ووٹ ابلیسی نظام کا آلۂ کار ہے

مہندس محمد اکرم خان سوری

ووٹ ابلیسی شعوری نظام کے سیکولر جمہوری نظام حکومت میں منتخب کئے جانے والے نمائندوں کے انتخاب کا ایک ایسا آلۂ کار ہے جس سے ووٹ ڈالنے والے کے علم ، تجربہ، دانش و فکر، وغیرہ انتخاب کے نتائج پر ،کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس طریقہ انتخاب میں اقوام متحدہ کے مندرجہ ذیل حوالہ شدہ ان الفاظ میں اس پہلو کا خصوصی طور پر مدِ نظر رکھا جانا بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خاص طور پر اختیار کیا گیا نظر آتا ہے ”عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیاد ہوگی یہ مرضی وقتاً فوقتاً ایسے حقیقی انتخابات کے ذریعہ ظاہر کی جائے گی جو عام اور مساوی رائے دھندگی(ووٹ) سے ہونگے جو خفیہ ووٹ یا اس کے مساوی کسی دوسرے آزادانہ طریق رائے دھندگی کے مطابق عمل میں آئیں گے۔  ابلیسی شعور کی طرف سے کسی بھی قوم و ملک کا اقتدارہر صحیح یا غلط اور جائز یا ناجائز پر مبنی ا صول یا نظریہ خصوصی طور پر دین اسلام کے حق و باطل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اور صرف ملک کے عوام کی خالص مرضی کے ہاتھ میں دئے جانے کا یہ مقصد واضح طور پر پورا ہوتا نظر آتا ہے کہ اس سے اسلام میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کئے جانے والے عقیدہ کی نفی کی جانی خصوصی طور پر مقصود نظرآتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کہو، کیا وہ لوگ جوعلم رکھتے ہیں  اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے برابر ہو سکتے ہیں( الزمر:٩١) ۔

اور ہم نے اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ اس حقیقت کی نفی کرتے ہوئے ا تنے اہم فیصلہ میں جس میں اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کی قوتِ نافذہ کے عہدہ پر امت کے بہترین مومن کردار کو فائز کرنے کا معاملہ ہے، اقوام متحدہ کے ابلیسی شعوری اصول کو اللہ تعالیٰ کے فرمان پر ترجیح دے کربرابری کی بنیاد پر قبول کیا ہوا ہے۔ اور پھر قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ انسانوں کی اکثریت لا علم ہے اور اکثریت جاہل ہے ۔اور نہیں پیروی کرتے ان میں سے اکثر مگر محض وہم و گمان کی۔ بلا شبہ  وہم و گمان  بے نیاز نہیں کر سکتا  حق سے ذرا بھر۔ بے شک اللہ تعالی خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں(یونس:٣٦)۔کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ  سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔ نہیں ہیں یہ مگر ڈنگروں کی مانند بلکہ یہ تو ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں (الفرقان:٤٤)۔

تو دوسرا فائدہ اس مسا وات کے ووٹ سے اکثریت کی لا علمی اور جاہل پن سے مکمل استفادہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے خلاف مسلم ممالک میں حکومت ہمیشہ لا علموں اور جاہلوں کے ووٹوں سے وجود میں آئے گی جس سے بر سرِ اقتدار آنے والے اپنے عوام کے منتخب کئے ہوئے اللہ تعالیٰ کے باغی عہدوں پر اپنے شعور سے کردہ فیصلوں میں عوام کے شعوری سطح سے بالا تر فیصلوں میں اپنی من مانی کر سکیںگے۔ کیونکہ عوام تو تھانے، تحصیل، کچہری، اور روٹی کپڑے اور مکان سے آگے یعنی اپنی مادی اور نفسانی ضروریات اور خواہشات سے آگے سوچنے کی مالی اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے استطاعت ہی حاصل نہیں کر پاتے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی دیکھی جا سکتی ہے کہ۔ ۔اگر تو اطاعت کرے اکثر لوگوں کی جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے بہکا دیں گے  اللہ کی راہ سے  ۔ وہ نہیں پیروی کرتے سوائے گمان کے اور نہیں ہیں وہ مگر محض تخمینے لگاتے ہیں(انعام:١١٦)۔

