عوامی حکومت کی” خدمات”

مولانا محمد زاہد اقبال

حکومت اور حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ رعایا اور عوام کے مسائل حل کریں اور ان کی ضروریات کوپورا کریں۔اس لئے کامیاب حکومت وہی سمجھی جاتی ہے جو زیادہ سے زیادہ عوام کے مسائل حل کرے اور ان کی ضروریات کوپورا کرے اور جو ایسا نہ کرے اسے ناکام شمار کیا جاتا ہے۔اور حکمرانی کے لئے نا اہل تصور کیا جاتا ہے۔جمہوری سیاست کا یہ تماشہ ملاحظہ ہو کہ جو سیاستدان عوام کو بدھو بنا کر ان کے ووٹوں کی پرچیوں کی بنیاد پر مسند اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں۔وہ عوامی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اور اپنی تجوریاں خوب بھر کر حکومت ختم ہونے کے بعد پھر عوام کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔اور دوبارہ انہیں سبزباغ دکھا کر ایوان اقتدار میں داخل ہوجاتے ہیں۔انتخابات کے دوران ہر پارٹی ملک و قوم کی فلاح و بہبود پر مشتمل منشور اور پالیسیوں کا اعلان کرتی ہے۔لیکن جب اسے حکومت بنانے کا موقع مل جاتا ہے تو اس کے وزیر،مشیر اور ارکان اسمبلی قومی خزانے پر ٹوٹ پڑتے ہیںاور جب تک اقتدار میں ہوتے ہیں ایسے ناموں،عنوانوں،حربوں اور ہتھکنڈوں کے ساتھ کرپشن کرتے ہیںکہ ان کی رپوٹیں پڑھ کر عوام سر پیٹ کر رہ جاتے ہیںلیکن کچھ نہیں کر سکتے۔2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں بر سر اقتدار آنے والی پی پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے کرپشن، بدعنوانی اور عوام دشمن پالیسیوں کے حوالے سے پچھلی تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام نے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس رپوٹ جاری کی ہے۔جس کے مطابق عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 186ممالک کی فہرست میں 146ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 49فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔اور پاکستان صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میںغریب ترین افریقی ملک کانگو سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔ افریقی ملک کانگو صحت پر جی ڈی پی کا2.1اورتعلیم پر 2.6فیصد خرچ کرتا ہے۔جبکہ پاکستان صحت پر جی ڈی پی کا 8.0فیصداور تعلیم پر 8.1فیصد خرچ کرتا ہے۔(روزنامہ نوائے وقت لاہور 29مارچ2013 ئ)
غیروں کے بعد اب اپنوں کی بھی گواہی ملاحظہ ہو ،سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ جاری کی ہے کہ پاکستان میں ہر بچہ 83ہزار روپے کے قرض کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ملکی اور غیر ملکی قرضے 15ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔اشیاء ضرورت کی چیزوں میں اوسطاً225فیصد اضافہ ہوا۔59عوام کو ضرورت کے مطابق خوراک نہیں ملتی اور تقریباً30فیصد لوگ بھوکے سونے پر مجبور ہیں۔(روزنامہ جنگ لاہور23مارچ 2013) اب ملکی سرکاری خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے5سالہ زرداری حکومت کی کارکردگی کے متعلق رپورٹ پیش خدمت ہے جو نگران حکومت کو پیش کی گئی ہے۔خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت نے غیر ملکی قرضوں کا حجم 70ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔5سالہ دور حکومت میں 10ارب ڈالر سے زیادہ کرپشن کی گئی۔اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں 200فیصد اضافہ ہوا۔غربت 50فیصد بڑھ گئی۔بجلی اور گیس کے بحران کی وجہ سے ملک کی صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نہ بڑھنے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں 175فیصد اضافہ کیا گیا۔5 سالہ دور میں ریلوے،پی آئی اے،او جی ڈی سی ایل،واپڈا، ڈرگ ریگولر اتھارٹی،کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی،ایف بی آر اور پورٹس اینڈ شپنگ کے محکموں کی کا ر کردگی بدترین رہی۔اور ان محکموں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی۔(روزنامہ نوائے وقت لاہور3اپریل2013ئ)
