سیاست ایک سنگدلانہ اورخود غرضانہ کھیل

ڈاکٹرصفدرمحمود

 

زندگی کاسفر بھی بڑاعجیب ، دلچسپ اورمنفرد سفرہوتاہے کہ ایک ہی وقت میں سفرکرنے والے لوگ مختلف تجربات سے گزرتے ہیں اورعام طورپرہرایک کے تجربات دوسروں سے الگ اورمختلف ہوتے ہیں ۔ دوسگے بھائی اوردوقریبی دوست اپنااپنا مقدرلے کرپیداہوتے ہیں ۔ کسی کی کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے ، کسی کی کشتی ہچکولے کھاتے کھاتے منزل پرپہنچ جاتی ، کسی کی کشتی ہچکولے کھائے بغیر نہایت سکون سے کنارے پرپہنچ جاتی ہے ۔

میرے تجربے ، مطالعے اورمشاہدے کے مطابق سیاست اوراقتدار کاکھیل بہت خو دغرضانہ اورسنگدلانہ ہوتاہے جہاں ہرکھلاڑی دوسرے کومات دینے کی کوشش میںمبتلارہتاہے اورعام طورپراپنے مقاصد کے حصول کے لئے دوسروں کوقربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، اگرآپ کبھی غورسے مغلیہ خاندان کی اقتدار کی جنگوں اورقتل وغارت کی داستانیں پڑھیں توآپ کواندازہ ہوگاکہ اقتدار کاکھیل کتناسنگدلانہ اورخود غرضانہ ہوتاہے ۔ بے شک اب بادشاہتیں صفحہ ہستی سے مٹ چکیں اوراب بادشاہ صرف تاش کے پتوں میں پائے جاتے ہیں لیکن اگر آپ روشن چہرہ جمہور تیوں اورترقی یافتہ ممالک میں سیاست کے کھیل کے پس پردہ جھانکیں تومحسوس ہوتاہے کہ اگرچہ اب بادشاہتوں والاانداز بدل چکاہے لیکن جذبہ محرکات، خواہش اورآرزو نہیں بدلی اورنہ ہی انسانی فطرت بدلی ہے ۔ صرف اس خواہش اورآرزو کے خواب کوشرمندہ تعبیر کرنے کے طریقے بدل گئے ہیں لیکن اقتدار کے حصول میں ساتھیوں کوقربان کرنے اوربھینٹ چڑھانے کی جہاں جہاں ضرورت پڑتی ہے ، اس سے ہرگز دریغ نہیں کیاجاتا۔

میں عینی شاہد ہوں کہ دوسگے سیاستدان بھائیوں میں سے جب ایک اقتدار میں تھا تودوسرانجی محفلوں میں اکثر کہاکرتاتھاکہ بھائی صاحب کوحکومت کرنی اورسیاست کرنی نہیں آتی ۔ ان سے کہوکہ ایک طرف ہٹ جائیں اوراقتدار مجھے دیدیں۔ میں ان کودکھائوں گاحکومت کیسے چلائی جاتی ہے ۔ اس سنگدلانہ کھیل کی بہترین مثال میں نے خود اپنے کانوں سے سنی ۔ حافظ الاسد کے دور میں شام کے وزیراعظم محمود صاحب ہوتے تھے جن کانام میرے نام کے دوسرے حصے سے ملتاہے ورنہ وزیراعظم اورمیںایک معمولی شہری ۔ انہوں نے ایک محفل میں یہ واقعہ اس وقت سنایاجب عراق کے صدر صدام حسین کواطلاع ملی کہ ان کا وزیرتعلیم کبھی کبھی ان کے خلاف باتیں کرجاتاہے اوران کے لئے خطرہ بن سکتاہے ۔ صدام حسین نے اسے قتل کروادیا ۔ اقتدار کے لئے قتل کروانا تومعمولی بات ہے لیکن اس اس کہانی کاکلائمیکس یہ ہے کہ وزیر تعلیم کوقتل کروانے کے بعدجو جوسب سے پہلاشخص اس کی بیوہ کے پاس تعزیت اوراظہار غم کے لئے پہنچاوہ خود صدام حسین تھا۔

سیاست میں ایساہوتاآیا ہے اب بھی ہوتاہے اورآئندہ بھی ہوتارہے گا،فرق صرف اندازاورطریقہ واردات کاہے ۔ مہذب اورترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی سیاسی مخالفین اوربعض اوقات اپنے سیاسی رقیبوں اورراستے میں رکاوٹ بننے والوں کونہایت خوبصورتی سے کھڈے لائن لگادیاجاتاہے اوراس مقصد کے حصول کے لئے میڈیاکواستعمال کیاجاتاہے ۔ وہ اس طرح کہ جس کواقتدار کی دوڑ سے نکالنا مقصود ہوتاہے اس کاکوئی نہ کوئی سیکنڈل ڈھونڈ کراچھال دیاجاتاہے اوروہ سیکنڈل اس کے ”گوڈوں گٹوں”میں اس طرح بیٹھتاہے کہ وہ دوڑنے کے قابل نہیں رہتا۔ سیاسی کرداروں کی بظاہر قربت اورنمائشی خلوص وخوشامد پرمت جائیے آپ اقتدار کی دوڑ اورریس جہاں بھی دیکھیں گے وہاں آپ کو سازشوں کاپھیلا ہواجال نظرآئے گا ۔ خود صاحب اقتدار کے اردگرد موجود درباری ایک دوسرے کونیچادکھانے اورپیچھے ہٹانے میں مصروف رہتے ہیں ۔ حکمران کی قربت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوشامدکرتے ہیں اورباس کے کان دوسروں کے خلاف بھرتے رہتے ہیں ۔

