ٹی وی اور تبلیغ اسلام

سید خالد جامعی،محمد زاہد صدیق مغل

سب سے پہلے یہ اصولی بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، اس کی ساخت (structure) کا حصول مقصد اور اس کے دوام کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ افراد جب کسی شے کے حصول کو اپنا مقصد بناتے ہیں تو اس کے حصول کے لیے کوئی نہ کوئی انتظامی شکل ضرور اختیار کرتے ہیں اور بہت سی انتظامی شکلوں میں سے وہی شکل زندہ رہتی ہے، جو زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل ہوتی ہے۔ افراد کی خود سے اختیار کردہ مخصوص انتظامی ہیئت ان معنوں میں تو ضروری نہیں ہوتی کہ وہ بذاتِ خود اصلاً مطلوب تھی، مگر ان معنوں میں یقینا ضروری ہوتی ہے کہ اس کی بقا سے افراد کے معاشرتی مقصد قائم رہتے ہیں۔ اور اس کا انہدام ان تمام مقاصد کے انہدام کا باعث بھی بنتا ہے، جو اس کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ ساخت و ڈھانچے کے اندر جو روح (sprit or sustance)موجود ہوتی ہے، اسے اس ساخت سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح شریعت کے بیان کردہ ڈھانچے غیرمتبدل ہوتے ہیں۔ کیوں کہ شریعت نے ایسے ڈھانچوں کی نشان دہی کر دی ہے، جنہیں اختیار کر کے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔ درحقیقت اسلامی نظامِ زندگی بدن اور روح کے آمیختے کا نام ہے۔ ساخت اور روح ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ ہر ڈھانچے اور نظام کی اپنی روحانیت (sprituality) اور دانش (wisdom) ہوتی ہے، جو اس کے اندر سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ جب تک آپ اس نظام کو اس کی ساخت کے ساتھ چلاتے رہتے ہیں تو اس کی مخفی دانش (sprituality wisdom) اور روحانیت (potential sprituality) ایسے ایسے طریقوں سے اپنا اظہار کرتی رہتی ہے کہ جن کا ادراک کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ عمل کی ساخت اور اس کی روح کے تعلق کی وضاحت چند آسان مثالوں سے کی جا سکتی ہے۔
مثال ١:ہمارے گاؤں دیہات میں ترپال، چوپال اور بیٹھک لوگوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔ (کہیں کہیں اب بھی یہ نشستیں موجود ہیں) اب دیکھیے اسلام چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے تعلقات سے جو معاشرہ وجود میں آئے، وہاں پڑوسیوں کی خوب خبرگیری ہونی چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خیال کیسے رکھا جائے؟ اس کا انتظام کیا ہو؟ کیا ہر شخص روزانہ رات سونے سے پہلے اپنے پڑوسی کا دروازہ بجا کر اس سے پوچھے کہ بھائی کیسے ہو؟ ظاہر ہے ایسا تو نہیں ہو سکتا، مگر پھر کیا ہو؟ اب ذرا غور کریں کہ یہ بیٹھک کیا ہے؟ عام نشست کی ایسی جگہ، جہاں لوگ شام کے وقت تھوڑی دیر دل لگی اور فرحت طبع کے لیے اکھٹے بیٹھتے، جس کے ذریعے انہیں پورے گاؤں اور اس کے اطراف کے لوگوں کے حالات معلوم ہوتے۔ مثلاً گاؤں میں کون بیمار ہے؟ کس کے گھر شادی ہے؟ کس کے گھر فوتگی ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی شخص دو دن تک بیٹھک نہ آتا تو لوگ اس کے گھر خیریت معلوم کرنے جاتے۔ یوں سمجھیے کہ ایک طرف تو یہ گاؤں کے حالاتِ حاضرہ کو افراد تک پہنچانے کا ایک مکمل طریقہ تھا تو دوسری طرف ایک ساتھ مل جل کر رہنے اورایک دوسرے کا خیال کرنے کی اقدار کے فروغ کا ذریعہ تھا۔ پڑوسیوں کی خبرگیری کرنے کا اس سے بہتر انتظام اور کیا ہو سکتا تھا؟ لیکن پھر ٹی وی آ گیا اور ہر شخص فرحتِ طبع کے لیے اب بیٹھک کے بجائے اپنے اپنے گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے کا عادی ہونے لگا۔ نشستیں ختم ہونے لگیں اور ان نشستوں کے ٹوٹنے سے وہ سارا ماحول بھی ہمارے معاشروں سے رخصت ہوگیا، جو ان کا مرہونِ منت تھا۔
