پارٹی منشور اور انتخابی نعروں کی حقیقت

مولانا محمد زاہد اقبال

 

جمہوری سیاست میں یہ بات طے ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں جو پارٹی اکثریت حاصل کرتی ہے وہی حکومت بناتی ہے لیکن اس کی میعاد مقرر ہوتی ہے۔جب یہ میعا د پوری ہو جاتی ہے یا کسی وجہ سے قبل از وقت حکومت ختم ہو جاتی ہے تو نئے سرے سے انتخابات ہوتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومت کرنے والی پارٹی سمیت تمام سیاسی پار ٹیاں پھر عوام کے پاس جاتی ہیںاور حکومتی پارٹی اپنی حکومت کی کار کردگی اور اختیا ر کی جانے والی پالیسیوں اور خدمات کا ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کر کے انہیں اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ہمیں دوبارہ ووٹ دے کر دوبارہ حکومت کرنے کا موقع دیا جائے۔حکومتی پارٹی کے مقابلے میں حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیاں حکومتی پارٹی کی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عوام کے سامنے اس کی ناکامیوں اور ناقص کارکردگی کا ریکارڈ پیش کر کے عوام کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیںکہ وہ حکومت کو چلانے کی زیادہ اہلیت رکھتی ہیں۔ اس لئے آئندہ انہیں حکومت کرنے کاموقع دیا جائے۔

حکومتی پارٹی ہو یا حزب اختلاف کی دیگر سیاسی پارٹیاں انتخابات کے دوران عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے اپنا اپنا منشور جاری کرتی ہیں۔جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیت کر حکومت بنا لیتی ہیںتو ملک و قوم کی فلاح وبہبود پر مبنی فلاں فلاں پالیسیاں اختیار کریں گی۔ہر پارٹی کا منشور اس پارٹی کے سیاسی نظریا ت اور بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ہر پارٹی کا منشور اس پارٹی کے اس سوچ کو واضح کرتا ہے کہ وہ حکومت میں آکر قوم کو کیا کچھ دینا چاہتی ہے۔اس لئے ہر پارٹی یہ بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ منشور کو عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ جاذب ،پرکشش اور متاثر کن بنایا جائے۔چنانچہ اس مقصد کے لئے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے ماہرین کی خدمات حا صل کی جاتی ہیں۔جو ایسے ایسے اقدامات اور پالیسیوں پر مبنی منشور تیار کرتے ہیں جس میں عوام سے ان کی فلاح وبہبود کے زیادہ سے زیادہ وعدے کیے جاتے ہیں۔چنانچہ پارٹی رہنما اس منشور کا باقاعدہ طور پر اعلان کرتے ہیں۔اور دوران انتخابات وعدوں سے بھر پور ایسے نعرے بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ زیادہ سے زیادہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔ شاید مغربی ممالک میں پارٹیاں اپنے منشور اور پالیسیوں کی بنیاد پر انتخابات میں عوام کو اپنی طرف متوجہ کر کے اور انکے ووٹ حاصل کر کے بر سر اقتدار آتی ہوں۔لیکن پاکستان میں اس بات کا کوئی تصور نہیں کہ پارٹیاں اپنے منشور کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابی حاصل کریں۔کیونکہ یہاں عوام کسی نظریے ،اصول اور پالیسی کی بنیاد پر کسی امیدوار یا پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ ذاتی تعلقات،خاندان ، برادری اور مال و دولت کے پیش نظر امیدوار کو ووٹ دیے جاتے ہیں۔چاہے اس امیدوار کے جو بھی نظریات اور اصول ہوں اور اس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو۔بلکہ پاکستان میں ہر انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب ہونے والے ایسے آزاد امیدواروں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہوتی ہے جن کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں ہوتا۔آزاد امیدواروں کی کامیابی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستانی عوام پارٹیوں کے منشور اور ان کی پالیسیوں کو سامنے رکھ کر ووٹ نہیں دیتے بلکہ ذاتی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عوام نہ تو سیاسی جماعتوں کے منشور کو پڑھتے اور سمجھتے ہیںاور نہ انہیں اس سے کوئی سروکار ہوتا ہے۔لیکن اس کے باوجود پاکستانی سیاسی پارٹیاںہرانتخابات کے موقعہ پر اپنے اپنے منشور کا اعلان کرتی ہیں۔الیکشن 2013ء کے حوالے سے بھی سیاسی پارٹیوں نے اپنے منشور کا اعلان کیا ہے۔جس کا اجمالی جائزہ پیش خدمت ہے۔گذشتہ پانچ سال2008ء سے2013ء تک اور اس سے پہلے بھی کئی بار برسراقتدار رہنے والی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی اپنے منشور کا اعلان کیا ہے۔جس کے مطابق سابقہ نعرے روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کا بجٹ بڑھانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ دوبارہ برسر اقتدار آنے کی صورت میں ملک بھر میں مزدوروں کا ماہانہ مشاہرہ 18ہزارکرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے چار نمائندے قومی اسمبلی میں اور دودو نمائندے صوبائی اسمبلیوں میں نشست حاصل کر سکیں گے۔بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے12ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔2018ء تک پورے ملک سے پولیو کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ بڑھا کر دو ہزار کر دیا جائیگا۔10ہزار نوجوانوں کو سکالر شپ دی جائے گی اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جائیگا۔اس کے علاوہ بھی اور کئی وعدے کیے گے ہیں۔

