جمہوریت کیا ہے ؟

مولانا محمد زاہد اقبال

تحریک پاکستان کے دوران علماء کرام سے کئے گئے وعدوں اور عوام کو دیے گئے نعروں کا تقاضا تو یہ تھا کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد اسلامی نظام حیات تشکیل دیتے ہوئے ریاست کے تمام محکموں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی احکام وقوانین کو نافذ کیا جاتا لیکن ایسا کرنے کے بجائے یہاں باطل مغربی نظام جمہوریت کو نافذ کیا گیا۔
١۔ یاد رکھیں ! جمہوریت صرف ریاستی اور حکومتی نظام کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو دین اسلام کے متوازی ،متضاد اور مخالف ایک مستقل دین ہے ۔مغربی مفکرین کی تحریریںبھی اس پر گواہ ہیں (دیکھیئے کتاب ،جمہوریت عقل اور نقل کے آئینے میں ) اسی طرح جمہوری نظام دنیا کے جن جن ممالک میں نافذ ہے اس کی عملی شکل و صورت اور نتائج و ثمرات سے بھی واضح ہے کہ جمہوریت ایک مستقل نظام حیات اور ایک الگ دین ہے کیونکہ جمہوریت کی عمارت جن عقائد و نظریات پر کھڑی کی گئی ہے انہی سے نکلنے والے اصول ،ضابطے اور قوانین سیاست ،معیشت ،عدالت، معاشرت،تعلیم غرض زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں اور یوں پوری زندگی کے لئے ایک مستقل نظام ترتیب دیا گیا ہے ۔یہ دین جمہوریت دین اسلام کے بنیادی عقائد ،احکام وتعلیمات اور اصول و قوانین کی کھلم کھلا نفی کرتا ہے اس لئے اسلام میں اسلامی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں ہے ۔
٢۔ جمہوری نظام کی بنیاد اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کردہ وحی پر نہیں بلکہ انسانی عقل پر رکھی گئی ہے اور انسانی عقل کی بنیاد پر ہی انسانوں کے لئے آئین و قوانین بنائے جاتے ہین ۔چنانچہ جمہوریت میں عوام کے منتخب کردہ ارکان اسمبلی (پارلیمنٹ)جب تک کسی بات کو بطور قانون منظور نہیں کرتے تب تک وہ قانون نہیں بن سکتی ،چاہے وہ قرآن کا حکم ہو یا نبی ۖ کا ارشاد ،گویا اسلامی احکام بھی ملکی قوانین بننے کے لئے ارکا ن اسمبلی (پا رلیمنٹ ) کی منظو ری کے محتا ج ہیں ،یہی وجہ ہے کہ دینی طبقہ کی کو ششوں کے با وجو د آج تک شریعت بل پا کستا ن کی پا رلیمنٹ سے منظو ر نہیں ہو سکا جبکہ قرآن و سنت کے خلا ف قوانین ہمیشہ منظو ر ہو تے رہے اور آج بھی ہو رہے ہیں ۔ اسی طرح پا کستا ن کے آ ئین کے مطا بق اسلا می نظریا تی کو نسل کے تجویز کر دہ قوا نین بھی پا رلیمنٹ کی منظو ری کے محتا ج ہے ۔آئین و قوانین کی بنیا د اللہ تبا رک و تعا لیٰ کے نا زل کر دہ احکا م و تعلیما ت کے بجا ئے انسا نی عقل پر رکھنا اور اسے ارکا ن اسمبلی کی منظو ری کا محتا ج بنا نا قرآن و سنت کے سرا سر خلا ف اور کھلم کھلا کفر ہے ،
٣۔ جمہو ریت میں ارکا ن اسمبلی (پا رلیمنٹ ) کو حق حا صل ہے کہ وہ اپنی خوا ہش کے مطا بق جو آئین و قوا نین چا ہیں بنا یئں،چا ہے وہ اللہ تعا لیٰ کی عطا کر دہ شریعت کے خلا ف ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری مما لک میں ارکا ن اسمبلی اپنی خوا ہش کے مطا بق قوا نین بنا تے رہتے ہیں ۔یہی کچھ پا کستا ن کی پا رلیمنٹ میں ہو تا ہے چنا نچہ اگر امریکہ و یو رپ میں ہم جنس پرستی کو قا نو نی حیثیت دے دی گئی ہے تو پا کستان کی اسمبلی بھی” تحفظ حقو ق نسوا ں” کے نا م سے ایسا قا نو ن بنا چکی ہے جس کے با رے میں تما م مکا تب فکر کے علما ء کا اتفا ق ہے کہ یہ قا نو ن قرآن و سنت کے سرا سر خلا ف اور زنا کی ترویج و اشا عت کے لئے بنا یا گیا ہے ۔غرض آئین و قا نون کی بنیا د شریعت کے بجا ئے انسا نی خوا ہشا ت پر رکھنا اللہ تعا لیٰ کی شریعت سے بغا وت و کفر ہے ۔
