سانحہ ارتحال مرکزی امیر تحریک نفاذ اسلام پاکستان حضرت اقدس مفتی حمیداللہ جان ۔ پریس ریلیزز

سانحہ ارتحال
انتہائی افسوس سے اعلان کیاجاتاہے کہ فقیہ العصر، مفتی اعظم پاکستان، شاگردرشید حضرت بنوری مرکزی امیر تحریک نفاذ اسلام پاکستان حضرت اقدس مفتی حمیداللہ جان بروز اتوار ۳۰اکتوبر، صبح10:30بجے اپنے آبائی علاقے لکی مروت میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔
”اِنا لِلہِ واِنا اِلیہِ راجِعون ”
جنازہ ان شا اللہ کل بروز پیر٣١اکتوبر، صبح دس بجے لکی مروت میں ادا کیا جائے گا۔

آپ ٦ شوال ١٣٥٩ ھ میں ضلع لکی مروت صوبہ خیبرپختونخوا میں پیداہوئے۔ آپ کے والدگرامی حضرت مولانا نیاز محمدصاحب رحمہ اللہ اپنے وقت کے جیدعالم دین اور مدرسہ امینیہ دہلی کے فاضل اور مفتی اعظم ہند مولانامفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ کے شاگردرشیدتھے اوردارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت کے بانی تھے ۔
آپ نے جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی سے شعبان ١٣٨٠ ھ بمطابق ١٩٦٠ء میں فراغت حاصل کی ۔صحیح البخاری اورجامع ترمذی امام العصر حضرت مولانا سیدمحمدیوسف بنوری سے اورحدیث کی دیگرکتب مولانالطف اللہ صاحب (جہانگیرہ والے) مولانافضل محمد سواتی ، حضرت مولانا ادریس میر ٹھی اور حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی رحمہم اللہ سے پڑھیں ۔
شوال ١٣٨٠ ھ سے آپ نے مادرعلمی دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت سے تدریس کاآغازکیا اور دارالعلوم سرحدپشاور ، دارالعلوم ٹل ضلع ہنگو ، دارالعلوم حنفیہ چکوال ، جامعہ مخزن العلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہورمیں شیخ الحدیث اورصدرمفتی کے فرائض انجام دیتے رہے۔شوال ١٤٣٢ ھ سے اپنے قائم کردہ مدرسہ جامعہ الحمیدعظیم آبادرائیونڈروڈلاہورکے اہتمام کے ساتھ ساتھ شیخ الحدیث کے منصب کورونق بخشی ۔حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجازاورجانشین حضرت اقدس مولاناعبدالعزیز رائے پوری رحمہ اللہسے بیعت ہوئے ،حضرت مولانا مفتی حبیب اللہ رحمہ اللہ(صدرمدرس دارالعلوم الاسلامیہ لکی مروت )اور حضرت مولاناشاہ عبدالقادر رائے پوری کے بھانجے اورخلیفہ حضرت مولانا حافظ عبدالوحید رائے پوری رحمہ اللہنے چاروں سلسلوں میں آپ کوبیعت وارشاد کی اجازت عطافرمائی۔جس کے بعد آپ نے سلوک وارشادکاسلسلہ شروع کردیا۔
آپ حضرت مولاناعبداللہ درخواستی کی قیادت میں جمعیت علما اسلام میں سرگرم عمل رہے اور صوبائی جنرل سیکرٹری سے لے کرمرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدوں پررہ کرشاندار کردار اداکیا۔
پاکستان میں شریعت بل کی تحریک میںبھرپورکرداراداکیا۔۔١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں بنوںاورلکی مروت میںزبردست جدوجہدکی۔بالآخر جمہوری سیاست سے مایوس ہوکرجمہوری سیاست کوخیربادکہا۔پھر٢٠٠٧ء میںتحریک نفاذاسلام کی بنیادرکھی۔جس کے پہلے مرکزی امیرشیخ الحدیث حضرت مولاناڈاکٹرشیرعلی شاہ رحمہ اللہ تھے جبکہ آپ کو مرکزی نائب امیر مقررکیاگیا۔حضرت مولاناڈاکٹرشیرعلی رحمہ اللہ کی وفات کے بعدآپ کومرکزی امیرمقررکیاگیا۔آپ نے اصول فقہ، فضائل علم،حدیث، ذکراوردیگرموضوعات پرکتب تصانیف کیں۔آپ کا مجموعہ فتاوی ارشادالمفتین ہے۔

