نظام خلافت سیدنا علی رضی اللہ عنہ

 

مولانا محمد زاہد اقبال

امیرالمومنین حضرت سیدناعلی المرتضیٰ نے جس وقت زمام ِخلافت سنبھالی اس وقت امت مسلمہ انتہائی مشکل اورمصائب وآلام کے برے دور سے گزررہی تھی۔دشمنانِ خلافت کا دارالخلافہ مدینہ منورہ پر قبضہ تھا اورہرطرف دندناتے پھرتے تھے۔خلیفہ وقت سیدناعثمان بن عفاندن دھاڑے اپنے گھر کے اندرشہیدکردیے گئے تھے اورانکے قاتلین پرکسی کازورنہ چلتا تھا۔منصبِ خلافت سنبھالنے کے لیے بڑے بڑے جلیل القدرصحابہ کرامسے درخواستیں کی گئیںلیکن کوئی بھی اس ذمہ داری کواٹھانے کے لیے تیارنہ تھا ان حالات میںسیدناعلینے مجبورہو کربادل نخواستہ منصب خلافت کوقبول کیااوراس عیظم منصب پرفائزہوتے ہی مشکلات کے دریابہہ نکلے جنہیں آپ اپنی شہادت تک عبورکرتے چلے رہے۔ آپ نے خانہ جنگیوں،شورشوں،بغاوتوںاورسازشوں کے باوجود٤سال٩ماہ تک نظام ِخلافت کوسنبھالااورحتی المقدوراپنی صلاحیتوںکواسلام اوراہل اسلام کی خدمات میںصرف کیا جس کااجمالی خاکہ پیش کیا جاتاہے۔

سیاسی نظام:        سیدناعلی نے منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد پہلاکام یہ کیاکہ سیاسی نظام میں بہتری کے پیشِ نظرسیدناعثمانکے مقررکردہ گورنروں کومعزول کرکے اپنے معتمدلوگوںکوان کی جگہ گورنرتعینات کیا۔اگرچہ اس کے اچھے نتائج سامنے نہیں آئے اورآپ کواپنے اس اقدام کے نتیجے میں آگے چل کرکئی مشکلات کاسامناکرناپڑاجس کاکچھ ذکرماقبل میںکیاجاچکاہے۔بہرحال اس طرح آپ نے سیاسی نظام میں بہتری لانے کی کوشش کی۔دوسرااہم کام یہ کیاکہ دارالخلافہ مدینہ منورہ سے کوفہ منتقل کردیااورخودبھی وہیں مقیم رہے۔حالانکہ کئی صحابہ نے آپ کواس اقدام سے روکاتھا۔ (البدایہ والنھایہ:ج٧ص٢٣٣)

اگرچہ مؤرخین نے دارالخلافہ کی تبدیلی کی خاص وجوہ واسباب بیان نہیں کیے البتہ یہ واضح ہے کہ عراق خصوصاََکوفہ میں آپ کے حامیوں کی تعداد زیادہ تھی اس لیے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا گیا لیکن یہ یقینی بات ہے کہ سیدناعلی کے نزدیک اس اقدام کی وجوہ بھی ہوگی۔دارالخلافہ کی تبدیلی کی وجہ سے بھی آپ کومشکلات کا سامناکرنا پڑااوراہل کوفہ نے ہمیشہ آپ کو پریشان کیے رکھا اورباربارغداری وبے وفائی کے مرتکب ہوتے رہے۔سیدناعلی کے پیشِ نظر سیدناعمرالفاروق کاطرزحکومت تھا اورہمیشہ انہی کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے رہے چنانحہ یحیٰ بن آدم لکھتے ہیں کہ سیدناعلی کی سیرت سیدناعمرکی سیرت سے مشابہ تھی۔،،(کتاب الخراج :ص٢٤)امام بخاری روایت کرتے ہیںکہ سیدناعلی کے ایک شاگردعبدخیرفرماتے ہیں کہ ایک موقع پرسیدناعلی نے فرمایاکہ سیدناعمربہترین توفیق دیے گئے تھے اورامورخلافت میں درست فیصلہ کرنے والے تھے اورصیحح معاملہ فہم تھے۔اللہ کی قسم!عمر نے جوکام کیے ہیں میں انہیں تبدیل نہیں کروںگا۔،، (التاریخ الکبیر:ج٤ص١٤٥)

