فضائل وکمالات سیدناعمرالفاروق رضی اللہ عنہ

علامہ شبلی نعمانی

قانون فطرت کے نکتہ شناس جانتے ہیں کہ فضائل انسا نی کی مختلف انواع ہیں ا ور ہر فضیلت کا جدا راستہ ہے۔ممکن بلکہ کثیرالوقوع ہے کہ ایک شخص ایک فضیلت کے لحاظ سے تما م دنیا میںاپنا جواب نہیں رکھتا تھا لیکن اور فضائل سے اس کو بہت کم حصہ ملا تھا۔سکندر سب سے بڑا فاتح تھا لیکن حکیم نہ تھا ،ارسطو حکیم تھالیکن کشورستان نہ تھا۔بڑے بڑے کمالات ایک طرف چھوٹی چھوٹی فضیلتیں بھی ایک شخص میں مشکل سے جمع ہوتی ہیں۔بہت سے نامور گزرے ہیں جو بہادر تھے لیکن پاکیزہ اخلاق نہ تھے۔ بہت سے پاکیزہ اخلاق تھی لیکن صاحب تدبیر نہ تھے۔
اب حضرت عمرکے حالات اورمختلف حیثیتوں پرنظر ڈالو توصاف نظر آئے گا کہ وہ سکندر بھی تھے اور ارسطو بھی تھے۔مسیح بھی تھے اور سلیمان بھی۔تیمور بھی تھے اورنوشیرواں بھی۔اما م ابو حنیفہ بھی تھے اورابراہیم ادہم بھی۔سب سے پہلے حکمرانی اور کشورستانی کی حیثیت کو لو ۔دنیا میں جس قدر حکمران گزرے ہیں ہر ایک کی حکومت کی تہہ میں کوئی نہ کوئی مشہور مدبر یا سپہ سالارمخفی تھا ۔یہاں تک کہ اگر اتفاق سے وہ مدبر یا سپہ سالار نہ رہا تو دفعتاََ فتوحات بھی رک گئیں یا نظام حکومت کا ڈھانچہ بگڑگیا ۔
سکندرہر موقع پر ارسطو کی ہدایتوںکا سہارا لیکر چلتا تھا ۔اکبر کے پردے میں ابوالفضل اورٹو ڈرمل کام کرتے تھے۔ عباسیہ کی عظمت و شان برا مکہ کے دم سے تھی ،لیکن حضرت عمر کو صرف اپنے دست وبازوکابل تھا۔ خالد کی عجیب و غریب معرکہ آرائیوں کو دیکھ کرلوگوںکو خیال پیدا ہوگیا کہ فتح و ظفر کی کلید انہی کے ہاتھ میں ہے لیکن جب حضرت عمر نے ان کو معزو ل کر دیا تو کسی کو احساس تک نہ ہوا کہ کل میں سے کو ن سا پرزا نکل گیا ہے ۔سعد بن ابی وقاص فاتح ایران کی نسبت بھی لوگوں کو ایسا وہم ہو چلا تھا،وہ بھی الگ کردیئے گئے اور کسی کے کان پر جوںبھی نہ چلی ۔یہ سچ ہے کہ حضرت عمر خود سارا کام نہیں کرتے تھے اور نہ کر سکتے تھے لیکن جن لوگوں سے کام لیتے تھے ان میں سے کسی کے پابند نہ تھے ۔وہ حکومت کی کل کوا س طرح چلاتے تھے کہ جس پرزے کو جہاں سے چاہا نکال لیا اور جہاں چاہا لگالیا ۔مصلحت ہوئی تو کسی پرزے کو سرے سے نکال دیا اور ضرورت ہوئی تونئے پرزے تیار کرلئے۔دنیا میں کوئی حکمران ایسا نہیں گزرا جس کو ملکی ضرورتوں کی وجہ سے عدل وانصاف کی حدسے تجاوز نہ کرنا پڑاہو۔نوشیرواںکو زمانہ عدل و انصاف کا پیغمبر تسلیم کرتا ہے ،لیکن اس کا دامن بھی اس داغ سے پاک نہیں۔بخلاف اس کے حضرت عمر کے تمام واقعات کو چھان ڈالو ۔اس قسم کی ایک نظیر بھی نہیں مل سکتی ۔