پرویزی آمریت کی چھتری تلے 2002ء سے 2007تک برسر اقتدار رہنے والی مسلم لیگ ق نے بھی اپنے منشور کا اعلان کر دیا ہے۔جس کے مطابق اقتدار میں آکر کسانوں کے لئے زرعی ٹیوب ویلوں پر بجلی مفت کر دی جائے گی۔دہشت گردی ،غربت اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائیگا۔ کرپشن کو جڑ سے ختم کر دیا جائیگا۔اور تعلیم سب کے لئے ہو گی۔ق لیگ نے مرکزی نعرہ یہ ختیار کیا ہے۔”سچ بولیں گے سچ کا ساتھ دیں گے ظلم کے خلاف مزاحمت کی جائے گی اور مظلوم کا ساتھ دیا جائیگا۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور8اپریل 2013ئ) ہر جمہوری حکومت کا حصہ بن کر سدا بہار اقتدار کے مزے لوٹنے والی متحدہ قومی مومنٹ نے بھی اپنا منشور جاری کر دیا ہے۔جس کے مطابق عوام کو بااختیار بنایا جائیگا۔جبکہ وڈیروں اور جاگیرداروں کی زرعی آمدنی پر ٹیکس لگایا جائیگا۔تعلیمی اداروں کو ترقی دے کر انگریزی میڈیم کے تعلیمی اداروں کی سطح پر لایا جائیگا۔عوام کو صحت کا بنیادی حق دیا جائیگا۔پی آئی اے، ریلوے، اور پاکستان سٹیل مل سمیت تمام اداروں کو مستحکم کیا جائیگا۔ توانائی کا بحران ختم کیا جائیگا۔اور خواتین کو مکمل نمائند گی دی جائیگی۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی وعدے کیے گئے ہیں۔(روزنامہ نوائے وقت 2 اپریل 2013)

 

ضیا ء آمریت کی پیداوار اور گذشتہ پانچ سال 2008ء سے 2013ء تک پنجاب میں اور اس سے قبل پنجاب میں ہی چار مرتبہ اوروفاق میں دو مرتبہ برسر اقتدار رہنے والی مسلم لیگ ن نے بھی اپنا منشور جاری کردیاجس کے مطابق توانائی کے بحران پر دو سال میں قابو پا لیا جائیگااور مزدوروں کی کم سے کم اجرت 15ہزار مقرر کی جائیگی۔ن لیگ نے یہ نعرہ بلند کیا ہے”ہم نے بدلا ہے پنجاب ہم بدلیں گے پاکستان”(روزنامہ خبریں لاہور16مارچ2013ء ) گذشتہ دو سالوں سے تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والی پارٹی تحریک انصاف نے بھی اپنا انتخابی منشور نیا پاکستان کے نام سے جاری کیا ہے جو کہ کافی طویل ہے اس کے چیدہ چیدہ نکات بجلی کی لوڈشیڈنگ تین برس میں ختم کرنے، کرپشن نوے روز میں ختم کرنے ، تعلیم ،صحت کا ٹیکس محصولات ،انصاف اور توانائی میں اضافے کے لئے ایمرجنسی لگانے اور امیر وغریب کا فرق مٹانے اور اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنے جیسے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ بھی متعدد وعدے کیے گئے۔(روزنامہ نوائے وقت لاہور10اپریل2013ئ)

