غلام اور جھوٹے

ڈاکٹرمحمد اجمل نیازی

اعتزاز احسن اپنی صابر بیوی کیلئے ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوئے،جھوٹ بولا کہ میں جورو کا غلام ہوں۔جبکہ ان کی بیوی کو تو اپنے صبر کا اجرملنا چاہیے۔یہ نہیں ہوگا کہ دونوں مرنے کے بعد مختلف مقامات پر ہوںگے؟اعتزاز نے نواز شریف کیلئے بھی یہی کہا۔کلثوم نواز بھی اپنے میاں کی ذاتی سرگرمیوں پر اعتراض نہیں کرتیں۔صدر زرداری کا نام بھی لیا گیا۔بی بی کے مرنے کے بعد ان کے قتل کی تفتیش بھی نہیں ہونے دی تو صدر زرداری واقعی جورو کے غلام ہیں۔ اعتزار نے عمران کا بھی نام لیا ہے۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ آج بھی عمران لندن جائے تو جمائما کے گھر ٹھہرتا ہے۔سیاستدانوں نے اپنے اثاثے بیرون ملک رکھے ہوئے ہیں۔عمران نے اپنے بیٹے باہر رکھ ہوئے ہیں۔یہ اثاثہ ہیں؟ہمارے سارے چھوٹے بڑے سیاستدان جورو کے غلام زبانی کلامی ہیںمگر وہ اپنی اپنی پارٹی لیڈر کے غلام ہیں،اس کے سامنے دم نہیںمار سکتے۔
جوپارٹی لیڈر ہیں وہ لیڈر نہیں ہیںوہ امریکہ کے غلام ہیں اور اب بھارت کے بھی غلام ہیں۔ہمارے حکمران اپنے آقا کے کہنے پر وطن بھی بیچنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔اور بے چارے عوام دوہرے غلام ہیں۔انہیں غلام بنانے میں حکام نے اپنی غلامانہ ذہنیت کو بھی تسکین پہنچانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے ظلم یہ کیا ہے کہ آزاد ملک پاکستان کو غلام بنا کر رکھ دیا۔رحمان ملک نے اعتزاز کی طرح بڑے فخریہ انداز میں کہا ہے کہ اگر ملک میں ایک بھی صادق اور امین شخص یعنی سچا اور دیانت دار شخص ہو تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹوں کا ملک ہے۔رحمان ملک نے جتنے جھوٹ بولے ہیںاتنی بار سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے ۔یہ ان کا سب سے بڑ ا جھوٹ ہے۔کئی سیاستدان یہ جھوٹ بھی اپنے جھوٹوں کو چھپانے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے اکثر بولتے رہتے ہیں۔اس میں حکومت اور اپوزیشن کی تخصیص نہیں ہے ۔اعتزاز احسن اوررحمان ملک ناکام ۔بدنام اور غلام ہونے میںایک دوسرے پر بازی لے گئے ہیں۔یہ ہر مغالطے میں قائد اعظم کو بیچ میں لے آتے ہیں۔اعتزاز کہتے ہیں کہ قائداعظم بھی63.62پر پورا نہیں اترتے ۔ وہ آج الیکشن لڑنے کا ارادہ کرتے تو ڈس کوالیفائی ہو جاتے۔وہ شخص جس کی سچائی،دیانت اور امانت کی گواہی غیر بھی دیتے ہیں۔قائد اعظم کی انگریزی تقریر سننے میں مگن ایک ان پڑ ھ بوڑھے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے یہ تو یقین ہے کہ یہ شخص جو بھی کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔اعتزاز،رحمان ملک،زرداری،نواز شریف،عمران خان اور سب سیاستدانوں کی تقریر سننے والا کہے گا کہ مجھے یہ تو یقین ہے یہ جو کچھ کہہ رہا ہے جھوٹ کہہ رہا ہے۔
