پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ

خاتم الانبیاء و المرسلین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو اس بات کی دعوت دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطاء کردہ احکام،تعلیمات،اصول،قوانین اور نظام کو اپنے جسم ،گھر ،معاشرے ،ملک اور پوری دنیا پر نافذ کریں۔چنانچہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرئہ عرب میں اسلامی نظام حیات قائم کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین نے نہ صرف اسلامی نظام کو سنبھالا بلکہ دعوت و جہادکے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام مفتوحہ علاقوں میں نظام خلافت قائم کر دیا ۔پھریہ بابرکت نظام صدیوں جاری رہا لیکن مسلمانوں کی بنیادی اسلامی تعلیمات سے دوری اور اغیار کی سازشوں کے نتیجہ میں بیسویں صدی عیسوی کے پہلے ربع میں خلافت عثمانیہ بھی ختم ہوگئی اور یوں صدیوں بعد مسلمان نظام خلافت سے محروم ہو گئے جس کے نتیجے میں آج مسلمان دینی ،روحانی ،اخلاقی ،معاشرتی ،اقتصادی اور عسکری حوالے سے زوال کا شکار ہیں۔

تحریکِ آزادی

بر صغیر میں انگریزوں کی آمد اور مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد مسلمان بالخصوص علماء کرام اور مجاہدین عظام اٹھ کھڑے ہوئے اور انگریزی استعمار کے خلاف میدانِ کارزار گرم کرتے ہوئے جہادکیا۔چنانچہ 1857ء کی جنگ ِآزادی میںان حضرات نے قائدانہ کرداراداکیا۔اس کے بعدمسلسل تحریک ِآزادی جاری رہی۔

تحریک پاکستان کامقصد

پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد نے عوامی تحریک کا رُخ اختیار کر لیاتو مسلمانوں نے ایک الگ ریاست کے حصول کے لئے تحریک چلائی ۔ انگریزوں سے آزادی کی تحریک کے دوران علماء کرام نے تحریک پاکستان کی حمایت اس شرط اور وعدے پر کی تھی کہ آزادی کے بعدنئی مملکت پاکستان میں اسلامی نظام حیات نافذ کیا جائے گا۔مسلم لیگ کی قیادت نے علماء کرام سے اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کر لیا اورتحریک کے دوران جلسوں اورجلوسوںمیں” پاکستان کا مطلب کیا؟لا الہ الا اللہ” کا نعرہ لگایا ۔

بانی پاکستان کااعلان

بانی پاکستان جناب محمد علی جناح صاحب نے تحریکِ پاکستان کے دوران کہا:
”میں لندن میں امیر انہ زندگی بسر کر رہاتھا ، اب میں اسے چھوڑ کر انڈیا اس لیے آیا ہوں کہ یہاں لا الہ الا اللہ کی مملکت کے قیام کے لیے کوشش کروں ،اگر میں لندن میں رہ کر سرمایہ داری کی حمایت کرنا پسند کرتا تو سلطنت برطانیہ جو دنیا کی عظیم ترین سلطنت ہے ، مجھے اعلی سے اعلی مناصب اور مراعات سے نوازتی ،اگر میں روس چلا جاؤں یا کہیں بیٹھ کر سو شلزم ، مارکسزم یا کمیو نزم کی حمایت شروع کروں تو مجھے بڑے سے بڑا اعزاز بھی مل سکتا ہے اور دولت بھی ،مگر علامہ اقبال کی دعوت پر میں نے دولت اور منصب دونوں کو پرے دھکیل کر انڈیا میں محدود آمدنی کی دشوار زندگی بسر کرنا پسند کیا ہے ،تاکہ مسلمانوں کے لیے ایک اسلامی سلطنت وجود میں آئے اور اس میں اسلامی قوانین کا بول بالا ہو ،کیوں کہ انسانیت کی نجات اسلامی نظام ہی میں ہے ،صرف اسلام کے علمی ، عملی اور قانونی دائروں میں آپ کو عدل ، مساوات ، اخوت ، محبت ، سکون اور امن دست یاب ہو سکتا ہے۔برطانیہ ، امریکا اور یورپ کے سارے بڑے بڑے سیاست دان مساوات کا راگ الاپتے ہیں،روس کا نعرہ بھی مساوات اور ہر مزدور اور کاشت کار کے لیے روٹی ،کپڑا اور مکان مہیا کرنا ہے، مگر یورپ کے بڑے بڑے سیاست دان عیش و عشرت کی جو زندگی بسر کرتے ہیں ،وہ وہاں کے غریبوں کو نصیب نہیں ، محمد علی جناح کا لباس اتنا قیمتی نہیں ،جتنا لباس یورپ کے بڑے بڑے لوگ اور روس کے لیڈر زیب تن کرتے ہیں ۔نہ محمد علی جناح کی خوراک اتنی اعلی ہے ،جتنی سوشلسٹ اورکمیونسٹ لیڈروں اور یورپ کے سرمایہ داروں کی ہے ، ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے سارا اختیار ہوتے ہوئے غریبانہ زندگی بسر کی ، لیکن رعایا کو خوش اور خوش حال رکھا ۔ میں یہ دیکھ رہاہوں کہ انڈین کا نگریس حکومت بنانے کی صورت میں برطانوی ٹھگوں کو تو یہاں سے نکال دے گی، پھر خود ٹھگ بن جائے گی ،یہ لوگ صرف مسلمانوں کی آزادی ختم نہیں کریں گے ، بل کہ اپنے لوگوں (اچھوتوں )کی آزادی بھی ختم کر دیں گے ، اس لیے ہم سب کو پاکستان کے قیام کے لیے بھر پور کوشش کرنی چاہیے ۔ذرا خیال فرمائیے کہ اگر لا الہ الا اللہ پر مبنی حکومت قائم ہو جائے تو افغانستان ،ایران ،ترکی ، اردن ، بحرین ، کویت ،حجاز ، عراق ، فلسطین ،شام ،تیونس ،مراکش ، الجزائر اور مصر کے ساتھ مل کر یہ کتنا عظیم الشان اسلامی بلاک بن سکتا ہے ۔”(روزنامہ ندائے ملت ،لاہور15اپریل 1970 )