پاکستان کی چند اہم سیاسی جماعتوں کے منشوروں کے چیدہ چیدہ نکات کو بطور نمونہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے قارئین کے سامنے ان جماعتوں کے نظریات اور ان کی پالیسیوں کا اجمالی نقشہ آجائے۔سیاسی جماعتوں کے منشوروں کو سامنے رکھا جائے تو پہلی بات یہ واضح ہوتی ہے کہ ان میں کئے گے وعدے محض نمائشی اور وقتی و عارضی اقدامات پر مبنی ہیں۔عوام کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر مبنی پالیسیوں کو کسی جماعت نے منشور کا حصہ نہیں بنایا ۔بنیادی تنخواہوں اور مزدور کا مشاہرہ15ہزار کردیا جائے یا 18ہزار کر دیا جائے اس سے 50فیصد غریب عوام کی غربت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ دوہزار کرنے سے بیواوں اور مختاج و نادار لوگوں کے اخراجات پورے نہیں ہو سکتے۔10ہزار نوجوانوں کو سکالر شپ دینے اور سرکاری تعلیمی اداروں کو انگریزی میڈیم تعلیمی اداروں کی سطح تک لانے سے جہالت کے اندھیروں کا خاتمہ اور تعلیم کا فروغ نہیں ہو سکتا۔زرعی ٹیوب ویلوں پر بجلی مفت کرنے سے اور وڈیروں و جاگیرداروں کی زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے سے غریب کسانوں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔لاہور میں سڑکوں کا جا ل بچھانے اور میٹروبس چلانے سے پورا پنجاب بدل سکتا ہے اور نہ ہی پورے پاکستان میں ترقی اور خوشحالی آسکتی ہے۔غربت و بیروزگاری کے خاتمے،مہنگائی پر قابو پانے،بجلی وگیس کے بحران کے خاتمے،تعلیم کے فروغ اور اس کے عام کرنے ،زراعت کی ترقی اور کسانوں کے مسائل حل کرنے،عدل وانصاف کے حصول کو ممکن بنانے،کرپشن، بدعنوانی،جھوٹ،دھوکہ،فراڈ،چور بازاری،ملاوٹ،رشوت، اقربا پروری،میرٹ کی خلاف ورزی کو روکنے،پورے ملک سے چوری ِ، ڈاکے، قتل وغارت گری،اور دہشت گردی کا خاتمہ کر کے امن و امان قائم کرنے ،ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری کے خاتمے،وڈیروں، جاگیرداروں اور صنعت کاروں کے ظلم وستم کو ختم کرنے ،ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو روکنے ،امریکہ و یورپ کے غلام و ایجنٹ سیاستدانوں و بیوروکریٹوں سے ملک کو پاک کرنے،امریکہ ویورپی غلامی کا طوق قوم کے گلے سے اتارنے اور نئی نسل کی تربیت کر کے انہیں ملک کی ترقی و خوشحالی،قوم کی بھلائی و خیر خواہی،اسلام اور مسلمانوں کا سچا نمایندہ بنانے کے لئے ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر مبنی انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ایسا محض وقتی نمائشی وعدوںاور نعروں سے ممکن نہیں ہے۔

سیاسی جماعتوں کے منشوروں کے حوالے دوسری اہم بات یہ ہے کہ منشور چاہے کتنا ہی اچھی پالیسیوں پر مشتمل ہولیکن اس کا فائدہ اورنتائج وثمرات اسی وقت ہی سامنے آسکتے ہیں۔جب ان پر محنت ،خلوص اور استقامت کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔اگر اچھے سے اچھے منشور کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتاتو اس کی حیثیت محض کاغذ کے ایک ٹکڑے کی رہ جاتی ہے۔سیاسی جماعتوں کی گذشتہ حکومتوں کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت روزروشن کی طرح کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان جماعتوں نے منشور میں کیے گئے وعدے اور انتخابات میں بلند کئے جانے والے نعرے محض عوام کو دھوکہ دینے کے لئے اور ان سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے اختیار کئے تھے۔کیونکہ دودو تین تین دفعہ برسراقتدار آنے والی اور حالیہ انتخابات میں پھر اپنا منشور جاری کرنی والی جماعتوں نے اپنی حکومتوں کے دوران اپنے منشور پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں کیا۔بلکہ اس کے برعکس اقدامات اور پالیسیاں اختیار کی ہیں۔جس کے نتیجے میں آج پورا ملک اور اس کا ہر شعبہ تباہی کے کنارے پر پہنچ چکا ہے۔لیکن با ربار حکومتوں کے مزے لوٹنے والی جماعتوں اور ان کے قائدین بڑی ڈھٹائی کے ساتھ منشور جاری کر کے اور عوام سے وعدے کر کے اپیل کر رہی ہیں کہ انہیں دوبارہ حکومت بنانے کا موقعہ دیا جائے۔جو جماعتیں اور ان کی لیڈر شپ کئی کئی بار حکومت کرنے کے باوجود بھی ملک کے مسائل حل کر سکی ہیں اور نہ ہی عوام کے دکھوں کا مداوا کر سکی ہیں۔ان سے اس بات کی توقع رکھنا کہ آئندہ یہ قوم سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں گے انتہائی احمقانہ بات ہے۔