کوفہ تشریف لے گئے تواہل کوفہ نے دارالامارت میں قیام کے لیے عرض کیا توفرمایاکہ مجھے دارلامارت میںٹھہرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ عمربن الخطاب دارالامارت  میں ٹھہرنے کوناپسندکرتے تھے۔، (الاخیارالطول:١٥٦)سیدناعلی ذاتی طورپرسادگی پسنداورزاہدانہ زندگی گزارنے والے تھے اس لیے حکومتی امور کو بھی سادگی سے چلایاکرتے تھے اوراپنے گورنروں کوسادگی کی تعلیم وترغیب دیتے تھے۔ مؤرخین نے دورانِ خلافت آپ کی سادگی کے کئی واقعات نقل کیے ہیں۔خلافت کے زمانے میں بھی آپ سادہ کھاتے اورسادہ پہنتے تھے۔خلیفہ ہونے کے باوجودبیت المال سے بقدرضرورت اوربقدرکفایت انتہائی قلیل وظیفہ لیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ جس وقت دنیاسے رخصت ہوئے تواس و قت آپ کے پاس روئی کا ایک جبہ اورایک چادرتھی۔،، (کتاب الاحوال لابی عبیدص٢٧٠)                                                                                                                                                                                                                                     آپ فرتے تھے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھاکہ خلیفہ کے لیے اللہ کے مال(بیت المال)میں سے دوپیالوں کے سوااورکچھ حلال نہیں۔ایک پیالہ جسے وہ اوراس کے اہل وعیال کھائیں اورایک پیالہ جسے وہ مہمان داری کے طورپرلوگوں کے سامنے پیش کرے۔،، (مسنداحمد:ج١ص٨٧)سیدناعلی مسلمانوں کے لیے خلیفہ اورامیرالمؤمنین کا وجود ضروری قرار دیتے تھے آپ فرماتے تھے کہ امت کامعاملہ کسی امیر یاخلیفہ کے وجود کے ساتھ ہی درست رہ سکتا ہے۔وہ امیرچاہے جس طرح کا بھی ہو۔،، (کنزالعمال حدیث نمبر:٤٣٦٦ ١ )آپ فرماتے تھے کہ تین باتیں ایسی ہیں جومسلمانوں کے امام اورخلیفہ میں پائی جائیں تووہ صیحح معنوں میں اپنی ذمہ داریاںاداکرنے والاامام ہوگا۔(١)جب فیصلہ کرے توعدل کرے،(٢)اپنی رعایاسے چھپ کرپردوں میں نہ بیٹھے،(٣)دورونزدیک سب لوگوں پرکتاب اللہ کے احکام کانفاذکرے،۔ (کنزالعمال حدیث نمبر:١٤٣١٥)اسی طرح فرماتے تھے کہ پانچ باتوں کاتعلق مسلمانوں کے امام(خلیفہ)سے ہے۔ (١)نمازجمعہ(٢)نمازعید(٣)صدقات کی وصولی(٤)قاضیوںکی تقرری(٥)قصاص لینا۔(الروض النفیر:ج٤ص١٤٣)

عدالتی نظام      :اللہ تعالیٰ نے سیدناعلی کوعلم،ذہانت،فطانت اورفقاہت کے ساتھ ساتھ قضا(فریقین کے درمیان متنازعہ امورمیںعدل پر مبنی فیصلہ کرنا) کی صفت سے خصوصی طورپر نوازاتھاچنانچہ اس کا اعتراف خودرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کیااورآپصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدناعلیسے اپنی زندگی میں کئی فیصلے کروائے اور ان کی تصدیق وتحسین بھی فرمائی۔بلکہ یمن کاقا ضی مقررکرکے بھیجا تھا۔ (مستدرک حاکم:ج٣ص٥٣١)رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے آپ کو مقدمہ کی سماعت سے متعلق اصول بھی تعلیم فرمائے تھے۔ (مسنداحمد:ج١ص٩٦،١٤٣) پھر سیدناعلی سیدناصدیق اکبرکے دور خلافت میں ان کی مشیر رہے اورمفتی وقاضی کے فرائض انجام دیتے رہے۔اسی طرح سیدناعمرالفاروق کے زمانہ میں بھی آپ قاضی رہے اورسیدناعمرنے آپ کومدینہ کا قاضی مقررکیا تھا۔ (البدایہ والنھایہ:ج٧ص١٣)سیدنا عمرنے آپ کی قضاکی صلاحیت کااعتراف کرتے ہوئے فرمایاکہ علی اقضانایعنی ہمارے بہترین قاضی علی ہیں۔،، (الطبقات لابن سعد:ج٢ص١٠٢،بخاری شریف:ج٢ص٦٤٤)پھرسیدناعلی سیدناعثمان ک دورِخلافت میں بھی قاضی کے منصب پرفائزرہے۔