٤۔ جمہو ریت کی تعریف یہ کی گئی ہے :Government of the pepple by the pepple for the people.
”عوا م کی حکمرانی عوا م کے ذریعے اور عوا م کے لئے” یعنی جمہو ریت میں اقتدار اور حکمرا نی کا حق عوا م کو حا صل ہے اور وہ ووٹ کی پر چی کے ذریعے اپنا یہ حق ارکا ن اسمبلی کو تفویض کر تے ہیں پھر ارکا ن اسمبلی حکمرا نی کر تے ہیں اسلا م میں حکمرا نی و اقتدار کا حق صرف اللہ تبا رک و تعا لیٰ کو حا صل ہے :ان الحکم الا اللہ :یعنی حکمرا نی صرف اللہ تعا لیٰ کا حق ہے (اور اسی کے لئے مخصوص ہے)اسلا می نظا م میں خلیفہ اور امیر المؤ منین تو اللہ تعا لیٰ کا نا ئب اور اس کے احکا م و قوا نین کا پا بند ہو تا ہے اللہ تعا لیٰ کے مقا بلے میں عوا م اور ان کے منتخب کردہ ارکا ن اسمبلی کو حکمرانی کا حق دینا کھلم کھلا شرک ہے۔
٥۔ اسلا م میں قا نو ن سا زی (قا نو ن بنا نے ) کا حق صرف اور صرف اللہ تبا رک و تعا لیٰ کو حا صل ہے ۔:الا لہ الخلق والامر: خبردا ر پیدا کر نے وا لا اور حکم دینے (قا نون بنا نے ) وا لا اللہ ہی ہے ۔
جمہو ریت میں قا نو ن سا زی کا حق عوا م اور ان کے منتخب کر دہ ارکا ن اسمبلی کو حاصل ہو تا ہے کہ وہ صحیح و غلط ،جا ئزو ناجا ئز اور حلا ل و حرا م پر مبنی ہر قسم کے قوا نین بنا سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے مقا بلے میں ارکا ن اسمبلی کو قا نو ن بنا نے کا حق دینا سرا سر شرک اور کفر ہے ۔
٦۔ اسلا میں صحیح و غلط ،سچ وجھو ٹ ، جا ئزو نا جا ئز، حلا ل و حرا م اور حق و با طل کا معیا ر دلیل یعنی قرآن و سنت ہے ،چا ہے اس کی ما ننے وا لے اکثریت میں ہوںیا اقلیت میں جبکہ جمہوریت میں ارکا ن اسمبلی کی اکثریت کے را ئے کومعیا ر حق تسلیم کیا گیا ہے ۔یعنی ارکا ن اسمبلی کی اکثریت جس با ت کو صحیح ،جا ئز ، نا جا ئز ، حلا ل اور حق قرا ر دے وہی صحیح ،جا ئز، حلا ل و حق ہے چاہے حقیقت
میں وہ غلط ،ناجا ئز ،حرام اور باطل ہی کیوں نہ ہو۔ارکان اسمبلی کی اکثریت کی رائے کو معیار حق بنانا یا تسلیم کرنا اور انہیں جائز وناجائز اور حلا ل و حرا م کا حق دینا سرا سرخلا ف اسلا م اور شرک ہے ۔اللہ تعا لیٰ فرما تے ہیں :وان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ۔
٧۔ عوا م کی اکثریت جا ہل، ان پڑھ، بے عقل و بے شعو ر ہو تی ہے اللہ تعا لیٰ فرما تے ہیں :واکثرھم :جبکہ جمہو ریت میں انہی کو حکمرا نی اور قا نون سا زی کا حق دینے کا مطلب تو جا ہلوں ،بے وقوفوں ، بے شعوروں بلکہ احمقوں اور پا گلو ںکو حکمرا نی و قا نون سا زی کا حق دینا ہے ۔چنا نچہ آج جا ہل، ان پڑھ ،بے شعور اور بے عقل عوا م کی اکثریت کے منتخب کردہ جا ہل اور احمق حکمرا نوں کی جمہو ری حکو متو ں کا تما شہ پا کستا ن سمیت پو ری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے ۔
٨۔ اللہ تبا رک و تعا لیٰ قرآ ن کریم میں عا لم و جا ہل کے درمیا ن فرق بیا ن کر کے عا لم کو جا ہل پر فو قیت دیتے ہیں جبکہ جمہو ریت میں عا لم و جا ہل ،عا قل وپا گل اور دا نشور واحمق کے درمیا ن کو ئی فرق نہیں ہے چنا نچہ عا لم ،جا ہل ،پروفیسر ، انجینئر، ،دا نشور ،جج، ،وکیل، صحا فی اور ان پڑھ ،جا ہل ، علم و شعو ر سے تہی دا من اور ملک و ملت کے مسا ئل اور ریا ست و سیا ست کے فرا ئض سے نا وا قف ہر ایک شخص کو برا بری کی سطح پر ووٹ کا حق حا صل ہے اور ہر ایک کے ووٹ کی قیمت برا بر ہے اس لئے تو اقبا ل مرحو م نے کہا تھا۔
جمہو ریت اک طرز حکو مت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کر تے

Related posts