حیات و خدمات سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

مولانا محمد زاہد اقبال

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی دین اسلام کی بنیاد ہیں،کیوں کہ خدا کی توحید ،خاتم الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت،قرآن کی صداقت ،نبوی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور تعلیمات و ہدایات کا قولی اور عملی ثبوت انہی کے واسطہ سے ثابت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں ان کی صداقت،رشدوہدایت،صلاح و فلاح اور اپنی رضا کا بار بار اعلان کر دیا ہے۔اگر حضرات صحابہ کرام کو درمیان سے نکال دیا جائے تو دین اسلام کی پوری عمارت(نعوذبااللہ) دھڑام سے نیچے گر جائے گی اور اسلام کا کوئی ایک حکم، اصول، ضابطہ اور قانون کسی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکے گا۔دین اسلام میں حضرات صحابہ کرام کی اسی بنیادی حیثیت کی وجہ سے اسلام کے معاندین،مخالفین اور حاسدین کی ابتدائے اسلام سے ہی یہ ناپاک کوشش رہی ہے کہ ان مقدس ہستیوں کو طعن و تشنیع،اتہام و الزام اور دشنام طرازی کا نشانہ بنا کر دین اسلام کی بنیادوں کو ڈھایا جائے۔ چنانچہ عبداللہ بن سبا اور اس کی خبیث ذریت روز اول سے آج تک مسلسل اس مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔حضرات صحابہ کرام میں سے جن شخصیات کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ان میں سر فہرست جلیل القدر صحابی رسول امیرالمئومنین وخلیفة المسلمین سیدنا و مولانا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی ذات گرامی ہے۔
آپ وہ مظلوم صحابی ہیں جو نہ صرف دشمنان اسلام کے سب و ستم کا نشانہ بنے بلکہ اہلسنت والجماعت میں سے ہونے کے کئی ایک مدعی بھی آپ کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔حالانکہ آپ ایک جلیل القدر صحابی رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی خوبیوں اور اوصاف حمیدہ کے مالک تھے جن کا اعتراف نہ صرف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور آپ کو اپنی مقبول دعائوں سے نوازا بلکہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ آپ کی صفات کے معترف تھے۔ آپ نے بطور گورنر(والی)پھربطور خلیفة المسلمین جوبے پناہ و مثالی خدمات سر انجام دیں تب سے لیکر آج تک نہ تو ان کی مثا ل پیش کی گئی ہے اور نہ کسی نے ان سے انکار کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی بھی آپ کی حیات وخدمات ،شخصیت و کردار اور اخلاق و عادات کا مطالعہ کرتا ہے۔وہ آپ کی شخصیت کا گرویدہ ہوتا جاتا ہے۔آپ کی عظمت اس کے دل میں اتر تی جاتی ہے اور وہ آپ کی عقیدت و محبت میں ڈوب جاتا ہے۔
سیدنا امیر معاویہ کا خاندان کئی پشتوں سے قبیلے کا سپہ سالار اور سردار چلا آرہا تھا۔اس لئے سپہ سالاری اور سرداری آپ نے وراثت میں پائی تھی۔پھرگورنری کے طویل زمانے کے تجربات ومشاہدات نے آپ کی سیاسی بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں کو جلا بخشا تھا۔چنانچہ سیدنا حسن کو صلح پر آمادہ کرنااور ان کا آپ کے حق میں دستبردار ہونا ۔صلح کے بعد اور خلیفہ بننے کے بعدگذشتہ تقریباًپانچ سال سے جاری انتشا ر وافتراق اور خانہ جنگی کو ختم کرنا ،مخالفین ومعاندین کو مغلوب کرنا،وسیع و عریض خلافت اسلامیہ میں امن و امان قائم کرنا ،شرعی قوانین کو نافذ کرنا ،جہادی معرکوں کو وسعت دینا ،تمام اسلامی ممالک کو معاشی طور پر خوشحال اور مستحکم کرنا،متمدن دنیا کی عظیم سلطنتوں کا پوری جرات وشجاعت کے ساتھ مقابلہ کرنا،اور انیس سال کے طویل عرصہ میں مخالفین خصوصاًخارجیوں اور سبائیوں کی طرف سے کوئی بڑی اورمنظم بغاوت نہ ہونا ۔یہ تمام باتیں آپ کی بے پناہ سیاسی بصیرت اور ایمانی فراست کی واضح دلیل اور علامات ہیںاورتاریخ اسلام کا روشن اور تابندہ باب ہیں۔اور معاندین ومخالفین بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
امیر المئومنین و خلیفةالمسلمین سیدنا معاویہ اپنی صفات وخصائل حمیدہ،شخصیت و کردار،اخلاق و اعمال، اور بے پناہ علمی ،دینی، جہادی اور سیاسی خدمات کی وجہ سے اسلام کی تاریخ کا زندہ کردار ہیںاور تا قیامت کوئی ان کے کردار اور خدمات کو تاریخ کے صفحات سے مٹا سکتا ہے اور نہ اہل اسلام اور ارباب ایمان کے قلوب کی گہرائیوں میں آپ کی جو عظمت و محبت گھر کی ہوئی ہے،اسے کوئی ختم کر سکتا ہے۔ آپ تا قیامت آنے والے مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہِ ہدایت اور مینارئہ نورِ معرفت ہیں۔جس کی روشنی میں چلتے ہوئے وہ دنیا میں کامیابیاں اور آخرت میں سرمدی و ابدی کامرانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ رب ذوالجلال سے صمیم قلب کے ساتھ دعا ہے کہ وہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو امیرالمئومنین سیدنا معاویہ کی تمام ظاہری و باطنی صفات کو اپنا کر اور ان کے طرز حیات کو اختیار کر کے دنیا و آخرت کی سعادتیں حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

Related posts