مساوات کے ووٹ کے اس طریقہ کارمیں کوالٹی Quality کی بجائے یعنی علم و دانش ، غور و فہم،  تجربہ و مشاہدہ ، تقویٰ و پرہیز گاری اور شعوری معیار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ووٹ کی گنتی کی تعداد  Quantity کو  اہمیت دی گئی ہے ۔کیونکہ ابلیسی شعور کو اپنے طریقہ کار پر دنیا کو ڈھالنے کے لئے جاہلوں اور لا علموں کے ووٹ کی اکثریت سے فائدہ اُٹھا کر ، اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اقتدار اعلیٰ سے ظاہراً معزول کرنے اور خود انسان کو گمراہ کُن قوانین سے کنٹرول کرنے اور اللہ تعالیٰ کی قوتِ نافذہ کے عہدہ پر قبضہ جمانے کایہ بہترین طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار کی لیگل پیرائے میں شاید کہیں تعریف موجود نہیں۔ اور نہ ہی ووٹ دینے اور لینے والے کو ووٹ کی قیمت اور اہمیت کا کوئی اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی ووٹ کے متعلق حکومت نے اس قسم کی نوعیت کی تعلیم دینے کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار طے کیا ہے اور نہ ہی آج تک اختیار کیا ہے۔ نظام حکومت اور اُس کے اقتدار و اختیارات کے حامل عہدے اپنی کار کردگی اور جوابدہی کے لئے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ آئین کے تحت صرف عوام کو جواب دہ ہیں۔( جیسا کہ آپ جمہوریت کی تعریف میں دیکھ چکے ہیں، وہ عوام جن کا ،ووٹ ڈالنے کے بعد اگلے الیکشن تک عملی طور پر کوئی وجود نہیںہوتا) یہ ایک ایسا مہمل اصول اور اُس پر مبنی نظام ہے جس کے کوئی تعمیری یا عملی معنی ہی قائم نہیں ہوتے۔ کیونکہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ اپنے تمام اختیارات اپنے منتخب کردہ نمائندوں کو سونپ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی  عوام کو جواب دہی کا مطلب اور عملی جواب دہی ،عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو منتقل ہو جاتی ہے۔ اس طرح حقیقت میں نمائندہ خود ہی دونوں کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ یعنی چور اور کوتوال ایک ہی عہدہ کے دو نام ہیں۔ عوام کے حقوق پامال ہونے لگتے ہیں ۔ اور عوام سے زیادتی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ہوتی رہتی ہے۔ اگر حالات عوام کی برداشت سے باہر ہو جائیں تو اُن کو اپنے حقوق کی پاسداری کے لئے جو طریقہ کار جمہوریت میں گنجائش نکالا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ عوام سڑکوں پر آئیں اور حکومتی فوج اور پولیس کے اپنے نمایندوں کی طرف سے فیصلہ کردہ ڈنڈے کھائیں۔یہ جمہوری نظام دنیا کے ممالک خصوصی طور پر مسلم اکثریت کے ممالک پر زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے۔

دوقومی نظریہ کے پس منظر میں دونوں اقوام کے فلسفہ حیات کی بنیاد مکمل طور پر دو مختلف  بنیادوں، ایک الہامی اور دوسرے کی انسانی شعور کا تجربہ و مشاہدہ ، پر قائم ہونے کی وجہ سے ، ووٹ کا یہ طریقہ کار ایک قوم کے لئے زہر قاتل اور دوسری کے لئے تریاق ہونے کے سبب ابلیسی شعور نے اسے اقوام متحدہ کے منشور میں عالمگیری یعنی یونیورسل حیثیت دے کراپنے اللہ تعالیٰ سے وعدے کو کہ میں تیری مخلوق کی اکثریت کو گمراہ کرونگا۔ اپنا وعدہ ، اقوام متحدہ کی ترتیب و ترویج کے ساتھ کافی حد تک پورا کر دیا ہوا نظر آتا ہے۔ مسلم ممالک میں مفاد پرست طبقہ نے اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کے لیئے ووٹ کے ان پہلوئوں کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔ووٹ دینے اور لینے والے دونوں اس لحاظ سے نا اہل ہیں کہ اُن کو ووٹ کے صحیح استعمال کا کوئی ادراک اور سلیقہ نہیں ہے۔ووٹ لینے اور دینے والے کو ووٹ کی قیمت کا اندازہ نہ ہونے کے سبب ووٹ کے ذریعہ قومی(دوقومی نظریہ والی قوم) ملکی اور اُمت کی سطح پر ہونے والے نظریاتی نقصان اور قوم کے اخلاق و اقدار کا حکومتی سطح پر تعین کرنے کا کوئی پہلو ہی موجود نہیں ہے۔ پہلے تو اسلامی تعلیمات کا پا مال کیا جانا اور اُن کا دیوالیہ پن عام انسان کی سطح تک ہوتا تھا کیونکہ رہنما اور لیڈر اعلیٰ اخلاق و کردار کے مسلمان اور انسان ہی ہو سکتے تھے ۔ لیکن  دوہرے معیار والی مغربی طرز کی سیاست ہمارے معاشرے میں منافقت کو جائز قرار دے کر ہمارے اکثر سیاست دانوں میں ایک اخلاقی معیار کے مقام پر فائز کر چکی ہے۔

