سودکاخاتمہ کیوں ضروری ہے؟ ٍٍ

اللہ تعالی نے انسان کو دنیامیں اس لیے بھیجاہے تاکہ وہ اس کے احکام وقوانین کے مطابق زندگی کزارے،اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے کائنات میں اسباب ووسائل پیدافرمائے ہیں،اوراس کے ساتھ ساتھ معاش وروزگارکے حصول کے لیے اصول وقوانین بھی عطافرمائے ہیں جن پر عمل کرناانسان پر لازم قراردیاہے ،اس لیے ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کے احکامات وتعلیمات کے مطابق رزق حلال حاصل کرے اور حرام سے بچے،اسلام میں معاش وروزگارکے جن ذرائع کوحرام قراردیاگیاہے ان میں ایک ذریعہ ”سود”ہے،اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں اور حضوراقدس ﷺنے اپنے مبارک ارشادات میں سودکی حرمت،قباحت،شناعت اور اس کے دنیاوی اوراخروی نقصانات اورخرابیوں کوواضح طورپر بیان فرمادیاہے تاکہ مسلمان انہیں پیش نظررکھتے ہوئے ہرقسم کے سودی کاروباراورلین دین سے بچیں۔

سودکی حرمت
قرآن کریم کی روشنی میں

(وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِج وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ)
”اورتم جو مال دیتے ہو سود پر کہ بڑھتا رہے لوگو ں کے مال میں ‘سو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے ہاں ‘اور جو دیتے ہو زکوٰة کے طور پر تاکہ اللہ کی رضا حاصل کرو تو ایسے مال بڑھتے رہیں گے ”۔
(یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوا الرِّبٰوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةًص وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ)
”اے ایمان والو! مت کھاؤ سود بڑھتا چڑھتا ‘اور اللہ کی نا فرمانی سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔ اوربچو اُس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے”۔
(اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لاَ یَقُوْمُوْنَ اِلاَّ کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط فَمَنْ جَآئَ ہ مَوْعِظَة مِّنْ رَّبِّہ فَانْتَہٰی فَلَہ مَا سَلَفَط وَاَمْرُہ اِلَی اللّٰہِط وَمَنْ عَادَ فَاُولٰئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِط وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ)
”جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں اُٹھیں گے(روزِ قیامت) مگر جس طرح اُٹھتا ہے وہ شخص جس کے حواس کھو دیے ہوں شیطان نے لپٹ کر۔ یہ حالت ان کی اس وجہ سے ہوئی کہ وہ کہتے تھے تجارت بھی تو ایسے ہی ہے جیسے سود لینا۔ حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے تجارت کو اور حرام کیا ہے سود کو۔ پھر جس کو پہنچی یہ نصیحت اس کے ربّ کی طرف سے اور وہ باز آگیا تو اس کے لیے ہے جو پہلے لے چکا’ اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ‘اور جو کوئی پھر سود لے گاتووہی لوگ ہیں دوزخ والے ‘وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ۔مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔ اور اللہ پسند نہیں کرتا ہرناشکر گزاری کرنے والے گناہ گار کو”۔
(یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہج وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُئُ’وْسُ اَمْوَالِکُمْج لاَ تَظْلِمُوْنَ وَلاَ تُظْلَمُوْنَS وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة اِلٰی مَیْسَرَةٍط وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْر لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَT وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِقف ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ)
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو کچھ سود میں سے با قی رہ گیا ہے اگر تم مؤمن ہو۔پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جاؤلڑنے کو اللہ اور اس کے رسولﷺسے۔ اور اگر تو بہ کرتے ہو تو تمہارے لیے ہے تمہارا اصل مال۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر ظلم کرے ۔اگر مقروض تنگ دست ہے تو مہلت دینی چاہیے سہولت ہونے تک ۔اور بخش دو تو یہ بہتر ہے تمہار ے لیے اگر تم سمجھو۔اور ڈرتے رہو اُس دن سے جس دن لوٹائے جاؤ گے اللہ کی طرف۔ پھر پورا پورابدلہ دے دیا جائے گا ہرشخص کو اُس کاجو اُس نے کمایا اور اُن پر ظلم نہ ہو گا ”۔

سودکی حر مت
احا دیث مبا رکہ کی روشنی میں

 