دنیا کے اور مشہور سلاطین جن ممالک میں پیدا ہوئے ہیں ۔وہاںمدت سے حکومت کے قواعد اور آئین قائم تھے اور اس لیے ان سلاطین کو کوئی نئی بنیاد نہیں قائم کرنی پڑتی تھی۔ قدیم انتظامات یا خود کافی ہوتے تھے یا کچھ اضافہ کرنا پڑتا تھا ۔بخلاف اس کے حضرت عمر جس خاک سے پیدا ہوئے وہ ان چیزوں کے نام سے نا آ شنا تھی ۔خود حضرت عمرنے ٤٠ برس تک حکومت و سلطنت کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا اور آغازِ شباب تو اونٹوں کے چرانے میں گزارا تھا ۔ان حالات کے ساتھ ایک وسیع مملکت قائم کرنی اور ہر قسم کے ملکی انتظامات مثلاََ تقسیم صوبجات و اضلاع،انتظام محاصل ،صیغہء عدالت ،فوج داری اور پولیس،پبلک ورکس،تعلیمات،صیغئہ فوج کو اس قدر ترقی دینا اور ان کے اصول اور ضابطے مقرر کرنے حضرت عمر کے سوا کس کا کام تھا؟
تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا حکمران دکھا سکتے ہو؟ جس کی معاشرت یہ ہو کہ قمیص میں دس دس پیوند لگے ہوں ۔کاندھے پر مشک رکھ کر غریب عورتوں کے ہاں پانی بھر آتا ہو ۔ فرشِ خاک پر پڑارہتا ہو ۔بازاروں میں پڑاپھر تا ہو ۔جہاںجاتا ہو جریدہ و تنہا چلا جاتاہو۔ اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتا ہو،درو دربار ،نقیب و چائوش ،حشم و خدم کے نام سے آشنا نہ ہو۔اور پھر یہ رعب و داب ہو کہ عرب و عجم اس کے نام سے لرزتے ہوںاور جس طرف رخ کر تا ہو زمین دہل جاتی ہو ۔سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج رکاب میں لے کر نکلتے تھے ،جب ان کا رعب قائم ہوتا تھا۔عمر فاروق کے سفر شام میں سواری کے ایک اونٹ کے سوا اور کچھ نہ تھا لیکن چاروں طرف غل پڑا ہوا تھا کہ مرکز عالم جنبش میں آگیا ہے ۔
اب علمی حیثیت پر نظر ڈالو ۔صحابہ میں سے جن لوگوں نے خاص اس کام کو لیا تھا اور رات دن اس شغل میں بسر کرتے تھے ۔مثلا عبداللہ بن عباس،زید بن ثابت،ابوہریرہ ،عبداللہ بن عمر،عبداللہ بن مسعوداور ان کے مسائل اور اجتہادات کا حضرت عمرکے مسائل اور اجتہادات سے مواز نہ کرو ۔صاف مجتہد و مقلد کا فرق نظر آئے گا ۔ زمانہ ما بعد میں اسلامی علوم نے بے انتہا ترقی کی اور بڑے بڑے مجتہدین اور آئمہ فن پیدا ہوئے ۔مثلا امام ابوحنیفہ ،شافعی، بخاری ،غزالی ، رازی لیکن انصاف سے دیکھو حضرت عمرنے جس باب میں جو کچھ ارشاد فرمایہ اس پر کچھ اضافہ ہوسکا ؟مسئلہ قضاء و قدر ،تعظیم شعائراللہ ،حیثیت نبوت ،احکام شریعت کا عقلی و نقلی ہونا ،احادیث کا درجہ اعتبار ،خبر آحاد کی قابلیت احتجاج احکام خمس و غنیمت پر مسائل شروع اسلام سے آج تک معرکہ الآراء رہے ہیں اور آئمہ فن نے ان کہ متعلق ذہانت اور طباعی کا کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا ہے ۔لیکن انصاف کی نگاہ سے دیکھو حضرت عمرنے ان مسائل کوجس طرح حل کیا تھا۔تحقیق کا ایک قدم بھی اس سے آگے بڑھ سکا ؟تمام آئمہ فن نے یا ان کی پیروی کی یا انحراف کیا۔اگر ا نحراف کیا تو اعلانیہ غلطی کی ۔اخلاق کے لحاظ سے دیکھو تو انبیا کے بعد اور کون شخص ان کا ہم پایہ مل سکتاہے؟زہد و قناعت،تواضع و انکسار،خاکساری وسادگی ،راستی و حق پرستی ،صبر و رضا،شکر وتوکل،یہ اوصاف ان میںجس کمال کے ساتھ پائے جاتے ہیں،کیا لقمان ،ابراہیم ادہم ،ابوبکرشبلی، معروف کرخی میں اس سے بڑھ کر پائے جاسکتے ہیں؟

Related posts