مظلوم مسلمانوں کی مدد ایسے ہوتی ہے

مولانامحمد لقمان شاہد

برما اور شام کے مسلمانوں کی مظلومیت آج کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے۔ کیوں کہ مسلمانوں کی مظلومیت، بلکہ مغلوبیت اور محکومیت گزشتہ تقریبا دو صدیوں سے جاری ہے۔ اور یہ تب سے ہے، جب سے مغربی استعماری قوتیں عالمِ اسلام پر حملہ آور ہونا شروع ہوئی ہیں۔ شام کے مظلوم مسلمانوں کے آنسو ابھی تھمے نہ تھے، ان کی آہ و بکا ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کی چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ اور مدد و نصرت کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
الحمدللہ! دردِدل رکھنے والے اور امتِ مسلمہ کی مظلومیت پر کڑھنے اور مظلوم مسلمانوں کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والے حضرات شام کے بعد برما کے مظلوم مسلمانوں کی دادرسی کر کے اپنے ایمان و اسلام اور اسلامی اخوت و بھائی چارگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اور یہ ثبوت دینا بھی چاہیے۔ لیکن مسلمانوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد و نصرت کا ایک اَور انداز و طریقہ بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ آئیے ذرا اس کا بھی مطالعہ کریں۔ راجہ داہر کے خلاف ہونے والا جہادی معرکہ ایک نظر دیکھیے!
کچھ مسلمان عرب تاجر جزیرۂ سراندیپ (سری لنکا) میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔ سراندیپ کے راجہ کے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کے ساتھ بہت خوش گوار تعلقات تھے۔ جب ان تاجروں کا انتقال ہو گیا تو سراندیپ کے نیک دل راجہ نے اُن کے اہلِ خانہ کو ایک بحری جہاز میں سوار کر کے عراق کی طرف روانہ کر دیا۔ اِس نیکی عملی سے راجہ کا مقصد یہ بھی تھا کہ خلیفۂ وقت ولید بن عبدالملک کے ساتھ بہتر تعلقات کا کوئی سلسلہ قائم ہو جائے۔ راجہ نے اسی غرض سے ولید کے دربار کے لیے بہت سے بیش قیمت تحائف بھی ساتھ میں روانہ کرا دیے۔ ‘دیبل’ واقع قدیم ساحلی شہر تھا، جسے ‘بھمبھور’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بھنبھور گھارو کریک (خلیج) کے شمالی کنارے پر کراچی کے مشرق میں تقریباً 65 کلومیٹر (40میل) کے فاصلے پر سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں واقع تھا۔ جب جہاز دیبل کے قریب پہنچا تو راجہ داہر کے سپاہیوں نے جہاز پر حملہ کر کے تمام مال و متاع لوٹ لیا اور مسلمان عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ اِسی قید میں ایک مسلمان خاتون کی زبان سے بے اختیار فریاد نکلی:
‘اے حجاج! ہماری مدد کرو!’
جب حجاج کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو اس نے کہا:
‘مَیں ابھی مدد کو پہنچتا ہوں!’
اوّلاً حجاج نے مصالحت سے کام نکالنا چاہا۔ اُس نے راجہ داہر کو لکھا:
‘آپ کے آدمیوں نے ہماری عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اُنہیں واپس کرا دو!’
مگر راجہ داہر ایک شیطان صفت حکمران تھا۔ اُس نے جواب دیا:
‘یہ واقعہ سمندری ڈاکوؤں کی طرف سے پیش آیا ہے۔ مَیں اِس معاملے میں بے اختیار ہوں!’