1ـ عَنْ جَا بِرٍؓ : قَالَ : لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺآکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَہ وَکَاتِبَہ وَشَا ھِدَیْہِ وَقَالَ : ((ھُمْ سَوَائ )) (مسلم )
حضرت جا برؓ سے روا یت ہے کہ رسو ل اﷲﷺ نے لعنت فر ما ئی سود لینے اور کھا نے وا لے پر اور سود دینے اور کھلا نے وا لے پر اور اس کے لکھنے والے پر اور اس کے گوا ہو ں پر۔ اور آپ ﷺنے فر ما یا:”(گنا ہ کی شرکت میں ) یہ سب برا بر ہیں”۔
2 ـ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَةَ ص قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ((اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ حُوْبًا اَیْسَرُھَا اَنْ یَّنْکِحَ الرَّجُلُ اُمَّہ)) (ابن ما جہ )
حضرت ابو ہریر ہص سے روایت ہے کہ اﷲ کے رسو لﷺ نے فر ما یا:”سو د خوری کے گناہ کے ستر حصے ہیں۔ ان میں ادنیٰ اور معمو لی ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے”۔
3 ـ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَنْظَلَةَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖﷺ: ((دِرْھَم رِبًا یَّاْکُلُہُ الرَّجُلُ وَ ھُوَ یَعْلَمُ اَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَّ ثَلَاثِیْنَ زَنْیَةً)) ( مسند احمد)
حضرت عبد اللہ بن حنظلہ ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :” سود کاایک درہم جس کو آدمی جان بوجھ کر کھاتا ہے ‘چھتیس بارزنا سے زیادہ گناہ رکھتا ہے”۔
5 ـ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَةَ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ((اَتَیْتُ لَیْلَةَ اُسْرِیَ بِیْ عَلٰی قَوْمٍ بُطُوْنُھُمْ کَالْبُیُوْتِ فِیْھَا الْحَیَّاتُ تُرٰی مِنْ خَا رِجِ بُطُوْ نِھِمْ’ فَقُلْتُ مَنْ ھٰؤُلَا ئِ یَا جِبْرَائیْلُ ؟ قَالَ: ھٰؤُلَائِ اَکَلَةُ الرِّبَا)) (ابن ما جہ )
حضرت ابو ہریر ہص سے روایت ہے کہ اﷲ کے رسو لﷺنے فرمایا: ”معراج کی رات میرا گزر ہوا ایک ایسے گروہ پر جن کے پیٹ گھروں کی طر ح تھے’جن میں سانپ بھرے ہو ئے تھے جو باہر سے نظر آتے تھے۔میں نے پو چھا جبرا ئیل! یہ کون لو گ ہیں ؟ انہو ں نے بتلا یا یہ سود خو ر لو گ ہیں”۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ ص عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖﷺ: ((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی النَّا سِ زَمَان لَّا یَبْقٰی مِنْھُمْ اَحَد اِلَّا آکِلُ الرِّبَا’ فَاِنْ لَّمْ یَاْ کُلْ اَصَا بَہ مِنْ غُبَارِہ)) (ابوداود’ ابن ما جہ )
حضرت ابوہریر ہص سے روایت ہے کہ اﷲ کے رسو لﷺسے مروی ہے: ”یقینا لوگوںپرایک ایسا زمانہ آئے گاکہ کو ئی نہ بچے گا لیکن وہ سو د کھانے وا لا ہو گا’ جو خود سود نہ کھا تا ہو گا تو اس کا غبا ر ضرور اُس کے اند رپہنچے گا۔”

سودخوری کا خطرناک انجام

مذکورہ آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں سودخوری کے خطرناک انجام کی وضاحت ہوچکی ہے،لہذا ایک سچے مسلمان اورکامل مؤمن کے لیے تویہ بات ہی کافی ہے کہ کائنات کے خالق اورمالک اللہ تبارک وتعالی نے سودکوحرام قراردیتے ہوئے اسے چھوڑنے کاحکم دیاہے ،اس لیے ایمان کاتقاضایہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان سودی کاروباراورلین دین کے قریب بھی نہ جائے ،اوراگراس میں ملوث ہے توفوراً اسے چھوڑدے اورسچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ اس سے مکمل طورپربچنے کاپختہ ارادہ کرے۔
آخرت کے حوالے سے سودکاسب سے بڑا گھاٹا اورعظیم نقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی اللہ تبارک وتعالیٰ کانافرمان بن جاتاہے،جس کے نتیجے میں اسے جہنم کی خطرناک سزاؤں کاسامناکرناہوگا اورانسان کی سب سے بڑی بدبختی یہ ہے کہ وہ جہنم کی آگ میں داخل کردیاجائے،سودکادوسرابڑانقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے سودخورمیں مال ودولت کوزیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی حرص پیداہوجاتی ہے اوروہ اس میں اتنامست ہوجاتاہے کہ اسے اپنی بھلائی اوربرائی کی پہچان نہیں رہتی ،بالخصوص وہ آخرت کے خطرناک انجام سے غافل ہوجاتاہے ،اوراسے نہ موت یادرہتی ہے اور نہ قبروآخرت کی فکرہوتی ہے،سودکاتیسرابڑانقصان یہ ہے کہ سودخورکے اندرسے ایثاروسخاوت اوردوسروں کو فائدہ پہنچانے کا جذبہ ختم ہوجاتاہے،اوراس کے اندریہ خواہش پیداہوتی ہے کہ دوسروں کو نقصان اورمصیبت پہنچے ، تاکہ وہ مجبورہوکراس سے سودپررقم لیں،یہی وجہ ہے کہ سودخورکسی مصیبت وپریشانی میں مبتلاشخص پر رحم نہیں کرتابلکہ اس کی مصیبت سے ناجائزفائدہ اٹھانے کی کوشش کرتاہے ۔