سیاسی جماعتوں کے منشوروں سے تیسری اور مذکورہ دونوں باتوں سے بھی سب سے اہم بات یہ سامنے آتی ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے جس مقصد کے لئے پاکستان قائم کیا گیا تھا۔یہ مقصد کسی بھی پارٹی کے منشور کا حصہ نہیں ہے۔حالانکہ ہر صاحب ایمان پاکستانی یہ چاہتا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام اور شریعت محمدی کا نفاذ کیا جائے۔لیکن ”عوام کی حکومت،عوام کی مرضی اور عوام کی رائے کے احترام ”کا رٹ لگانے والی جمہوری سیاسی جماعتوں میں سے کسی بھی جماعت نے عوام کی اس خواہش کو منشور کا حصہ نہیں بنایا۔اور نہ ہی وہ اس حوالے سے عملی طور پر کوئی قدم اٹھانا چاہتی ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی نظام کا نفاذ ان جماعتوں کے مقاصد میں شامل ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج تک ان جماعتوں نے اسلامی نظام کے نفاذ اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا۔بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کے راستے میں ہمیشہ رکاوٹ بنتی آرہی ہیں۔اس لئے ان جماعتوں سے اسلامی نظام یا اسلامی قوانین کے حوالے سے کوئی امید رکھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہو گی۔

جہاں تک مذہبی سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو اگر چہ ان کے منشوروں میں اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے وعدے کیے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ محض منشور میں وعدہ کرنے سے اسلامی نظام نافذ نہیں ہوسکتااور نہ آج تک نافذ ہوا۔بلکہ اس کے لئے تو قانون سازی کر کے ان قوانین کو عملی جامہ پہنانا لازم ہے۔لیکن اسلامی قوانین کے حوالے سے قانون سازی اسی وقت ہی ہو سکتی ہے جب مذہبی سیاسی جماعتوں کو اسمبلیوںمیں اکثریت حاصل ہو جو کہ آج تک نہیں ہو سکی۔اور نہ موجودہ جمہوری سیاست میں آئندہ65 سالوں میں حاصل ہونے کی توقع ہے۔کیونکہ جمہوری و انتخابی سیاست میںغریب عوام ،دیانت دار ،شریف اور ملک و قوم کے خیرخواہ افراد منتخب ہو ہی نہیں سکتے۔بلکہ ظالم جاگیر دار ،سود خور سرمایہ دار ،کرپٹ صنعت کار اور خائن دولت مند ہی اسمبلیوں میں پہنچتے اور اکثریت حاصل کرتے ہیں۔اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اگر مذہبی سیاسی جماعتیں چند سیٹیں حاصل ہی کر لیںجیسا کہ حاصل کرتی آ رہی ہیںتو قانون سازی کے حوالے سے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔جیسا کہ آج تک ہوتا آرہاہے۔اس لئے جب مذہبی سیاسی جماعتوں کے منشور میں اسلامی نظام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے دعووں پر عمل درآمد ممکن ہی نہیںتو اسلام کے نام پر ووٹ لینا اور دینا اور یہ امید رکھنا کہ اس طرح اسلامی قوانین کا نفاذ ہو جائیگااور اسلامی معاشرے کی تشکیل ہو جائیگی محض خوش فہمی ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ آج تک اس خوش فہمی بلکہ غلط فہمی میں مبتلا چلا آرہا ہے۔ حالانکہ پاکستان کی گذشتہ 65سالہ تاریخ نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ انتخابات اور ووٹ کی سیاست کے ذریعے اسلامی نظام کا نفاذممکن نہیں ہے۔تاریخ کی اس کھلی ہوئی شہادت کے باوجود نامعلوم مذہبی سیاسی جماعتیں کافرانہ و مشرکانہ جمہوری سیاست کے دلدل میںکیوں پھنسی ہوئی ہیںاور مغربی جمہوریت میں اپنے آپ کو کیوں ملوث کیا ہوا ہے؟حالانکہ اسلامی نظام کے نفاذ کا نبوی انقلابی طریقہ کار واضح ہے۔جس پر چل کر اسلامی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔

Related posts