پاکستانی عوام کس بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں؟

 

مولانا محمد زاہد اقبال

ولانا             ووٹ جمہوری سیاست کی بنیاد ہے۔سیاستدان عوام سے ووٹ لے کر ہی منتخب ہوتے ہیں۔اور اسمبلیوں کے ممبر بن کر وزیر اور مشیر بنتے ہیں۔پھر جب تک اسمبلی رہتی ہے وہ اس کے ممبر رہتے ہیں۔اگر حکومت میں شامل ہوں پھر تو ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہوتا ہے۔اور اگر حکومت میں شامل نہ ہوں اور حزب اختلاف کا حصہ بنے تب بھی ان کے وارے نیارے ہوتے ہیں۔رکن اسمبلی کی تنخواہ،اسمبلی اجلاسوں کے دوران ملنے والاٹی اے ڈی اے اور انتخابی حلقے کے لئے ملنے والی گرانٹیں اس قدر ہوتی ہیں کہ نہ صرف انتخابات کے دوران خرچ کی جانے والی اصل رقم نکال کر نفع بھی کما لیتے ہیں۔بلکہ آئندہ آنے والے انتخابات کے لئے بھی اچھا خاصا سرمایہ جمع کر لیتے ہیں۔الغرض سیاست دانوں کی سیاست اور اقتدار کی بنیا د ووٹ ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام سیاستدانوں کو کس بنیا د پر ووٹ دیتے ہیں؟جمہوری سیاست میں ووٹ کو رائے قرار دیا جاتا ہے یعنی عوام امیدواروں کی نظریات اور ان کی پالیسیوں ان کی سیاسی کار کردگی اور ان کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے اور کسی ایک امیدوار کو بہتر خیال کر کے اس کے حق میں رائے دیتے ہیں کہ یہ ہمارا نمایندہ ہے۔اور پم اس کے سیاسی نظریات اور پالیسیوں سے اتفاق کرتے ہیں۔

کیا ووٹ واقعی رائے ہے؟حقیقت یہ ہے کہ ووٹ رائے ہرگز نہیں ہے۔بلکہ یہ تو ایک مہر لگی ہوئی پرچی ہوتی ہے۔جس شمار کیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک جہاں ایک طویل عرصے سے جمہوریت نافذ اور رائج ہے۔شرح خواندگی اور عوام کے اندر سیاسی شعور ترقی پذیر ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔وہاں بھی ووٹ بطور رائے نہیں دیا جاتا۔بلکہ اس کے پس پردہ کئی عوامل ہوتے ہیں۔پھر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میںجہاں شرح خواندگی 30 فیصد سے بھی کم ہے اور عوام میں سیاسی شعور نہ ہونے کے برابر ہے۔یہاں ووٹ کو رائے قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ووٹ کو ہرگز رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیوں کہ عوام امیدواروں کے سیاسی نظریات ،پالیسیوں اور خدمات کو سامنے رکھتے ہوتے ہرگز ووٹ نہیں دیتے بلکہ مال ودولت، جائیداد،سرمائے، برادری،خاندان ،ذاتی تعلقات اور دیگر کئی وجوہات کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔خود سیاستدان اس بات کو تسلیم کرتے ہیںکہ پاکستانی عوام ذاتی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین پاکستان کے سینئر سیاستدان ہیںسیاست انہیں وراثت میں ملی ہے۔سیاست میں پلے بڑھے اور ساری زندگی سیاست میں گزار دی۔وفاقی وزیر داخلہ اور چند ماہ وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔جمہوریت کو بھی پروں چڑھایا ہے اور آمریت کے لئے بھی بیساکھی کا کردار ادا کر چکے ہیں۔اگرچہ پاکستانی سیاستدانوں کی تمام خوبیاںان کے اندر جمع ہیںلیکن کبھی کبھی بڑے پتے کی بات کر جاتے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے وائس آف امریکہ کو انٹر ویو  دیتے ہوئے کہاکہ ”جوں جوں انتخابات قریب آئیں گے سیاسی افرا تفری میں اضافہ ہوگا۔ملک کی سیاسی فضا اب مزید خراب ہو گی۔ووٹ نہ نظریاتی بنیادوں پر ، نہ سیاسی بنیادوں پر اور نہ اجتماعی بنیادوں پر کاسٹ ہوں گے بلکہ ذاتی بنیادوں پر کاسٹ ہوں گے۔(روزنامہ نوائے وقت لاہور3اپریل2013ئ)

چونکہ چوہدری شجاعت حسین بڑے منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔اس لئے انہوں نے حقیقت واضح کر دی ہے کہ عوام نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ ذاتی بنیادوں پر ووٹ دیں گے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ہر پاکستانی سمجھتا بھی ہے اور وہ اس کا خود بھی مشاہدہ کرتا رہتا ہے کہ پاکستان کے ہر قومی اور صوبائی حلقے سے وہی امید وار کامیاب ہوتا اور لوگوں کی پرچیاں زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکتا ہے۔جو تمام امیدواروں میں سب سے بڑا جاگیردار،صنعت کار، سرمایہ دارہو۔اس کی برادری سب سے بڑی ہو،اس کا سیاسی اثر و رسوخ مضبوط ہو،عوام کے تھانے اور کچہری کے مسائل کو حل کرنے میں ہوشیار،نوکریاں،سڑکیں اور گلیاں بنوانے کے جھوٹے وعدے کرنے میں یدطولٰی رکھتا ہو۔عوام کو نہ تو امیدوار کے سیاسی نظریات اور پالیسیوں سے غرض ہوتی ہے اور نہ وہ یہ جاننے کی زخمت کرتے ہیں کہ اس امیدوار کا تعلق کس پارٹی اور جماعت کے ساتھ ہے؟اور اس پارٹی اور جماعت کے نظریات اور پالیسیاں کیا ہیں؟عوام امیدوار کی مالی حیثیت کو دیکھتے ہیں۔اس کے خاندان اور برادری  کو پیش نظر رکھتے ہیں۔اور یہ کہ وہ ہمارے تھانے اور کچہری کے مسائل کو حل کرنے میںکتنی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر امیدوار میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔تو وہ ان کے ووٹ کی پرچی کا حق دار ہے۔ چاہے وہ ملحد اور بے دین

ہو،شراب خور و زنا کار ہو،سودی کاروبار کرنے والا خائن و دھوکے باز ہو،سرکاری گرانٹوں کو ہڑپ کرنے والااور قومی خزانے کو لوٹنے والاہو،ملک و ملت کا دشمن اور ملک دشمن عناصر کا ایجنٹ وتنخوادار ہو۔یہی وجہ ہے کہ جاہل و بے شعورملک و ملت کے مسائل و وسائل اور ریاست و حکومت کے معاملات سے ناواقف عوام ہر بارانہی سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ووٹ کی پرچیاں تھما دیتے ہیں جو انہیں ہر بار دھوکہ دیتے ہیں۔اور ایسے ایسے اقدامات کرتے ہیں اور ایسی ایسی پالیسیاں بناتے ہیں۔جن کے نتیجے میں عوام میں جہالت، بے روزگاری،مہنگائی اور غربت بڑھتی جا رتی ہے جبکہ ان کے ووٹ کی پرچی لینے والے امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں۔

 

Related posts