سیدناعثمان کی شہادت کے بعدجب سیدناعلی منصب خلافت پرفائزہوئے تو اگرچہ اپنے ماتحت علاقوںمیں قاضی مقرر کیے لیکن آپ خودبھی خاص خاص مقدمات کے فیصلے خودکیاکرتے تھے۔سیدناعلی قاضیوں کی تقرری خلیفہ کی ذمہ داری قرارد یتے تھے۔قاضی کی صفات کے متعلق سیدناعلی فرماتے تھے کہ ایک قاضی کواس وقت تک قاضی نہیں بنناچاہیے جب تک اس کے اندر پانچ صفات نہ ہو۔(١)وہ پاک دامن ہو،(٢)بردبارہو،(٣)اپنے پیش رو قاضیوں کے فیصلوں سے بخوبی واقف ہو،(٤)وہ علمأوفقہأسے مشورے بھی لیتاہو،(٥)اللہ تعالیٰ کے احکام کے سلسے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرتاہواورنہ گھبراتاہو۔،،  (المغنی :ج٩ص٤٣) سیدناعلی اپنے زمانہء خلافت میں قاضی مقررکرکے انہیں بیت المال سے باقاعدہ تنخواہیں دیا کرتے۔اسی طرح آپ نے عدلیہ کوفیصلوں کے اندرمکمل آزادی دے رکھی تھی۔تاکہ قاضی بلاخوف وخطرہ شریعت کے مطابق فیصلے کریں۔چنانچہ جب آپ کے زمانہء خلافت میںآپ کے اورایک یہودی کے درمیان ایک زرہ کی ملکیت کا تنازعہ پیش آیااورمقدمہ آپ کے ہی مقرر کردہ قاضی شریح کے پاس گیااورانہوں نے آپ کی طرف سے شہادت مکمل نہ ہونے پرآپ کے خلاف فیصلہ دیا توآپ نے اسے بخوشی قبول کیااورزرہ یہودی کو دے دی گئی تویہودی یہ دیکھ کرکہ مسلمانوں کاخلیفہ اپنے ہی مقررکردہ قاضی کی عدالت میں ایک فریق ہونے کی حثیت سے خود آیااوراپنے خلاف فیصلے کوبرضاقبول کیاتووہ کلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیااوراعتراف کیاکہ زرہ سیدناعلیکی ہے۔،(کنزالعمال:٦٤)

اقتصادی نظام:   سیدناعلی کے زمانہء خلافت میں ملک کے اندر اقتصادی اور معاشی حالات درست تھے۔بیت المال کی آمدنی جن ذرائع سے ہوتی تھی ان میں بہت ہی احتیاط سے برتی جاتی تھی۔ چنانچہ آپ اپنے عمال (کارندوں)کوباقاعدہ ہدایات دیتے تھے کہ سرکاری واجبات (زکوة،صدقات،جزیہ،خراج،عشروغیرہ)کی وصولی میں نہ سستی ولاپرواہی اختیار کی جائے نہ بے جاعوام پرظلم کیا جائے بلکہ آپ فرماتے تھے کہ واجبات کی وصولی میں عوا م پرنرمی وشفقت کامعاملہ کیا جائے اوراس حوالے سے عوام کوراضی رکھنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ سرکاری واجبات کے حوالے سے معذور، قلاش اور نادارافرادکے ساتھ سختی نہیں کی جاتی تھی۔”(کتاب الخراج:ص٦٩)

اسی طرح بیت المال کے مصارف کے بارے میں بھی حددرجہ احتیاط کرتے تھے۔پہلے ذکرکیاگیاہے کہ آپ خودبحثیت خلیفہ معمولی رقم بطورتنخواہ بیت المال سے لیتے تھے۔اسی طرح گورنروںاورسرکاری کارندوں کوبھی بیت المال کی رقوم کواس کے مصارف میں صیحح طورپر خرچ کرنے کی سختی سے ہدایات دیتے تھے اوران کی کڑی نگرانی کرتے تھے۔آپ بیت المال سے محتاج ،ضرورت مند افرادپر خرچ کرتے تھے اوراس بارے میں بہت وسعت ظرفی سے کام لیتے تھے۔

