کے لیے پیش کردیاجاتاہے تاکہ وہ مسودہ کو باقی رہنے دے یااس میں اگر کوئی تبدیلی کرنامناسب سمجھے تووہ تبدیلی کردے ۔بہرحال جو بھی صورت اختیار کی جائے یہ حقیقت تواپنی جگہ پر قائم رہتی ہے کہ اقوام عالم کی ایک بہت بڑی اکثریت قانون سازی کو بالکل نہیں جانتی۔ یہاں تک کہ اسے زندگی کی تنظیم اور اس کے معنی تک کاعلم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے دوران لوگ یہ کم ہی سمجھتے ہیں کہ امیدوارمیں قانون سازی کی کہاںتک صلاحیت ہے ۔اس لیے منتخب ہونے والوں میں بہت سے افرادایسے ہوتے ہیں جودستور سازی اورقانون کے ابتدائی مفہوم کوبھی نہیں جانتے ۔لہذا ایسے افراد سے تشکیل پانے والی مجلس قانون سازیادستور سازاسمبلی قانون سازی کاحق کیسے اداکرسکتی ہے؟

معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ بالکل خلاف واقعہ ہے کہ پوری قوم اپنے لیے قانون سازی کرتی ہے بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی وہ ہئیت تشریعی کرتی ہے جو خود ایک اقلیت اورایک اقلیت کی نمائندہ ہوتی ہے۔لہذااس قانون یادستور سازی کوکسی قیمت پربھی امت کی قانون سازی کاقائم مقام نہیں ماناجاسکتا۔بالفرض اگریہ مان بھی لیاجائے کہ عوام اپنے نمائندگان پارلیمنٹ انہیں لوگوں کو منتخب کریں گے جودستور سازی کی پوری صلاحیت رکھتے ہوں گے، پھربھی ان کابنایاہوادستور لوگوں کے لئے مفیدنہیں ہوگااور اس سے لوگوں کوعدل وانصاف نہیں ملے گاکیونکہ عادلانہ قانون بنانے والے کے لئے مندرجہ ذیل اوصاف کا ہونانہایت ضروری ہے؛(1) علم محیط(2) رحمت کاملہ  (3) قدرت تامہ اور (4)غیرجانبداری۔

(1) علم محیط اس لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی حقوق کے ہرپہلوکاعلم رکھتاہواور انسانی فوائدوحقوق کے متعلق اس کو انسان کے تمام ادوار حیات پرنظرہو یعنی دنیاقبر اور آخرت وغیر ہ تاکہ اس کاعادلانہ فیصلہ انسانی زندگی کی ان تمام منزلوں میں درست ہو۔ایسانہ ہو کہ اس کاوہ فیصلہ ایک دور کے لیے تودرست ہو اورباقی ادوار کے لیے غلط ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فیصلہ انسان کے انفرادی نتائج کے لحاظ سے بھی درست ہو اور اجتماعی لحاظ سے بھی اورظاہری نتائج کے لحاظ بھی اورگہرے اورعمیق نتائج کے لحاظ سے بھی صحیح ہو۔(2) رحمت کاملہ اس لیے ضروری ہے کہ عادلانہ قانون کی تدوین کے وقت دیدہ و دانستہ قانون میں ایسے اجزاء شامل نہ کردیئے جائیں جوخلاف انصاف ہو۔(3)  قدرت کاملہ اس لیے ضروری ہے کہ کسی دباؤ میں آکر راہ عدل سے انحرف نہ کردے اورسزادینے میں کمزوری نہ دکھائے۔(4)  غیرجانبداری یعنی قانون سازکے لیے غیرجانبدارہونااس لیے ضروری ہے کہ وہ ہم قوم،ہم وطن،ہم رنگ اور ہم زبان لوگوں کی طرفداری نہ کرے اورقانون سازی میں اس کی رعایت کرکے اوروں کونقصان نہ پہنچائے جیسے کہ اہل یورپ کرتے ہیں ۔