دنیاوی،معاشی اور اقتصادی لحاظ سے سودکے بے شمارنقصانات ہیں جن میں سے چندایک یہ ہیں۔

سودکاسب سے بڑااوربنیادی نقصان یہ ہے کہ سودخورکے مال سے برکت ختم ہوجاتی ہے،اوراگر اس کا مال ظاہری طورپر بڑھ بھی جائے تومال ودولت کاجواصل مقصدہے یعنی راحت وسکون وہ اسے ہرگزحاصل نہیں ہوتا ،سودکادوسرادنیاوی اورمعاشی نقصان یہ ہے کہ معاشرے کے چنددولت مندلوگ بغیرکسی محنت ومشقت کے دولت کماتے ہیں اوراسے بڑھاتے جاتے ہیں جب کہ معاشرے کے اکثرافرادغربت کا شکارہوتے ہیں اوراپنی کمائی کا ایک بڑاحصہ سودخوروں کو اداکرتے ہیں،یعنی چنددولت مندتوروزبروز امیرسے امیرتر،جب کہ معاشرے کے اکثرافرادغریب سے غریب ترہوتے جاتے ہیں ۔
سودکاتیسرادنیاوی اور معاشی نقصان یہ ہے کہ سودی بینکوں کی وجہ سے غریبوں کی رقم بینکوں میں جمع ہوتی ہے تو بڑے بڑے سرمایہ داربینکوں سے سودی قرض لے کر بڑے بڑے کاروبارکرتے ہیں،اس طرح غریبوں کی رقم ان سرمایہ داروں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے ،پھراسی رقم سے وہ کاروبارکرکے اور فیکٹریوں اورکارخانوں میں چیزیں تیارکرکے انتہائی مہنگی قیمتوں میں بازارمیں فروخت کرتے ہیں ، اورغریب خریدتے ہیں توان کی رقم دوبارہ سرمایہ داروں کی جیبوں میں کئی گنا اضافہ کے ساتھ چلی جاتی ہے ۔
یادرہے کہ دنیا میں ہر کام کے لیے محنت اور سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔پھر کوئی بھی کام ایسا نہیں جس میں نقصان کا خطرہ نہ ہو۔ لیکن سرمایہ دار سود کی وجہ سے ہمیشہ نفع اٹھاتاہے اور اسے کبھی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔سودپررقم لینے والے آدمی کو اگرنقصان بھی ہو جا ئے تب بھی سودخور اپنا سود چھو ڑ نے کو تیار نہیں ہو تا، بعض اوقات سودی قرض لینے والے کی تما م کما ئی ‘ وسا ئل’ یہا ں تک کہ گھر اور گھر میں موجود ضروریاتِ زندگی بھی بک جاتی ہیں۔لیکن سود خور کی شقاوت و سنگدلی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اسے صرف اپنے نفع سے غرض ہوتی ہے۔
اشیاء کی قیمت کا تعین کرتے وقت دیگر اخراجات کے ساتھ سود کی ادائیگی اور سود کی وجہ سے دیگر خطرات(risks)کی پیش بندی کے لیے حد سے زیادہ منافع بھی شامل کیا جاتا ہے جس سے اشیاء کی مجموعی قیمت میںکئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے،اسی طرح سود کی وجہ سے ہر شے کے کرائے میں اضافہ ہوجاتا ہے خواہ وہ زمین’ دکان’ مشینری’کارخانہ یا ذرائع حمل و نقل ہی ہوں ‘ کیونکہ ان سب کی مالیت میں سود شامل ہوتا ہے۔
ملک پاکستان اس لیے حاصل کیاگیاتھاکہ اس میں اللہ تبارک وتعالی کے بھیجے ہوئے دین اسلام کے احکام وقوانین کونافذکیاجائے ،لیکن صدافسوس!پاکستان کے معرض وجودمیں آنے کے بعد سے آج(2015ء)تک پورے معاشرے میں انفرادی اوراجتماعی طورپر سودی کاروباراورلین دین جاری ہے،دکانیں،مارکیٹیں،فیکٹریاں ،بینکیں،تجارتی ادارے سودکی بنیادپرچل رہے ہیں،یہاں تک کہ آزادی کے بعدسے آج تک آنے والی ہرحکومت عالمی یہودی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اورورلڈبینک سے سودی قرضے لے کر پورے ملک کے انتظام کو چلارہی ہے،یعنی سات دہائیوں سے پوراملک سود کی بنیادپرچل رہاہے ، اورچونکہ سرمایہ داروصاحب اقتدارطبقے کامفاد سودی نظام میں ہے،اس لیے وہ اسے چھوڑنے کے لیے تیارنہیںاوریوںپورامعاشرہ اورملک اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ میں مصروف ہے،اناللہ واناالیہ راجعون۔