تحریکِ پاکستان کی کامیابی کی وجہ

تحریکِ پاکستان میںعلماء کرام کی شمولیت اوربھرپورکردار کی وجہ سے ہی تحریک نے زورپکڑاکیونکہ علماء کرام کی تحریک میںشمولیت کی وجہ سے مسلمان عوام میںزبردست جوش وخروش پیداہوگیااوروہ تحریک میںشامل ہونے لگے جس کے نتیجے میںتحریک آگے سے آگے برھتی چلی گئی۔بالآخربرصغیرکی تقسیم عمل میںآئی اورپاکستان قائم ہوا ۔الغرض پاکستان کے قیام کامقصداسلامی نظامِ حیات کاقیام ہی تھااوراسی مقصدکے حصول کے لیے مسلمانوںنے قربانیاںدیں۔

اسلامی نظام کے نفاذسے انحراف

جب پاکستان بن گیاتو تحریک پاکستان میںمرکزی کرداراداکرنے والے علماکرام بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولاناعلامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ اوران کے رفقاء کرام نے اسلامی نظام کے نفاذکامطالبہ کیالیکن مسلم لیگی قیادت علماء کرام کے اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے دانستہ ٹالتی رہی ،چنانچہ قرادادمقاصد کے کاغذ پر تو دستخط کر دیے لیکن ملک کا سیاسی ،ا نتظامی ،عدالتی ،معاشرتی ،اقتصادی،تعلیمی اور عسکری ڈھانچہ اور اس کی بنیادیں مغرب کے باطل افکارو نظریات پر قائم کی گئیں ،ریاست اور معاشرے کے کسی شعبہ میںبھی اسلام اور اسلامی تعلیمات کو داخل نہ کیا گیا ۔

مغربی نظام تعلیم کے نتائج

ریاست کے تمام محکموں اور زندگی کے تمام شعبوں اسلامی نظامِ حیات نہ اپنانے کے نتیجے میں آج تقریباً سات دہائیاں گذرنے کے بعد صورت حال یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اسلامی نظام تعلیم و تربیت کو نظر انداز کرتے ہوئے مغربی نظام تعلیم کو اپنا کر کئی نسلوںکو الحاد،بے دینی اور بے راہ روی کی طرف لے جایا گیا اوران کے عقائد ،نظریات وخیالات ،احساسات وجذبات،اخلاق واقدار اور سیرت وکردارکوبالکل بگاڑدیاگیاہے ،چنانچہ اس نظام تعلیم سے تیار ہونے والی کھیپ ہی گذشتہ سات دہائیوں سے ملک کے تمام شعبوں کو سنبھالے ہوئے ہے جس کا یہ نتیجہ ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی محکمہ اور شعبہ ایسا نہیں جہاں کرپشن،بدعنوانی،لوٹ مار ،خیانت اور چور بازاری نہ ہو ۔