یہ چاروں صفات قانون عادلانہ کی تشکیل وتدوین کے لئے ضروری ہیں اور یہ سب امورصرف اور صرف ذات خداوندی میں موجود ہیں ۔نہ اس کے برابر کسی کاعلم ہے اور نہ اس کے برابرکسی کی قدرت کہ کسی سے دب کر قانون بنانے میں اس کی رعایت کرے یامجرم کوسزادینے میں کسی سے ڈرے اورصرف اسی کی ذات ہی غیرجانبدار ہے۔نہ وہ کسی کے ساتھ قومیت ہاوطن میں شریک ہے کہ ہم وطن اورہم قوم لوگوں کی رعایت کرے نہ وہ کسی کاہم رنگ اور ہم زبان ہے بلکہ وہ ایسی ذات ہے کہ نہ اس کی نسل ہے اور نہ کسی سے شرکت ،اس لیے عادلانہ قانون جوانسان کافطری حق ہے وہ کوئی جمہوری پارلیمنٹ تونہیں بناسکتی بلکہ وہ صرف اورصرف ذات خداوندی سے مختص ہے۔

یہ دعویٰ کہ عوام خود اپنے حکام اور نمائندگان منتخب کرتے ہیں ۔یہ بھی خلاف حقیقت اور غلط ہے ۔حکومت بھی اپنی ذمہ داری اور خرچ پر امیدواروں کی فہرستیں تیارکرتی اور انتخاب اور رائے دہی جن جن چیزوں کوضروری قرار دیتی ہے ان سے بھی عہدہ براہوتی ہے۔ اسی طرح وہ ملک بھرمیں پولنگ اسٹیشن قائم کرتی ہے۔فرض کریں کہ ایک ملک کی آبادی بیس کروڑ ہے تواس میں ووٹرحضرات کی تعداد25فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی ۔اس طرح پانچ کروڑافراد کی ووٹرلسٹیں تیار کی جائیں گی ۔پھر ان کے بعد کتنے ووٹرہوگے جوپولنگ اسٹیشنوں تک نہ پہنچنے کی وجہ سے اپناحق رائے دہی استعمال نہیں کریں گے ۔پھرکتنے ہی عمررسیدہ اور معذورافرادہوں گے جو ووٹ ڈالنے کے مرکزتک نہیں پہنچ پائیں گے ۔عام طورپر یہ دیکھاگیاہے کہ بہتر سے بہتر حالات اور بہتر سے بہتر جمہوری زندگی کے لئے جوش وجذبہ رکھنے والی اقوام میں بھی زیادہ سے زیادہ اسی (80) فیصد لوگ اپناحق رائے دہی استعمال کرتے ہیں ۔ اس طریقے سے ان پانچ کروڑووٹر میں سے صرف چارکروڑافراد اپناحق رائے دہی استعمال کریں گے۔اب اگر صدر کے عہدہ کے لیے چارافراد میں مقابلہ ہو توان میں سے جوسب سے زیادہ ووٹ حاصل کرے گااسے یہ منصب تفویض کردیاجائے گا۔اگر ان میں سے ایک شخص ایک کروڑ10لاکھ ووٹ حاصل کرے تو وہ منصب صدارت پرفائز ہوجائے گا۔اورباقی 10لاکھ کم تین کروڑ ووٹ دوسرے تین امیدواروںپر تقسیم ہو جائیں گے۔اب ایک کروڑ دس لاکھ ووٹ حاصل کرنے والاکامیاب امیدوارہئیت تنفیذیہ کاڈھانچہ تشکیل دے گاجواحکام کو معاشرے پرلاگوکرنے کے لیے اس کی ممدومعاون قرارپائے گی۔اب اس مثال کی رو سے وہ شخص صرف ایک کروڑ دس لاکھ افراد کانمائندہ ہے۔اور تین کروڑ افراد نے عملی طورپراس کاسخت مقابلہ کیاہے اور ایک کروڑافرادنے اپناووٹ ہی نہیں ہیں ،لیکن اس کے باوجود اس شخص کو بیس کروڑافرادپر حاکم مقرر کردیاگیاہے۔اب ملاحظہ فرمائیںکہ یہ اکثریت کی حکمرانی ہے یااقلیت اکثریت پر حکمرانی کررہی ہے۔

Related posts