اب حجاج کے پاس فوج کشی کے سوا کوئی دوسری راہ نہیں تھی۔ اُس نے عبداللہ اسلمیٰ کو کو چھ ہزار فوجیوں کے ساتھ سندھ کی سرحد (دیبل) پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جب عبداللہ اسلمیٰ جنگ میں شہید ہو گئے تو پھر حجاج نے بدیل بن طہفہ بجلی کو چھ ہزار فوجیوں کے ہمراہ روانہ کیا، لیکن بدیل میدان جنگ میں گھوڑے سے گر کر شہید ہو گئے۔ اب کے حجاج نے اپنے نوجوان بھتیجے ‘محمد بن قاسم’ کو چھ ہزار شامی فوجیوں کے ہمراہ راجہ داہر کی قید میں مسلمانوں کی دادرسی کے لیے روانہ کیا۔ محمد بن قاسم نے دیبل پہنچتے ہی شہر کا محاصرہ کر لیا۔ اُس نے اپنی فوج کے آگے خندق کھودی اور مجاہدینِ اسلام کی صفیں ترتیب دیں۔ منجنیقیں بھی مناسب مقامات پر نصب کر دی گئیں۔
دیبل ایک تِیرتھ گاہ (ہندوؤں کا مقدس مقام) تھا۔ شہر کے درمیان میں ایک بہت بڑے مندر میں بت تھا۔ مندر کی شان دار عمارت پر ایک بہت اونچا مینار بنا ہوا تھا، جس کے بُرج پر ایک بہت بڑا سرخ جھنڈا نصب تھا۔ ایک دن مسلمانوں نے تاک کر منجنیق سے نشانہ لگایا تو مندر کے مینار کی بُرجی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور شرک کی علامت وہ نام نہاد مقدس سرخ جھنڈا زمین پر آ گرا۔ ہندومت کی وہمی مزاج پیروکاروں نے اسے بدشگونی سمجھا اور اُن کی ہمتیں جنگ سے جواب دے گئیں۔ مسلمانوں نے جوش و خروش کے ساتھ شہر پر جہادی یلغار برپا کر دی اور شہر کی فصیل رسیوں کے ذریعے پھلانگ کر دیبل کو فتح کر لیا۔ شہر میں موجود دارجہ داہر کی طرف سے مامور حکمران موقع دیکھ کر دم دبا کر بھاگ نکلا۔
محمد بن قاسم دیبل کی فتح کے بعد آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ کئی علاقوں کو فتح کر نے کے بعد وہ موجودہ سندھی شہر ‘روہڑی’ کے پاس واقع راجہ داہر کے دارالحکومت ‘اروڑ’ پہنچ گیا۔ یہاں راجہ داہر دریائے سندھ کے مشرقی کنارے اپنے لاؤلشکر کے ہمراہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ جب کہ محمد بن قاسم تیزرَو دریا کے مغربی جانب تھا۔ محمد بن قاسم کے لیے دریا عبور کرنا ایک گمبھیر مسئلہ تھا۔ بالآخر ایک رات مسلمانوں نے کشتیوں کو دریا کے طول کے رُخ پر کھڑا کر کے انہیں عرض کے رُخ پر کھینچ دیا۔ اور دریا عبور کر کے راجہ کی فوج پر بھرپور حملہ کر دیا۔ جس سے وہ بدحواس ہو گئی اور شکست کھا کر بھاگ نکلی۔ صبح راجہ داہر کو مسلم فوج کے دریا عبور کرنے اور ہندو فوج کی شکست خوردہ ہونے کی خبر سنائی گئی تو اس نے اِسے بدشگونی قرار دیا۔ اسلامی لشکر پیش قدمی کرتا ہوا ‘کاجی جاٹ’ نامی گاؤں کے سامنے پہنچ گیا، جس میں راجہ داہر مقیم تھا۔
راجہ داہر ایک سو ہاتھیوں، دس ہزار زرہ پوش سوار اور تیس ہزار پیدل فوج کے ساتھ دریائے سندھ کے کنارے مقابلے پر آیا۔ یہ لڑائی چار دن تک یوں یہ چلتی رہی۔ طاقت ور اور دیوجسامت ہاتھیوں کے سامنے مسلمانوں کا زور نہیں چل رہا تھا۔ آخر پانچویں روز مسلمانوں نے پچکاریوں (رنگ وغیرہ بھر کر پھینکنے کا ایک نالی دار آلہ) کے ذریعہ آتش گیر مادہ ہاتھیوں پر پھینکنا شروع کیا، جس سے وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ راجہ داہر کا ہاتھی بھی میدان سے بھاگا، لیکن راجہ داہر ہاتھی سے اُتر کر پیادہ لڑتا رہا، حتی کہ ایک مسلمان مجاہد نے اس بدقماش ہندو سردار کی گردن تن سے جدا کر دی۔اس کے مرتے ہی ہندی فوج قلعہ دراوڑ کی طرف بھاگ نکلی۔ یوں تیز رفتار جنگ کے ذریعے سندھ اسلامی خلافت کا ہمیشہ کے لیے ایک حصہ بن گیا۔ اس اہم اور مرکزی معرکے میں راجہ داہر کے پاس ٤٠ہزار سے زیادہ مسلح فوج تھی، جب کہ محمد بن قاسم کی کل فوج ساڑھے پندرہ ہزار تھی۔