میڈیا (ذرائع ابلاغ)کابھیانک کردار

سرکاری وپرائیویٹ میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ (اخبارات ،ریڈیو ،ٹی وی چینلز وغیرہ)امریکہ ویورپ کی خفیہ امداد اور یہودونصاریٰ کی بنائی ہوئی اسلام دشمن پالیسیوں کے عین مطابق نوجوان نسل کے عقائد واخلاق اورسیرت وکردار کو بگاڑنے میں انتہائی بھیانک کردار ادا کر رہا ہے ۔

برطانوی عدالتی نظام کاراج

پاکستان کے عدالتی قوانین اور نظام آج بھی وہی ہے جو انگریز سات دہائیاں قبل چھوڑ کر گئے تھے اور عوام سات دہائیوں سے عدل وانصاف حاصل کرنے کے بجائے ظلم و ستم کی چکی تلے پس رہے ہیں ۔یہی حال تھانہ سسٹم کا ہے کہ انگریزوں نے برصغیر کے غلام عوام کوجکڑے رکھنے کے لئے جو ظلم پر مبنی تھانہ سسٹم بنایا تھاوہ آج اضافی خرابیوں کے ساتھ عوام کو ذلیل وخوار کر رہا ہے ۔

سودی نظام کواپنانے کاانجام

قیام پاکستان کے بعد اسلام کے معاشی واقتصادی نظام کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام کو اپنایا گیا ،سودی بنکوں اور سودی تجارتی اداروں کے ذریعے پورے ملک کی معیشت وتجارت کو سودی نظام میں جکڑ دیا گیا۔قیام پاکستان کی ابتداء سے ہی عالمی سودی یہودی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک وغیرہ سے سودی قرضے کی بنیاد پر ملک کے نظام کو چلانے کی روایت ڈالی گئی جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج پاکستان معاشی طور پر تباہ ہو چکا ہے، بیسیوں منافع بخش سرکاری ادارے کوڑیوں کے مول غیر ملکی کمپنیوں اور پاکستانی لٹیروں کے ہاتھ بک چکے ہیں ۔

پاکستان کی بنیادکیاہے؟

پاکستان کا دستورو آئین اسلام کے ریاست و حکومت سے متعلق اصول وتصورات کی بنیاد پر ترتیب نہیںدیا گیا ،حتی کہ ١٩٧٣ء کا نام نہاد متفقہ آئین بھی قرآن وسنت کے مطابق نہیں ہے ۔آئین میں چندد فعات اسلام کے نام پر شامل کر کے دینی طبقہ اور عوام کو آج تک یہ دھوکہ دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے ۔
تحریک پاکستان کے دوران علماء کرام سے کئے گئے وعدوں اور عوام کو دیے گئے نعروں کا تقاضا تو یہ تھا کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد اسلامی نظام حیات تشکیل دیتے ہوئے ریاست کے تمام محکموں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی احکام وقوانین کو نافذ کیا جاتا لیکن ایسا کرنے کے بجائے یہاں باطل مغربی نظام جمہوریت کو نافذ کیا گیا۔
یاد رکھیں ! جمہوریت صرف ریاستی اور حکومتی نظام کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو دین اسلام کے بنیادی عقائد ،احکام وتعلیمات اور اصول و قوانین کی کھلم کھلا نفی پرمبنی ہے اس لئے اسلام میں جمہوریت کا کوئی تصور نہیں ہے ۔اسی طرح جمہو ری طریقے پرہو نے وا لے انتخابات اور الیکشن کا اسلا م کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

جمہو ری و انتخا بی سیا ست کانتیجہ؟

مذہبی جمہو ری سیا سی جما عتو ں نے ملک کے اندر اسلا می نظا م کے نفا ذ کے لئے گزشتہ سا ت دہا ئیو ں سے انتخا با ت اور ووٹ کا را ستہ اپنا یا ہوا ہے لیکن پا کستا ن کی گزشتہ تا ریخ اس با ت پر گوا ہ ہے کہ جمہو ری و انتخا بی سیا ست کے ذریعے آج تک اسلا می نظا م نا فذ نہیں ہوا اور آئندہ بھی اس طریقے سے اسلا می نظا م قا ئم ہو نے کاکوئی امکا ن نہیںہے ۔ اکا بر علما ئے کرا م نے انتخا بی سیا ست میں محض اس بنیا د پر حصہ لیا تھا کہ چو نکہ ملک میں یہی نظا م را ئج کر دیا گیا تھا تو انہوںنے اس چلتے ہو ئے را ستے کو اسلا می نظا م کے نفا ذ کے ذریعے کے طور پر اختیا ر کر لیا کہ شا ید اس طریقے سے اسمبلیوں میں پہنچ کر اسلا می نظا م کا نفا ذ ممکن بنایا جا ئے ۔
یاد رہے کہ حضرات اکا برعلماء کرام جمہو ریت کو با طل اور خلافِ اسلام نظا م سمجھتے تھے اور انتخا با ت کو اسلا می نظا م کے نفا ذکا محض ایک ذریعہ سمجھتے تھے لیکن گزشتہ تا ریخ نے ثا بت کر دیا ہے کہ انتخا با ت اور ووٹ کے ذریعے اسلا می نظا م نا فذ نہیں ہوسکتا ۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک زوردارتحریک کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذکے لیے جدوجہدکی جائے۔