اقتدارکی قربت دورسے نہایت حسین دلکش اورپرفریب نظرآتی ہے لیکن اگرآپ اسے قریب سے دیکھیں اوراندرون خانہ کے معاملات کی خبرلیں تواندرونی سازشوں ، ایک دوسرے کے خلاف چالوں اورمخلص منافقت دیکھ کرنہ صرف طبیعت مکدرہوجاتی ہے بلکہ اس سے گھن آنے لگتی ہے ۔ امریکی جنرل میک کرسٹل کومستعفی ہوناپڑا۔میک کرسٹل کوکبھی افغانستان کابے تاج بادشاہ کہاجاتاتھا ۔ اس کے مستعفی ہونے کاسبب اس کاانٹرویوتھاجس میں اس نے صدراوباماکاتمسخر اڑایا۔ میرے مشاہدے کے مطابق جرنیلوں اوربعض اقتدار کے نشے میں مدہوش افسران کایہ وطیرہ ہوتاہے کہ وہ اپنی محفلوں میں صاحبان اقتدار خاص طورپرصدر اوروزیر اعظم کاریکارڈ لگاتے رہتے ہیں اوران کے لطیفے سناتے رہتے ہیں ۔ حکمرانوں کی عقل ودانش کامذاق اڑانا توعام سی بات ہے ۔ میک کرسٹل کے نکالے جانے والے انٹرویو کو بعض امریکی تجزیہ نگارایک سازش سمجھتے ہیں ، ایک جال کہتے ہیں جس میں جنرل کسی معصوم یانیم مدہو ش لمحے پھنس گیا ۔ میں نے یہ تجزیہ پڑھاتو مجھے یہ نقطہ نظربالکل قرین قیاس لگاکیونکہ اقتدر کے اردگرد کئی کھیل کھیلے جاتے ہیں جن میں ایک کھیل اپنے ناپسندیدہ کرداروں کوپھانسنابھی ہوتاہے اورحکمران کواپنی وفاداری کاثبوت دینابھی ہوتاہے ۔ ضرورت سے زیادہ سیانے تویہ بھی کہتے ہیں کہ اکتوبر1999ء میںکولمبو جانے سے پہلے اس وقت کاآرمی چیف جنرل پرویز مشرف سارے انتظامات کرکے گیاتھا کہ اگراسے اس کی غیر حاضری میںنوکری سے نکالاجائے توکیاکرناہے ۔ وہ اپنے قریبی جرنیلوں سے حکمت عملی طے کرکے گیاتھااوریہی وجہ ہے کہ لمحوں کے اندراندرجنرل عثمانی نے کراچی سنبھال لیااورشام کے سائے ڈھلنے سے قبل جنرل محمود نے وزیراعظم ہائوس پرشب خون ماردیا ۔ جب نیچے کاروائی جاری تھی توشاید جنرل پرویز مشرف ابھی ہواکے دوش پرسوار تھا۔ ضرورت سے زیادہ سیانے کہتے ہیں کہ دراصل میاں صاحب کے کچھ مشیروں نے ا نہیں آرمی چیف کوہٹاکر جنرل بٹ کے کندھے پرستارے سجانے اورہوائی جہاز کو کراچی سے دورکسی مقام پراتارنے کامشورہ دے کرخود میاں صاحب کے خلاف سازش کی تھی ۔ خداجانے اصل بات کیاہے لیکن ظاہر ہے کہ اس وقت اقتدار کی جنگ جاری تھی اوردونوں حریف نہ صرف اپنی چالیں چل رہے تھے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہرحربہ استعمال کررہے تھے ۔

اقتدارکی جنگ ہمیشہ کشمکش کوجنم دیتی ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں تویہ کشمکش ہمیشہ گل کھلاتی رہی ہے ۔ گورنر جنرل غلام محمد اوروزیر اعظم ناظم الدین کے درمیان کشمکش نے وزیر اعظم کوگھربھجوادیا ۔ 1958 ء میں مارشل لاء لگانے کے بعد جب سکندرمرزانے جنرل ایوب خان کوٹھکانے لگاناچاہاتواس نے چند جرنیل بھیج کر سکندر مرزاسے استعفیٰ لے لیاوراسے جلاوطن کردیا۔ صدرایوب خان اورکمانڈر انچیف یحیٰ خان کے درمیان کشمکش نے بالآخر ایوب صاحب کواستعفیٰ دینے پرمجبور کردیا۔ صدرضیاء الحق نے اپنے ہی مقرر کردہ وزیر اعظم کوڈسمس کردیا ۔صدرغلام اسحاق خان کی ہر وزیر اعظم سے کھینچاتانی اورکھٹ پٹ رہی۔ جب میاں نواز شریف نے ہیوی مینڈیت لے کراور58(2)Bکوحذف کرواکر جناب رفیق تارڑ کو صدربنایاتوان کے خیال کے مطابق وہ کشمکش اورکھینچاتانی سے بالکل محفوظ ہوگئے تھے لیکن جلدہی جنرل مشرف اوران کے درمیان محاذ کھل گیا جوبالآخر میاں صاحب کی قید وبنداورجلاوطنی پرمنتج ہوا۔ یارواب تومان جائو کہ سیاست کاکھیل بڑاخود غرضانہ اورسنگدلانہ ہوتاہے اوراقتدار کے اس کھیل میںبڑے بڑے قریبی رشتے ، دوست اورساتھی قربانی کابکربنادئیے جاتے ہیں اورحصول اقتدار کی بھینٹ چڑھادئیے جاتے ہیں ۔ ایساماضی میں بھی ہوتارہاہے اورمستقبل میں بھی ہوتارہے گافرق صرف انداز اورطریقہ واردات کاہے ۔(بشکریہ روزنامہ جنگ)

Related posts