بجلی اور گیس کا بحران ہو،تیل اور اشیائے ضرورت میں بے تحاشہ اضافہ ہو،غیر ملکی قرضوں کا حجم 70ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے،غربت 50فیصد سے بھی بڑھ جائے،ہر پاکستانی بچہ83ہزار روپے کا مقروض پیدا ہو رہا ہو،59فیصد لوگوں کو ضرورت کے مطابق خوراک نہ مل رہی ہو،30فیصد لوگ بھوکے سونے پر مجبور ہوں،ان تمام حالات کابنیادی سبب کرپشن ہے۔روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند کرنے والوں نے عوام سے ہر چیز چھین لی ہے اور اسے دیا کچھ بھی نہیں۔غریب عوام کے”غریب نمائندے”مسلسل 5 سال تک اربوں روپے کی کرپشن کر کے”عوامی خدمات ” کے ریکارڈ قائم کرتے رہے ۔5سالہ حکومت کے دوران ہی کرپشن کے کئی سیکنڈل منظرعام پر آئے اور کئی وزراء اور حکومتی عہدیداروں پر مقدمات درج ہوئے۔عدالتیں کیس کی سماعت کر رہی ہیں۔اور حکومتی وزراء اپنے منصبوں پر براجمان رہے بلکہ زرداری حکومت کا یہ طرئہ امتیاز رہا کہ جو وزیر یا حکومتی عہدیدار کرپشن میں پکڑا گیایا اس کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات دائر ہوئے انہیں زیادہ نوازا جاتا رہا۔بلکہ رینٹل پاور پروجیکٹ کیس کے مرکزی ملزم راجہ پرویز اشرف کو وفاقی وزیر کے عہدے سے ترقی دے کر وزیر اعظم بنا دیا گیا۔صدر زرداری سمیت پی پی کا شاید ہی کوئی مرکزی رہنما اور وفاقی و صوبائی وزیر ایسا ہو گا جس کا کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہ آیا ہو۔ دونوں سابق وزرائے اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف،پی پی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم، یوسف رضا کے بیٹے موسیٰ گیلانی،راجہ پرویز اشرف کے داماد ،وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین،وفاقی وزیر سید حامد سعید کاظمی کے علاوہ کئی مرکزی رہنمائوںپر اب بھی اعلیٰ عدالتوںمیں کیس چل رہے ہیں۔ لیکن وہ انتخابات میں شریک ہو کر دوبارہ اقتدار میں آ نے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عوام کے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ ان کے نمائندے ہیں؟کیا یہی لوگ ملک و قوم کے خیر خواہ ہیں؟کیایہی لوگ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کرنے والے ہیں؟کیا یہی لوگ پاکستان کے مسائل حل کریں گے؟کیا یہی لوگ غربت،بیروزگاری اور مہنگائی کو ختم کریں گے؟کیا یہی لوگ پاکستان میں امن لائیں گے؟نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے؟اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک جمہوری سیاست کا راج ہے اور سرمایہ دارانہ نظام نافذ ہے تب تک جمہوری سیاست کے موجودہ مظاہرے ہوتے رہیں گے۔مفادپرست،خودغرض،کرپٹ اور ملک و قوم کے دشمن عناصر کے ایجنٹ سیاستدان پیدا ہوتے رہیں گے۔بدعنوان، خائن،شرابی،زانی،سود خوراور سیرت وکردار سے عاری جاگیردار، صنعت کار اور سرمایہ دار منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچتے اور حکومت بناتے رہیں گے۔کئی کئی مرتبہ حکومتیں کرنے کے باوجود ملک وقوم کو تباہی کے دہانے تک پہچانے والے سیاسی لیڈر نئے انداز ،نئے حربوں،نئے وعدوں اور نئے نعروں کے ساتھ قوم کو دھوکہ دے کر برسر اقتدار آتے رہیں گے۔اور اگر یہ سلسلہ مزید 65سال بھی چلتا رہے تو نہ تو ملک کے حالات تبدیل ہوں گے،نہ قوم کے مسائل حل ہونگے،نہ ان کی ضروریات پوری ہوں گی،اور نہ عوام کی تقدیر بدلے گی۔اس لئے اگر ملک و قوم کو سنوارنا اور اس کے حالات کو سدھارنا ہے تو جمہوری سیاست اور سرمایہ دارانہ نظام سے جان چھڑانا ہو گی۔ جمہوری سیاسی پارٹیوں اور ان کی لیڈر شپ کی غلامی کا طوق گلے سے اتارنا ہوگااور اسلامی انقلاب برپا کر کے اسلامی نظام لانا ہوگا۔

Related posts