محمد بن قاسم نے راجہ داہر کے قتل کے بعد مزید پیش قدمی کرتے ہوئے اگلے علاقوں کا رُخ کیا اور ‘رواڑ’ نامی علاقہ فتح کرنے کے بعد راجہ داہر کے خاندانی علاقے ‘برہمن آباد’ کی طرف بڑھا۔ رواڑ سے برہمن آباد کی طرف آتے ہوئے راستے میں دو قلعے ‘بہرور اور وہلیلہ’ نام کے آتے تھے۔ جنہیں بسہولت فتح کر لیا گیا۔ یہاں پر راجہ داہر کا ایک وزیر ‘سی ساکر’ تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اب مسلمانوں کے حملوں کو روکنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ چناں چہ اُس نے محمد بن قاسم سے وفاداری کی بنیاد پر جان بخشی کا پروانہ حاصل کیا اور وہ مسلمان عورتیں بھی پیش کیں، جنہیں دیبل کے ڈاکوؤں نے لوٹ کر قید کر لیا تھا۔ اُن مظلوم مسلمان عورتوں کا راجہ داہر کے دارالحکومت کی حدود میں سے برآمد ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ دیبل میں ہونے والی ‘ڈکیتی’ راجہ داہر ہی کا شیطانی ہتھکنڈہ تھی۔ دراصل اس کی بنیادی وجہ راجہ داہر کا وہ مذہبی تعصب تھا، جس کی وجہ سے یہ خوامخواہ مسلمانوں سے دشمنی مول لے بیٹھا تھا۔
ملتان سندھ کا اہم سیاسی، ثقافتی اور مذہبی مرکز تھا۔ یہاں ‘گور سنگھ’ کی حکومت تھی، جو بہت مضبوط راجہ سمجھا جاتا تھا۔ اس نے دو روز تک قلعے سے باہر نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔ سخت جنگ ہوئی۔ جس میں بہت سے اہم مسلمان جرنیل شہید ہو گئے۔ اس کے بعد وہ پھر قلعے بند ہو گیا۔ اتفاقاً ایک قیدی سے مسلمانوں کو قلعے کی فصیل کا کمزور حصہ معلوم ہوگیا۔ دو تین دن کی سنگ باری سے شہر کی فصیل ٹوٹ گئی۔ جس سے مسلمان فاتحانہ قلعے میں داخل ہوگئے۔ چوں کہ ملتان بھی ایک تیرتھ گاہ تھا، جس میں موجود ایک بہت بڑے مندر سے محمد بن قاسم کو محفوظ خزانے کا ایک ذخیرہ ہاتھ لگا، جو سیکڑوں من سونے پر مشتمل تھا۔ چناں چہ جب حجاج نے سندھ کی مہم کا مالیاتی حساب لگایا تو اس طویل معرکے پر 60لاکھ درہم خرچ ہوئے تھے۔ جب کہ صرف مالِ غنیمت میں ایک کروڑ بیس لاکھ درہم کی آمدن ہوئی۔ جس پر حجاج نے کہا:
‘اس مہم میں ساتھ لاکھ درہم کا فائدہ ایک طرف رہا اور ہم نے اپنا انتقام الگ لے لیا۔’
اگر شام و برما اور دیگر علاقوں کے مظلوم مسلمانوں کی مدد و نصرت کرنی ہے تو ہمیں جہاد کا ناگزیر راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ حجاج بن یوسف نے بھی یہی کیا تھا۔ اوّلاً بات چیت سے کام نکالنا چاہا، لیکن ناکامی سامنے آئی۔ نتیجةً محمد بن قاسم رحمہ اللہ سندھ دھرتی پر اُترے اور جہاد کیا۔ اِسی جہاد سے سندھ میں اسلام داخل ہوا۔ اسی جہاد سے یہ خطہ خلافت کی قلم رُو میں داخل ہوا۔ اور مظلوم مسلمانوں کو آزاد کروایا گیا۔

2017 نوائے امت ۔ اکتوبر

Related posts