عسکری نظام:     سیدناعلی کی شجاعت وبہادری کازمانہ معترف تھا۔ہجرت کے بعد نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی قیادت میں تقریباََتمام غزوات میں شرکت فرمائی اورجرأت وبہادری کے جوہر دیکھائے۔سیدناعلی جنگی امور میں کافی تجربہ حاصل کرچکے تھے اس لیے آپ ماہروتجربہ کارجرنیل سمجھے جاتے تھے۔سیدناعلی نے اپنے زمانہء خلافت میں عسکری اموراور فوجی معاملات کی طرف توجہ فرما ئی اوراس میں اصلاحات نافذ فرمائیں۔اگرچہ آپ کے زنانہء خلافت میںآپ کے لشکرمیں عراقیوں کی کثیر تعداد تھی جنوں نے آپ کو ہمیشہ پریشان رکھااورکئی اہم جنگی معرکوں میں بزدلی،کمزوری اور لڑائی میں شرکت سے بچنے کے لیے بہانہ بازی وحیلہ سازی کامظاہرہ کیا اورمسلسل آپ کے احکام کی نافرمانی اوراصولوں کی خلاف ورزی کرتے رہے۔جس کی بناپر مخالفین نے آپ کے بارے یہ بات مشہورکردی کہ آپ کوجنگی فنون میں مہارت نہیں ہے،چنانچہ ایک موقع پر آپ اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ”قریش”سمجھتے ہیں کہ ابوطالب کا بیٹا(سیدناعلی)بہادر تو ہے لیکن جنگی فنون سے آشنا نہیںہے۔خاک آلود ہوںان کے ہاتھ،کیاان میں کوئی مجھ سے زیادہ جنگی فنون میں ماہر ہے؟میں تو جنگوںمیں اس وقت پڑاتھا جب میری عمرابھی بیس سال کی بھی نہ تھی اوراب میں٤٠سال سے بھی زیادہ عمرپاچکاہوں لیکن جس کی کوئی اطاعت نہ کر ے تواس کی رائے(مہارت وتجربہ)کی کوئی حثیت نہیں ہوتی۔،، (مروج الذھب:ج٢ص٦٢)

سیدناعلیکے مذکورہ بالاارشاد کے آخری جملے سے واضح ہوتاہے کہ جنگی وفوجی امورمیں مہارت وتجربہ کے باوجودآپ اپنے لشکر کی نافرمانیوں اوراصولوںکی خلاف ورزی کی وجہ سے بہت زیادہ عسکری کارنامے انجام نہیں دے سکے۔الغرض سیدناعلی نے اپنے زمانہء خلافت میں عسکری نظام میں بہتری لانے کی کوشش کی چنانچہ شام کی سرحد پرکثیرتعداد میں فوجی چوکیا قائم کروائیں۔اسی طرح ایران میںہونے والی بغاوتوں کے پیش نظربیت المال،عورتوں،اوربچوں کے تحفظ کے پیش قلعے تعمیر کیے گئے۔

دینی نظام:          خلفائے ثلاثہ کی طرح سیدناعلی کامقصدبھی دین کی خدمت تھا۔چنانچہ منصبِ خلافت پرفائزہونے کے بعد آپ نے اس حوالے سے بھرپورساعی فرمائیں۔اسلام کی تعلیمات وہدایات کی تبلیغ واشاعت اوردینی نظام کی ترویج کے لیے شاندار خدمات انجام دیںعلاوہ ازیں ایران اورآرمینیہ میں بعض نومسلم عیسائیوں نے ارتداداختیارکرلیاتوآپ نے ان کی سرکوبی کے لیے معقل بن قیسکو بھیجا جہنوں نے ان سے مقابلہ کیا اورانہیں دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل کیا۔(طحاوی شریف:ج٢ص١٠٢)

کرمان اورفارس کی عوام نے خراج دینے سے انکارکیاتوآپ نے لشکربھیج کرانہیں مطیع کیا۔(طبری:ج٦ص٧٩)

