جمہوری سیاست میں لوٹوں کا کردار

مولانا محمد زاہد اقبال

جمہوری سیاست ایک سنگدلانہ سیاست ہے اور پاکستان میں اس کے جو انداز،نمونے اور مثالیں پائی جاتی ہیں۔شاید ہی کسی دوسرے جمہوری ملک میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہوں۔چونکہ جمہوریت کی بنیاد کافرانہ و مشرکانہ عقائد و نظریات پر قائم ہے اس لئے اس کے باطل و فاسد ہونے میں تو کوئی شک نہیںلیکن عملی جمہوری سیاست نے آج سے کئی دہائیاں قبل پاکستان میں جو بیج بوئے تھے آج اس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہے۔یہ جمہوری سیاست دان ہی تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان توڑنے اور بنگلہ دیش بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔پھر باقی بچے ہوئے پاکستان میں صوبوں کی سطح پر ،رنگ ونسل،علاقے اور زبان کی بنیاد پر نفرتوں اور عداوتوں کے بیج بوئے۔آج پاکستان میں جہالت،غربت،بیروزگاری،مہنگائی، بدامنی،دہشت گردی،کرپشن،بدعنوانی،دھوکہ وفراڈ،خیانت چوربازاری،ملاوٹ،رشوت اقرباء پروری اور قانون شکنی کے جو مظاہرے ہو رہے ہیں۔اس میں بنیادی اور مرکزی کردار جمہوری سیاستدانوں کا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک خصوصاًیورپی ممالک کے سیاستدانوں کے کوئی نظریات،اصول اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی پالیسیاں ہوں تو ہوںلیکن پاکستانی جمہوری سیاستدانوں کے کوئی عقائد، نظریات، اصول ہوتے ہیں اور نہ ہی ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ان کے پاس پالیسیاں ہوتی ہیں۔بلکہ ان کا واحد اور بنیادی نظریہ اور مقصدہے اقتداراور ہمہ وقتی اقتدار اور اس کے ذریعے قوم کے خزانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹناہے۔چونکہ سیاستدانوں کا واحد مقصد اقتدار ہے۔اس لئے ہمیشہ اقتدار میں رہنا ان کی مجبوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پاکستانی سیاستدان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حکومت میں شریک ہو ،چاہے اس کا تعلق اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے والی پارٹی سے ہو یا ہارنے والی اور حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے والی جماعت سے ہو۔اگر منتخب ہونے اور کامیاب ہونے والے ممبر کا تعلق حکومت بنانے والی پارٹی سے ہوتو پھر اس کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔اور اگر ہارنے والی جماعت سے ہو تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں حکومت میں شریک ہوا جائے۔چنانچہ بعض تو ”ضمیر کی آواز” پر لبیک کہتے ہوئے بعض عوام کے وسیع تر مفاد کے پیش نظراور بعض فارورڈبلاک بنا کر حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔اور جس پارٹی کے ٹکٹ پر اس نے انتخاب جیتا تھا اس کے قائدین اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔
چونکہ سیاستدانوں کا واحد مقصد اقتدار ہے۔اس لئے وہ کسی نظریے، اصول اور پالیسیوں کی بنیاد پر نہیں۔بلکہ اس پارٹی اورجماعت میں شامل ہوتے ہیں جس کے بارے میں اسے یقین ہو آئندہ انتخابات میں اس کو اکثریت حاصل ہو گی اور اس کی حکومت بنے گی۔یہی وجہ ہے کہ ہر الیکشن کے موقعہ پر سیاستدان موسم اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں۔جوں جوں انتخابات کا زمانہ قریب آتا جاتا ہے۔سیاستدان فصلی بٹیروں کی طرح اڑان بھرنا شروع کر دیتے ہیںاور سیاسی جماعتوں کے قائدین ماہر شکاری کی طرح مختلف ترغیبی حربوں کے ذریعے انہیں شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب چند سیاستدان ایک جماعت میں شامل ہو جاتے ہیںتو دوسرے سیاستدان بھی ان کی دیکھا دیکھی اسی جماعت میں شامل ہونا شروع کر دیتے ہیں۔پھر بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس جماعت میں زیادہ سے زیادہ سیاستدان شامل ہونے لگیںاس کے قائدین کے لئے انہیں سنبھالنا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔گزرے وقتوں میں ایک جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہونے والوں کو ”لوٹا”کے خطاب سے نوازا جاتا تھا، پھر یہ خطاب سیاستدانوں کو اس قدر بھلا لگا کہ آج پاکستان میں شاید ہی کوئی سیاستدان ہو جس پر لوٹے کی تعریف صادق نہ آتی ہو۔