آج  تو اللہ اور رسولۖ کے احکام کا ملک و قوم ( مسلم قوم نہیں بلکہ وطنی شناخت والی قوم)کو ڈھال بنا کو پامال کیا جانا ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز شخصیتوں نے بھی اپنا لیا ہے مولانا بھی اس نظام کی جڑوں میں بیٹھے ہوئی وائرس کا کھوج لگانے کی بجائے اپنے مقالہ میں سارا الزام انہی پر ڈالتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر جن ممالک میں جو غاصبانہ طریقہ پر بر سرِ اقتدار آتے ہیں سب سے پہلے وہ اپنے پہلے اُٹھائے گئے حلف کو توڑتے ہیں پھر ہی تو غاصب بنتے ہیں۔اور ہمارے ملک پاکستان میں تو یہ ایک رواج کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو ایک سچا مسلمان ہونا ظاہر بھی کرتے ہیں اور خود بھی شاید ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ایسے نظام میں اور ایسے رہنمائوں یا نمائندوں کو یا ایسے غاصبوں کو اعتماد کا ووٹ دینے والے عوام کے نمائندوں کو نہ ہی ووٹ کے پسِ پردہ حاصل ہونے والے اقتدار کی اخلاقی اقدار کا کوئی شعور ہوتا ہے اور نہ ہی  ووٹ دینے والے کے علم میں ووٹ کا نفسِ تصور ہوتا ہے۔ووٹ انسان کے اجتماعی معاملات کے حل کے لیئے قائم کیئے یا ہونے والے ہر ادارہ کی انتظامیہ اور اُس کے سربراہ کے چنائو کے لئے  نچلی سطح سے لیکر اعلیٰ ترین سطح  یعنی ملکی، قومی اور بین الاقوامی سطح تک استعمال ہو رہا ہے۔ اگر نہیں ہو رہا تو صرف اقوام متحدہ کے ویٹو کی طاقت کے حامل مستقل ممبران کے اس ویٹو کے اقتدار و اختیار اور اُن کی مستقل حیثیت کوکسی بھی انتخابی یا ووٹ کے طریقہ کار سے بدلنے سے، ابلیسی شعوری نظام نے اپنے آپکو اس شیطانی کھیل میں  بلند و بالا مقام پر فائز کیا ہوا ہے۔

ووٹ سیکولر نظامِ جمہوریت کا ایک اہم اور مہلک ترین ہتھیار ہے۔اس ہتھیار کے استعمال کرنے والے دونوں ” مسلم” اور  ” غیرمسلم” کی نظر سے اصل حصول ِمقصد کا تعین یا تو بالکل پوشیدہ ہے یا پھر اُن کو اُنکی دنیوی اور مادی خواہشات کی تکمیل کے سبز باغ نے دھندلادیا ہوا ہے۔  اس دھندلانے میں  اہم کردار میڈیا کا پراپیگنڈا ادا کرتا ہے۔ اور ابلیسی شعوری طاقتوں کا عوام کے ہاتھ میں یہ مہلک ہتھیار دینے کا یہی مقصد ہے جو کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ایجاد کرنے والے کے نزدیک  ووٹ کے استعمال کا مقصد بہت واضح ہے اور وہ اس کے استعمال سے لمحہ بہ لمحہ اپنے دائمی مفاد  و مقصد کے حصول کی طرف بڑھ رہا ہے۔ووٹ  یا پھر اس ہتھیار کے استعمال کیلئے عام طور پر ووٹروں کو یہ تک علم نہیں کہ کونسا ووٹ دینا اُن کا حق ہے اور کو ن سا ووٹ اُن کے پاس ملک و قوم کی امانت ہے۔ کون سا ووٹ ملک اور آنے والی نسلوں کی اخلاقیات کو تباہ و برباد کردے گا اور کون سا ووٹ ملک کو دو ٹکروں میں تقسیم کرکے ملک کوآدھا بنادے گا۔ اس ووٹ کے معاملے میں اکثریت بالکل اندھے پن  میں نعروں اور بینروں کی راہنمائی میں اپنے گناہِ جاریہ کے فیصلے کرتی ہے۔