img

آج پاکستان کے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مفتی حمیداللہ جان صاحب کا انتقال ہوگیا ہے.ان کی رحلت پر مجلس احراراسلام کے قائد حضرت پیرجی سید عطاء المہیمن بخاری مدظلہ،سید محمد کفیل بخاری،عبداللطیف چیمہ اور ڈاکٹر عمرفاروق احرار نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعاکی ہے کہ اللہ تعالی حضرت کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے

img

http://daily.urdupoint.com/livenews/2016-10-31/news-773391.html

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 اکتوبر2016ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے جامعہ اشرفیہ کے سابق صدر اور ممتاز عالم دین مولانا مفتی حمیداللہ جان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیاہے۔وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مفتی حمید اللہ جان مرحوم نے دین اسلام کی ترویج کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں٬شہبازشریف

http://dailyausaf.com/latestnews/2016-10-31/5033

اسلام آباد(نامہ نگار)وفا ق المدارس العربیہ پاکستان کے رہنماؤںمولانا شیخ سلیم اللہ خان ،مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ،مولانا انوار الحق حقانی نے معروف عالم دین اور بزرگ شخصیت مفتی حمیداللہ جان کے سانحہ ارتحال پر گہر ے رنج و غم اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفا ت کو دینی حلقو ں کیلئے عظیم سانحہ قرار دیا انہوں نے کہا کہ مولانا مفتی حمید اللہ جان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پر نہ ہوسکے گا انہوں نے ساری زندگی اشاعت دین اور احادیث کی خدمت میں بسر کی ان کی دینی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔وفا ق المدارس کے رہنما ؤں نے ملک بھر کے مدارس کے ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اداروں اور مساجد میں مفتی حمیداللہ جان کے ایصال ثواب کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں انہوں نے مفتی حمید اللہ جان کے درجات کی بلندی اور مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ۔

 لاہور ( کلچرل رپورٹر) جامعہ اشرفیہ لاہورکے سابق صدر مفتی اور ملک کے ممتاز عالم دین مولانا مفتی حمید اللہ جان علالت کے بعد 76 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا نیاز محمد کے مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ لکی مروت سے حاصل کی اور پھر جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاﺅن کراچی سے امتیازی حیثیت سے دورہ حدیث کرکے سند فراغت حاصل کی۔ وہ دارالعلوم اسلامیہ لکی مروت، جامعہ مخزن العلوم کراچی دارالعلوم حنفیہ چکوال میں درس و تدریس کے علاوہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں صدر مفتی اور استاذ الحدیث کے منصب پردین کی خدمت سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے اہلیہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں سمیت ہزاروں شاگرد اور عقیدت مند سوگوار چھوڑے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ آج صبح دس بجے ان کے آبائی علاقہ لکی مروت مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ میں ادا کی جائیگی۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، قاری ارشد عبید، حافظ اسعد عبید، مولانا محمد یوسف خان، محمد اکرم کشمیری، مولانا زبیر حسین، مجیب الرحمن انقلابی، عبدالرحیم چترالی، فہیم الحسن تھانوی اور دیگر نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مفتی حمید اللہ جان کی وفات سے ملک ایک جید عالم دین اور عالم باعمل سے محروم ہو گیا ہے۔ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی امیر مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا ڈاکٹر سعید عنایت اللہ، مولانا محمد مکی حجازی، مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج اور قاری محمد رفیق نے بھی مفتی حمید اللہ کی وفات پر اظہار تعزیت کیا ہے۔
img

Related posts