مشکلات ومسائل کا حل اسلامی نظام ہے

یاد رکھیں !آج امت مسلمہ بالخصوص پاکستان جن حالات سے دوچار اورجن مشکلات ومسائل میں گھرا ہوا ہے اس کا حل یہی ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کے حل کا ضامن اسلامی نظام قائم کیا جائے ۔اسی طرح قیامِ پاکستان کا مقصدبھی اسلامی نظام کانفاذتھا،برصغیرکیمسلمانوں نے ایک الگ ریاست کے حصول کے لئے جوتحریک چلائی تھی اس کا مقصدبھی اسلامی نظام کانفاذتھا ،آزادی کی تحریک کے دوران علماء کرام نے تحریک پاکستان کی حمایت بھی اس شرط اور وعدے پر کی تھی کہ آزادی کے بعدنئی مملکت پاکستان میں اسلامی نظام حیات نافذ کیا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ عوام کو ” پاکستان کا مطلب کیا؟لا الہ الا اللہ” کا نعرہ دیاگیااورمسلم لیگ کے جلسوں اورجلوسوںمیںیہ نعرہ مسلسل لگایاجاتارہا۔ان تمام امورکا کاتقاضایہ تھا اوراب بھی ہے کہ پاکستان میں جلد سے جلداسلامی نظام قائم کیا جائے۔

پاکستان کامستقبل اورمقدراسلامی نظام ہی ہے

یادرہے کہ پاکستان اسلامی نظام کے نفاذکے لیے ہی معرضِ وجودمیںآیاتھا،سرمایہ دارانہ نظام ،جمہوریت،لبرل ازم ،سیکولرازم یاکوئی اورباطل نظام اس کامقصدہرگزہرگزنہ تھا،لہذاپاکستان کامستقبل اورمقدراسلامی نظام ہی ہے یعنی ” پاکستان کا مطلب کیا؟لا الہ الا اللہ”
اس لیے پاکستان میں جلد سے جلداسلامی نظام قائم کیا جاناضروری ہے،کیونکہ اسلامی نظام کے نفاذکے نتیجے میںہی پاکستان کے مسائل حل ہوںگے،اہل اسلام میںکامیابیاںملیںگی،نیکیوںکافروغ اوربرائیوںکاسدباب ہوگا،قتل وغارت گری اورظلم وستم کاخاتمہ ہوگا،عوام کومسائل ومشکلات سے چھٹکاراملے گااورخوشحالی آئے گی،عدل وانصاف قائم ہوگااورامن وامان آئے گا۔

اسلامی نظام کے قیا م کی جدوجہدفرض ہے

قرآن و سنت اوراجما ع سے یہ بات ثا بت ہے اور تما م فقہا کرا م کا اس با ت پراتفا ق ہے کہ خلا فت کا قیا م اوراسلامی نظام کانفاذمسلما نوں پر فرض ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے نتیجے میں پو رادین اسلام اپنی اصلی و عملی شکل میں زندہ ہو تا ہے اور ہر با طل عقیدے ، نظا م اور فتنے کا خا تمہ ہو تا ہے ۔اس لئے ہر مسلما ن پر فرض ہے کہ وہ پو رے دین کو زندہ کر نے کے لئے اسلامی نظام کے قیا م کی جدوجہد میں باقاعدہ شامل ہو۔

”تحریک نفاذِ اسلام ”

اسلامی نظام کے نفاذ کی دعوت کو لے کر چل رہی ہے اور وقت کے جید علماء کرام ،مفتیان عظام ،محدثین اوراہل اللہ کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے ،لہٰذا آئیے ! اسلامی نظام کے نفاذکے فریضے کو نبھانے کے لئے اس جدوجہد میں شامل ہوکر اس تحریک کو پروان چڑھائیں۔
اللہ رب العزت ہمارا حامی وناصر ہو۔آمین۔

Related posts