2008ء کے الیکشن کے نتیجے میں بننے والی حکومت کی آئینی مدت ابھی پورا ہونے میں کچھ وقت باقی تھا کہ حکومتی جماعتوں پر موسم خزاں آنے لگا،اس کے صوبائی و قومی اسمبلی ممبران خزاں کے پتوں کی طرح اپنی جماعتوں سے الگ ہونے لگے۔سیاسی جماعتوں کے قائدین نے انہیں آگے بڑھ کر خوش آمدید کہنے اور اپنی پارٹی کی مقبولیت اور مضبوطی کے شادیانے بجانے لگے۔فصلی بٹیروں کی اڑان یعنی سیاسی لوٹوں کی قلابازیوں کے متعلق انتہائی مختصرجائزہ یہ ہے۔ چونکہ11مئی2013ء کو ہونے والے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے اور حکومت بنانے کے زیادہ امکانات مسلم لیگ ن کے ہیں اس لئے دوسری جماعتوں کو چھوڑنے اور مسلم لیگ میں شامل ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔چنانچہ مسلم لیگ ق کو خیر آباد کہہ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔گوہر ایوب،عمر ایوب،زبیدہ جلال،دانیال عزیز،ماروی میمن،عرفان گل مگسی،خادم حسین وارن،صاحبزادہ شعیب اویس،امیر مقام،چوہدری عاصم نذیر،خالد احمد کھرل،سید فخر امام،شیخ وقاص اکرم،اسی طرح پی پی چھوڑنے والے اعجاز احمد ورک، اور بلوچستان سے لشکر ی رئیسانی نے پورے گروپ کے ساتھ مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے ہیں۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ”اصولوں کی سیاست”کا نعرہ لگانے والے میاں نواز شریف نے سابق آمر پرویز مشرف کے دست بازوبننے والے اور میاں صاحب کو داغ مفارقت دینے والے مسلم لیگ ق کے تقریباً تمام اہم رہنمائوں کو دوبارہ گلے لگا لیاہے۔چنانچہ ہمایوں اختر خان،اعجازالحق، حامد ناصر چٹھہ،ارباب غلام رحیم،طارق عظیم الغرض پوری مسلم لیگ ہم خیال میاں صاحب کی ہم خیال بن چکی ہے۔اور میاں صاحب نے انہیں معاف کر کے ”بڑے پن”کا ثبوت دیا ہے۔
تحریک انصاف کو بھی کئی لوٹوں نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ چنانچہ چند بڑے سیاسی نام یہ ہیں۔مسلم لیگ ن چھوڑنے والے مخدوم جاوید ہاشمی جو اب تحریک انصاف کے صدربن گئے ہیں۔پی پی پی چھوڑنے والے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سردار آصف علی۔مسلم لیگ ق چھوڑنے والے خورشید محمود قصوری ،جمیعت علمائے اسلام ف چھوڑنے والے اعظم سواتی ۔اس کے علاوہ مسلم لیگ ن چھوڑنے والے نیازی برادران بھی شامل ہیں۔پی پی پی کراچی کے سینیئر رہنما نبیل گبول ایم کیو ایم میں شامل ہو گئے ہیں۔اسی طرح صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاستدان جمعیت علمائے اسلام ف میں شامل ہوئے ہیں۔یہ انتہائی مختصر جائزہ ہے جبکہ سیاسی لوٹوں کی قلابازیوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے ۔اور جوں جوں انتخابات قریب آتے جائیں گے اس میں مزید تیزی آجا ئے گی۔پھر جب انتخابات ہوجانے کے بعد سیاسی مطلع صاف ہو جائے گااورجو ہارس ٹریڈنگ ہو گی اس کا مشاہدہ پاکستانی عوام کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانی عوام ہر مرتبہ ان لوٹوں کو کیوں منتخب کرتے ہیں؟جن کے نہ تو کوئی نظریات ہیں اور نہ اصول اور نہ ہی کوئی پالیسیاں ۔اس کا مختصر اور آسان جواب یہ ہے کہ بیچارے عوام انہی کو منتخب کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ جمہوری سیاست میںصرف جاگیردار،صنعت کار اور سرمایہ دار ہی منتخب ہو سکتے ہیں۔اور لوٹوں کی تمام خوبیاں ان ہی میں پائی جاتی ہیں۔لہٰذا جب تک جمہوریت ہے نہ تو لوٹوں کی سیاست رک سکتی ہے اور نہ انہیں حکومت سے باہر کیا جا سکتا ہے۔اور نہ ملک و قوم کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

Related posts