جعلی ڈگری کا الزام ثابت ہونے پر سابق وزیر علی مدد وکٹری کانشان بنا کرنعرے لگا رہا ہے اور میڈیا ڈھٹائی سے یہ منظر سارے زمانے کو دکھا رہا تھا۔شیخ وقاص اکرم کو وزیر تعلیم بنایا گیااور اس کے پاس جعلی ڈگری ہے۔اس سے بڑی ڈھٹائی یہ ہے کہ وہ ق لیگ سے ن لیگ میں پھر آگیا ہے۔اسے اور نواز شریف کو مبارک ہو۔نواز شریف شیخ وقاص اکرم کو کبھی
وزیر نہیں بنائیں گے۔ان کے پاس غلاموں اور جھوٹوں کی کمی نہیںہے۔طارق عظیم ،امیر مقام،ہمایوں اختروغیرہ وغیرہ کا بھی بہت برا انجام ہو گا۔ماروی میمن شاید کامیاب ہوں کہ ق لیگ میں ان کی کارکردگی سے نواز شریف بہت متاثر ہیں۔
جمشید دستی کے کاغذات جعلی ڈگری کی وجہ سے مسترد ہوئے۔اس نے سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کراپنے آپ کو بچا لیا۔ اب پھر اس نے وہی چال چلی کہ پیپلزپارٹی سے استعفیٰ دے دیاکہ حنا ربانی کھر کے بھی کاغذات مسترد ہوں۔وہ اور ان کا شوہر اربوں روپے کے نادہندہ ہیں ۔یہ جعلی ڈگری سے بڑا جرم ہے بلکہ ظلم ہے۔ پرس ڈیڑھ لاکھ،گھڑی پچا س لاکھ،کپڑے پچھتر لاکھ،میک اپ وغیرہ ان گنت روپے،زیورات ایک کروڑ،گاڑی دو کروڑ،مگر آمدنی صرف چند لاکھ روپے،ٹیکس دو ہزار روپے،ہر حکومت میں وزارت الگ۔جمشیددستی تو صرف بدمعاش ہے۔بدمعاشی طور پر بھی جاگیر دار ہے ،اس کے کاغذات مسترد کرنے کا کسے حق ہے؟اس کے علاوہ سپیکر فہمیدہ مرزا نے کہاہے کہ میرے کاغذات کی جانچ پڑتال وہ کرے جو مجھ سے زیادہ صادق اور امین ہو۔یہ تو بہت مشکل ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ سوائے ان کے اس ملک میں ایک بھی آدمی اچھا آدمی نہیں۔رحمان ملک کا بھی یہی دعویٰ ہے ۔اس میں میری طرف سے تجویز ہے کہ محمد امین اور محمد صادق کے نام کے لوگ اگٹھے کر لئے جائیںمرزا اور بیگ کا کام بن جائے گا۔انہیں ”راضی” کر لیںاور اپنے کاغذات منظورکروالیں۔ سپیکر فہمیدہ مرزا نے اسمبلی کے آخری دن ریٹائرڈ سپیکر کے لئے کروڑوں کی مراعات منظور کرالیں۔اس کا فائدہ نااہل وزیر اعظم ،سابق سپیکر گیلانی کو بھی ہوگا۔اطلاعاًعرض ہے کہ وہ اڈیالہ جیل میںسابق سپیکر کی حیثیت سے گئے تھے۔فہمیدہ مرزا کے لئے بڑا موقع ہے؟
سارے غلاموں اور جھوٹوں کے لئے عرض ہے کہ ایک دفعہ امیر المئومنین حضرت عمر نے اپنے ایک گورنر کو عہدے سے ہٹا کر اونٹ چرانے پر لگا دیا۔لوگ آزاد پیدا ہوئے ہیں تم نے انہیں غلام کیسے بنایا؟حضرت رسول کریم ۖ کے پاس ایک آدمی آیا کہ میں بددیانتی ،جھوٹ اور سب برے کام کرتا ہوںمگر ایک کام چھوڑ سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو۔اس نے جھوٹ چھوڑاتو سارے برے کام خودبخود ختم ہوگئے۔جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے۔انسان خطا کا پتلا ہے مگر برائی پر قائم رہنا اور اس پر فخر کرنا سب سے بڑا جرم ہے۔
(بشکریہ ،روزنامہ نوائے وقت لاہور)

Related posts