اس سیکولر جمہوری نظام کو جسے میڈیا کے پراپیگنڈا میں ملک کے عوام کی خواہشات کا آئینہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔فرض کریں اس میں کوئی ووٹر کسی نمائندہ کوبھی اُس معیار کا اہل نہیں سمجھتا جس معیار کے کردار ملک و قوم کی تاریخ بنانے اور اُن کی قسمت کے دور افتادہ فیصلے کرنے کے اہل ہوتے ہیں تو ایسے جمہوری الیکشن میں اُس ووٹر کی طرف سے ان سب کو اپنے ووٹ سے نا اہل قرار دئے جانے والے کے خلاف ووٹ ڈالنے کا نہ ہی تو کسی قسم کے بیلٹ پیپر  Ballot paper کی گنجائش رکھی گئی ہے  اور نہ ہی ایسا بیلٹ بکسBallot Box   موجود ہوتا ہے جس میں وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکے۔  اس کا صاف طور پر یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادھورے، ناقص اور نا مکمل سیکولر جمہوری نظام کے ذریعہ ہر ووٹر کو اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ ان نا اہل نمائندوں میں سے کسی ایک نا اہل اور  غیر مستحق کو ووٹ ڈالے اور دوسری صورت میں اپنے گھر بیٹھے۔ اس طرح وہ ووٹ نہ ڈال کر اپنے گھر میں خاموش بیٹھ کر تباہی کی طرف گامزن اپنے ملک و قوم کا تماشا دیکھے ۔ نہ کہ اس ابلیسی نظام کے خلاف اپنے رائے اس الیکشن میں استعمال کرکے اس کا قلع قمع کرے اور اس سے بہتر متبادل خالق مطلق کے تکمیل کردہ صدر انسانی نظام حیات دین اسلام کے نظام خلافتِ راشدہ کے لئے راستہ ہموار کرے۔ ووٹ کایہ کیسا فول پروف نظام نظر آتا ہے جسے ابلیسی شعوری طاقتوں نے دنیا پر نافذ کرکے تمام دنیا کو گمراہ کرنے اور ویٹو کے اختیارات کے ساتھ اپنا غلام بنانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا شروع کر رکھا ہے اور کسی کو اس سے باہر نکلنے کا راستہ ہی نظر نہیںآتا۔ ایسی ہی ابلیسی چالوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اور اُنہوں نے اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس اُن کے مکر کا توڑ تھا۔ اگرچہ انکی چالیں اتنی زبردست تھیں کہ ان سے پہاڑ اُکھڑ جاتے تھے(ابراھیم:٤٦)۔ اور پھر فرماتا ہے۔(وہ زیاد ہ سرکشی کرنے لگے زمین میں اور گھنائونی سازشیں کرنے لگے۔ اور نہیں گھیرتی گھنائونی سازشیں بجز سازشیوں کے۔۔۔(فاطر:٤٣) اس سارے منصوبے کے پسِ پشت ابلیسی شعور اس لئے کام کر رہا ہے ، تاکہ انسانوں کے لئے تکمیل کرد دین اسلام کا صدر اور ایکPerfact مکمل صحیح اسلامی نظام” ماننے والوں”  Believersکی طرف سے اللہ تعا لیٰ کے احکامات کی تعمیل کے سلسلے کے مطابق کہیں قائم نہ ہو جائے۔ اس طرح اُن ووٹروں کو جو موجودہ طرز کے مغربی سیکولر جمہوری نظام کی غیر اسلامی اور اللہ تعالیٰ کی بجائے عوام کی خواہشات کے مطابق  ( جن سے بچنے کی قرآن مجید میں جگہ جگہ تنبیہ کی گئی ہے)  ہونے کا مکمل اوراک رکھتے ہیں اُن کو موجودہ طرزِ انتخاب میں اس طرح مجبور کیا گیا ہے کہ یا تو وہ  اس برائے نام اسلامی جمہوریت کے لبادہ میں پوشیدہ مغربی طرزِ حکومت کو قبول کریں یا پھر گھر بیٹھے رہیں ۔ ایسا طرزِ حکومت اختیار کرنے میں ہمارا پاکستان کا آئین بذاتِ خود شہریوں کو برابر حقوق یا پھر دینِ اسلام کے مطابق حقوق دینے میں اپنے ہی آرٹیکلزکی خلاف ورزی کرتا ہوا  بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

Related posts