نظامِ احتساب:    جیسا کے ذکرہوچکا ہے کہ سیدناعلیامورخلافت کی انجام دہی میںسیدناعمرکی پیروی کرنے کی کوشش کرتے تھے چنانچہ آپ بھی سیدناعمرکی طرح اپنے ماتحت حکام گورنروں اورکارندوں کے اعمال وسرگرمیوں پرکڑی نگاہ رکھتے تھے اوروقتاََفوقتاََان کااحتسابکرتے رہتے تھے۔بیت المال کی آمد وخرچ کے بارے میںبازوپرس کرتے تھے اوراس بات کی تحقیق کرتے تھے کہ حکام کا عوام کے ساتھ طرزِعمل کیساہے اوریہ کہ عوام حکام کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ بعض اوقات باقاعدہ وفدبھی بھیجا کرتے تھے  جیساکہ ایک مرتبہ معروف صحابی سیدنا کعب بن مالک کو ایک وفد کے ساتھ عراق کے تمام اضلاع کے حکام وعمال کے احتساب کے لیے بھیجا تھا۔(کتاب الخراج:ص٦٧)

بیت المال کی آمد وخرچ کے بارے میں سخت احتساب کرتے تھے اور اس حوالے سے معمولی سی فروگذاشت بھی برداشت نہ کرتے تھے یہاں تک کہ اپنے قریبی رشتہ دار کے ساتھ بھی رعایت و نرمی کامعاملہ نہ کرتے تھے۔جیسا کہ مفسرِقرآن اورجلیل القدرصحابی رسول سیدناعبداللہ بن عباس جو سیدناعلی کے سگے چچازاد بھائی تھے،جب ان کی خلافت میں بصرہ کے گورنر تھے توان کے خلاف بیت المال کی رقم میں خوردبردکی بے جا وغلط شکایت کی گئی تو انہوں نے بذریعہ خط اس کی تردید کی لیکن سیدناعلی نے تردیدقبول کرنے کی بجائے ان سے بیت المال کی آمدوخرچ کی مکمل تفصیل طلب کی تو انہوں نے بطوراحتجاج گورنری سے استعفیٰ دے دیا۔،،(ابن اثیر:ج٣ص١٩٤،البدایہ والنھایہ:ج٧ص٣٢٢)

محکمہ امربالمعروف ونہی عن المنکر: سیدنا علی انپے زمانہ ء خلافت میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کو انجام دیا کرتے تھے۔آپ ایک ماتحت حکام وسرکاری کاندوں سے مالی احتساب کرتے تھے اوران کی ذاتی وانفرادی زندگی پربھی نظر رکھتے تھے تاکہ ان کی طرف سے کوئی برائی یا غلط رسم عوام میں نہ سرایت کرجائے دوسری طرف عوام کے اخلاق واعمال کی بھی نگرانی کرتے تھے اوراگر کوئی برائی دیکھتے توفوراََاسے ختم کرتے تھے۔جہاں ماتحت حکام کواس مقصد کے لیے ہدایات کی جاتی تھیں وہاںآپ بذات خود بھی امربالمعروف ونہی عن المنکر کرتے رہتے تھے اورجرائم کے مرتکب افراد پر تعزیری سزائیں بھی نافذ کرتے تھے۔چنانچہ فسق وفجور کی اشاعت اورفحاشی وعریانی پرمبنی باتوں کی اشاعت وتشہیرکوجرم سمجھتے اوراس پر سزادیتے تھے۔فرماتے تھے”جس شخص نے زناکی کسی واردات کولوگوں میں بیان کیا یا اس کی تشہیرکی تو سچاہونے کے باوجوداسے سزا ملے گی۔”  (مصنف عبدالرزاق:ج٧ص٣٤١)

آپ کے زمانہ میں بدمعاش اوربدکردارافرادکوجیل میںڈال دیاجاتاتھااورانہی کی رقم سے ان پرخرچ کیاجاتاتھااور اگرایسے آدمی کے پاس رقم نہ ہوتی توبیت المال (سرکاری خزانے)سے خرچ کیاجاتاتھااورفرمایاکرتے تھے کہ مسلمانوں سے ایک برائی کوقید کردیاگیا ہے۔(اوروہ اس برائی سے محفوظ ہوگئے ہیں)اب اس پرمسلمانوں کے بیت المال سے خرچ کیاجائے گا۔(کتاب الخراج لامام ابی یوسف:ص١٧٩) ایک مرتبہ ایک گاؤں کے پاس سے گزرے توآپ نے پوچھا یہ کیسا گاؤں ہے؟بتایاگیاکہ اس میںکپڑابُناجاتاہے اورشراب فروخت ہوتی ہے۔آپ نے گاؤںکوآگ لگانے کاحکم دیااورفرمایاکہ ٫٫خبیث شئی،،کاایک حصہ دوسرے حصے کوکھاجاتاہے۔”چنانچہ پورا گاؤں جل کر راکھ ہوگیا۔

Related posts