دستورِ پاکستان1973ء کی دفعہ38 میں طے کیا گیا کہُُُُ ملک کی اقتصادیات کو سود ی لین دین سے جلد از جلدپاک کرنا ریاست کی منصبی ذمہ داری ہے۔دستور میں واضح طور پر کہا گیا کہ 9 سال کے عرصہ میں ملک کے پورے قانونی’ معاشی اور معاشرتی نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھال دیا جائے گا۔
29 ستمبر1977ء کو صدر ضیاء الحق نے اسلامی نظریاتی کونسل کو غیرسودی معیشت کے قیام کے لیے سفارشات مرتب کرنے کا کا م تفویض کیا،چنانچہ 25 جون 1980ء کو اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی حتمی رپورٹ صدر ضیاء الحق کو پیش کی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
1981ء میں وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی’ لیکن یہ پابندی لگا دی گئی کہ دس سال تک ملک کے مالی معاملات عدالت کے دائرئہ کار سے باہر رہیں گے۔
14 نومبر 1991ء کو وفاقی شرعی عدالت نے جسٹس تنزیل الرحمن کی سربراہی میں طویل سماعت کے بعد Bank Interestکو ‘ربا’ قرار دیا اور حکومت کو چھ ماہ کی مہلت دی ‘تاکہ وہ ملکی معیشت کو سود سے پاک کر دے ،لیکن اس وقت کی نواز شریف حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی اور اگلے آٹھ سال تک اس اپیل کی سماعت بھی نہ ہوسکی۔
1999ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے وفاقی شرعی عدالت کے 1991ء کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ حکومتی اپیل کی سماعت کی اور 23 دسمبر1999ء کو حکومت کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی تو ثیق کی اور حکومت کو خاتمۂ سود کے لیے 30جون2001ء تک کی مہلت دی۔ حکومت نے رازداری سے اس فیصلے کے خلاف ایک سرکاری بینک UBLکے ذریعے نظر ثانی کی اپیل دائر کردی،اورسپریم کورٹ سے سودی معیشت کے خاتمہ کے لیے مزید مہلت طلب کی اور سپریم کورٹ نے حکومت کو مزیدایک سال کی مہلت دے دی۔
6جون سے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے UBLکی طرف سے دائرکردہ نظر ثانی کی اپیل کی سماعت شروع کی،پھرسپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے دسمبر1999ء کے تاریخ ساز فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور معاملے کو دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کی طرف کر دیا کہ وہ از سرِ نو تمام معاملات پر نظرثانی کرے۔
6اکتوبر2015ء کوسپریم کورٹ نے سودی نظام کے خاتمے کے لیے دائر درخواست کوخارج کردیا اورکیس کی سماعت کرنے والے جج جسٹس سرمدجلال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ”جوسودنہیں لیناچاہتے وہ نہ لیں ،جولے رہے ہیں ان سے اللہ پوچھے گا ،عدالت سے باہرمدرسہ کھول کر لوگوں کو سودکے خاتمے کا سبق نہیں پڑھاسکتے ”(روزنامہ اسلام لاہور ،7اکتوبر2015ئ)
سپریم کورٹ کے جج کے مذکورہ توہین آمیز ریمارکس سے پاکستان کی عدالتوں بلکہ پورے نظام کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اس نظام کا اسلام اور اسلامی احکام وقوانین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس لیے ہرمسلمان پر فرض ہے کہ وہ خودبھی سودی کاروباراورلین دین سے بچے اورمعاشرے اورملک سے سودی نظام کے خاتمے کے لیے بھرپورجدوجہد کرے،جس کابہترین طریقہ یہ ہے کہ جوجماعتیں اسلامی نظام کے قیام کے لیے انقلابی جدوجہدکررہی ہیںان میں شمولیت اختیارکرے۔
الحمدللہ اہل حق کی نمائندہ جماعت ”تحریک نفاذاسلام ”اسلامی نظام خلافت کے قیام کے لیے کوشاں ہے،لہذااس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرکے اس کی جدوجہدکوآگے بڑھائیے اوردنیاوآخرت کی سعادتیں اورکامیابی حاصل کیجئے،اللہ تعالیٰ ہماراحامی وناصرہو،آمین۔

 

Related posts