کہا جانے لگا کہ ٹی وی سے ہمیں خبریں ملتی ہیں، مگر کس کی خبریں؟ وہ خبریں، جو ہمارے اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے کسی کام کی نہیں۔ ٹی وی لوگوں کو یہ تو بتاتا ہے کہ بھارت میں کس فلمی ہیرو کی شادی کس ہیروئن سے ہوئی۔ امریکا میں لوگ روزانہ کتنے کُتے خریدتے ہیں؟ مگر انہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ تمہارے پڑوسی کس حال میں ہیں۔ بے چارہ ٹی وی کیا کرے، اس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ وہی باتیں کہے گا، جہاں سے اسے پیسے ملنے کی امید ہو۔ کیوں کہ اس کا تو سارا دھندہ ہی اشتہاری کمپنیوں کے سرمائے کا فروغ ہے۔ ہم یہاں ٹی وی کے نقصانات کی بات نہیں کر رہے، بلکہ معاشرتی مقاصد کے حصول کے ضمن میں اداروں کی بقا کی اہمیت و افادیت کی بات کر رہے ہیں۔ کیوں کہ یہ ادارے ہی ہیں، جو افراد کا تعلق کسی خاص مقصد سے منسلک اور قائم رکھنے کا باعث بنتے ہیں۔
مثال ٢: خانقاہ اسلامی معاشرت کا فطری ادارہ ہے، جس کے ذریعے لوگ بچپن ہی سے اپنے بچوں کے تزکیہ نفس کا سامان فراہم کرنے کے لیے انہیں کسی مردِ صالح کے ہاتھ بیعت کرا کے ان کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔ خانقاہ درحقیقت ایک خودکار (automatic) صف بندی فراہم کرتی تھی، جن سے منسلک ہونے کے نتیجے میں فرد اور معاشرہ اسلامی اقدار پر گامزن ہو جاتا ہے۔ ایک طرف یہ خانقاہیں تبلیغ اسلام کے ذریعے غیرمسلموں کو دائرہ اسلام میں لانے کا سبب بنتی اور دوسری طرف مسلمانوں کو اچھا مسلمان بنانے کا نظام فراہم کرتی ہیں۔ خانقاہی نظام میں فرد مردانِ حق کی صحبت کے ذریعے ایسے تعلقات کا پابند ہو جاتا ہے، جو اسے اخلاقِ رذیلہ اپنانے سے روکتے ہیں۔ ہزاروں آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں کہ دن بھر وہ کیا کرتا رہا۔ خانقاہی نظام کے اس سلسلے کے ختم ہوجانے کے بعد اب مسلمانوں میں تزکیہ نفس کا کوئی ادارہ موجود نہیں رہا۔ کیوں کہ ساخت ختم ہوتے ہی مقصد بھی فوت ہو جاتا ہے۔
ان تمام مثالوں میں نوٹ کرنے کی اہم بات یہ بھی ہے کہ ساخت کوئی غیراقدار (value-neutral or objictive free) شے نہیں ہوتی، بلکہ ہر ساخت ایک مخصوص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مددگار ہوتی ہے۔ چوپالوں اور بیٹھکوں کے ذریعے مل جل کر رہنے کی معاشرت ہی کو عام کیا جا سکتا ہے۔ ان کے ذریعے اغراض پر مبنی معاشرت قائم نہیں ہو سکتی۔ علم تصوف کوئی ایسا غیراقداری علم نہیں کہ جس کے ذریعے ‘ہر قسم کی انفرادیت’ کا فروغ ممکن ہو سکے، بلکہ خانقاہی نظام کے ذریعے وہی شخصیت وقوع پذیر ہوتی ہے، جس کی قلبی کیفیات کا نقشہ احادیث کی ‘کتاب الرقاق’ میں کھینچا گیا ہے۔ خانقاہ درحقیقت صرف کسی جگہ کا نام نہیں، بلکہ ایک مخصوص مقصد کے حصول کے لیے افراد کے تعلقات سے ابھرنے والا ایک مکمل نظام ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ کہ ہر ساخت افراد کے مخصوص مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر وضع کردہ تعلقات کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ ساخت اور روح کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ساخت ختم ہوتے ہی روح بھی تحلیل ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ساخت ختم ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ افراد کے تعلقات کا وہ تانا بانا جو اس مقصد کے حصول کی ضمانت تھا، اب موجود نہیں رہا۔ کسی تہذیب کا زوال درحقیقت ان اداروں کی ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے عیاں ہوتا ہے، جو ایک تہذیب کے مقاصد کے حصول کی خاطر افراد کے تعلقات کے نتیجے میں ابھرتے ہیں۔
ٹی وی کی ساخت و مقصدیت اور دینی علم کا مزاج
اوپر دی گئی مثالوں کا مقصد اس نکتے پر غور کی دعوت دینا ہے کہ کیا واقعی ٹی وی کی ساخت میں دینی تعلیم کا مقصد داخل کرنا ممکن ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے ٹی وی کی ساخت اور مقصدیت پر غور کرنا ہوگا۔ یعنی پہلے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ٹی وی کیا ہے؟ بنیادی طور پر یہ بُنیے کی دکان ہے، جس کا کام سرمایہ داروں کی تیار کردہ اشیاء کو اشتہارات کی لیپا پوتی کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنا کر بیچنا ہے۔ ٹی وی اور پرچون کی دکان میں اصلاً کوئی فرق نہیں۔ دونوں بازار میں اشیائے صَرف و ضرورت (consumer goods) بیچنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ٹی وی کے بارے میں ہماری یہ رائے محض جذباتیت اور خام خیالی ہے تو ٹی وی پر معاشی (economic) و کاروباری (business) نقطۂ نگاہ سے غور کیجیے۔ معاشی نقطۂ نگاہ سے کسی کاروبار میں وصولیوں (recenues) اور اخراجات (costs) کا حساب لگایا جاتا ہے۔ ٹی وی کے اخراجات کیا ہیں؟ اولاً ایک ٹی وی چینل قائم کرنے کے لیے لاکھوں نہیں، بلکہ کروڑوں روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوئم ٹی وی پر نشر کیے جانے والے پروگرام بھی ٹی وی کے اخراجات میں شامل ہوتے ہیں نہ کہ وصولیوں میں ۔ کیوں کہ ٹی وی ان پروگراموں (مثلاً ڈراموں و فلموں وغیرہ) کو قیمتاً خریدتے ہیں۔ ٹی وی کے پاس اخراجات کی اتنی طویل فہرست پورا کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟ اس کا جواب ہے اشتہارات! یعنی ٹی وی اپنے اخراجات اشتہارات دکھا کر وصول کرتے ہیں۔ اگر معاشیات کا یہ مفروضہ درست ہے کہ کاروبار کا مقصد نفع کمانا ہے تو ظاہر بات ہے کہ ٹی وی کا مقصد پروگرام دکھا کر اخراجات کرنا نہیں، بلکہ اشتہارات دکھا کر روپے کمانا ٹھہرتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا۔
ٹی وی کے نفع کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنی کمپنیاں اسے اشتہارات دینے پر تیار ہوتی ہیں اور زیادہ اچھے اشتہارات اسی ٹی وی چینل اور پروگرام کو ملتے ہیں، جسے لوگ پسند کرتے ہیں۔ کمپنیاں اشتہارات پر روپے کیوں خرچ کرتی ہیں؟ اس لیے کہ عوام الناس ان کی زیادہ سے زیادہ اشیاء خریدیں اور ان کے نفع میں اضافہ ہوتا چلا جائے۔ ایک فرد اس دھوکے میں مبتلا رہتا ہے کہ پچاس روپے ٹی وی لائسسنس اور کیبل کی معمولی فیس دے کر اتنے سارے ٹی وی چینلز سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملنا مفت کا سودا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اشہاری کمپنیاں اشتہارات کے اخراجات کو اشیاء کی قیمت میں شامل کر کے سب لوگوں سے وصولتی ہیں۔ گویا پورا معاشرہ مل کر ٹی وی فن کاروں، اداکاروں اورکھلاڑیوں کو پالتا ہے۔ پروگرام ٹی وی چینلز کی پراڈکٹس ہیں، جنہیں وہ اشتہارات کے عوض بیچ کر نفع کماتے ہیں۔ ٹی وی ایک ایسا نظام ہے، جس کا مقصد تعلیم و تدریس، تبلیغ و تلقین یا تطہیرِ نفس نہیں، بلکہ نفس پرستی، حرص و حسد اور نفع خوری کے عموم کے لیے صنعتی اداروں کی اشیاء کی فروخت ہے، جو اشتہارات کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ اصلاً و عملاً ٹی وی مشتہرین (adcertisers) کے دھندے کو پھیلانے اور کمپنیوں کے نفع میں اضافہ کرنے کا دھندہ ہے۔ جیسے پرچون کی دکان کے مالک کا اصل مقصد نفع کمانا ہوتا ہے نہ کہ کوئی مخصوص شے بیچنا۔ اسی طرح ٹی وی کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کیا بیچ رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد وہ شے بیچنا ہے، جس کے ذریعے اس کا نفع بڑھ سکے۔ جو اسے علم دین کی اشاعت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ خوش فہم ہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ٹی وی علم اور دین کے ذریعے بھی دھندہ کرنے اور کاروبار پھیلانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ لہذا یہ رمضان میں دینی پروگرام پیش کر کے مال بناتا ہے۔ ہر عالم کے لیے ٹی وی کے دروازے کھلے ہیں، بشرطیکہ وہ خود کو اس لائق ثابت کر دے کہ اس کے ذریعے ٹی وی پیسے بنا سکتا ہے۔ اگر ٹی وی کو پتا چل جائے کہ کسی عالم یا کسی عابد زاہد کے سامعین کی تعداد زیادہ ہے تو اس کے نام پر ٹی وی والے اشتہارات کا دھندہ شروع کر دیتے ہیں۔ ٹی وی پر اشیاء فروخت ہوتی ہیں یا انسان! ٹی وی ایک مکمل نظام ہے، جسے اگر نفع خوری اور لذت پرستی کے فریم ورک سے الگ کر دیا جائے تو ایک دن نہیں چل سکتا۔ آخر اشتہارات کے بغیر کروڑوں روپے کی لاگت کہاں سے پوری ہوگی؟ ان اشتہارات کا مقصد کمپنیوں کے نفع میں اضافے کے لیے صارفانہ معاشرت و معیشت (consumer socity) کے فروغ کے علاوہ اور کیا ہے؟

2017 نوائے امت ۔ اکتوبر

Related posts