کیاحقیقی جمہوریت ممکن ہے؟

ڈاکٹرمستفیض احمد

حقیقی جمہوریت کبھی معرض وجود میں نہیں آئی اورنہ ہی مستقبل میں کبھی آئے گیَ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری نظام کے پنپنے کے لیے کچھ خاص پس منظراورماحول درکارہے جس کی عدم موجودگی میں جمہوری طرزحکومت ،ثمربارنہیں ہوسکتا۔گویاجمہوریت کوئی ایساآفاقی اصول اورعالمگیرصداقت نہیں جوہرجگہ پردرست پایاجائے بلکہ ایک خاص طرح کے حالات اورخام مال کے ذریعے معرض وجودمیں آتی ہے اوراسی خاص طرح کے ذرائع سے زندہ رہتی ہے۔
(1) حقیقی جمہوریت کی سب سے پہلی ضرورت ایک ایسی ریاست ہے جومحدودآبادی کی حامل ہو۔قدیم یونانی آبادیوں میں ایسی ریاستیں ہی جمہوریت کے لیے مثالی قرارپاتی تھیں ۔جہاں سارے شہری ایک وقت میں ایک جگہ جمع ہوکراپنے اجتماعی معاملات کافیصلہ بحث وتمحیص کے بعد کرسکتے تھے ۔یہ الگ بات کہ شہری کی تعریف میں ایک محدود اقلیت ہی شامل ہوتی تھی بلکہ بچے،غلام اورنصف آبادی یعنی خواتین اس پورے عمل سے الگ رکھے جاتے تھے ۔اس کامطلب یہ بھی ہے کہ حقیقی جمہوریت کے لئے یونانی ریاستوں کو مثالی قراردیناتاریخی طورپر غلط ہوگا تاہم انہیں ابتدائی تجربہ گاہ کہاجاسکتاہے۔یہ حقیقت بھی پیش نظررہے کہ ایسی تجربہ گاہیں دنیاکے کئی ایک علاقوں میں اس دور میں موجودتھیں۔دورجدیدکی بڑی ریاستیں جہاں ایک ایک شہر یونان کی ریاستوں سے کہیں زیادہ آبادی رکھتاہے کیسے ممکن ہے کہ اصل جمہوریت راہ پاسکے۔بابیو(Bobio)کے بقول ،روسو(Rossear)نے اسی بنیادپرحقیقی جمہوریت کے وجودسے انکارکیاہے اوراس کے لیے ایک چھوٹی ریاست کو ضروری قراردیاہے۔
(2) گویادورجدیدمیں اس سہولت کی عدم دستیابی کی بنیادپرنمائندہ جمہوریت اپنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔جدید دنیامیں اس کی کئی صورتیں تخلیق کی گئی ہیں مگراس سلسلہ میں بہت سے سوال بے جواب رہتے ہیں۔سب سے پہلی بات تویہ کہ کیاوہ جمہوری خودمختاری جوآزادمعاشروں میں براہ راست جمہوریت میں شریک ہونے والے ایک فردکوحاصل ہوتی ہے قابل انتقال ہے یانہیں ؟آیاکوئی ایک فرد دوسرے کی نمائندگی ذہن ودل اورمافی الضمیرکے لحاظ سے کرسکتاہے؟قدرتی بات ہے کہ یہ ناممکن نظرآتاہے جیساکہ روسو(Rosseau)کاقول نوبرٹوبابیو(Nobero Bobio)نے نقل کیا ہے کہ Sovereignty can not be representedاس کامطلب یہ ہے کہ دور جدیدکی نمائندہ جمہوریت دراصل بنیادی جمہوری فکر اورفلسفے سے انحراف کے مترادف ہے جیساکہ ڈیوڈہیلڈ(David Held) لکھتاہے۔(موجودہ جمہوری طرزحکومت دراصل غلط فہمی پرمبنی ایک شرمناک انحراف ہے اس نظریہ سے کہ (جوجمہوریت کی بنیادہے)یعنی لوگوں کے ذریعے لوگوں کی خاطرلوگوں کی حکومت)
(3) مزید برآں یہ کہ اس نتیجے میں جوادارے معرض وجود میں آتے ہیں وہ جمہوریت کی راہ میں ایک رکاوٹ بن جاتے ہیں۔جیساکہ کارل مارکس نے واضح کیاتھا،(پارلیمان(کے ایوان ) رعایااوران کے منتخب نمائندوں کے درمیان ناقابل قبول رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں۔)
(4) نمائدہ جمہوریت (Representative Democracy)قائم کرنے کاسب سے بڑااوربنیادی واحد ادارہ انتخابات ہیں ۔یہ خودحقیقی جمہوری حکومت کے قیام میںسب سے پہلی اورسب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔وہ یو کہ موجود الیکشن نظام میں دولت مندطبقے کے علاوہ کوئی عام آدمی منتخب نہیں ہوسکتا۔بلکہ حصہ ہی نہیںلے سکتا۔ جبکہ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ معاشرے میں دولت مندافراداقلیت میں ہوتے ہیںاورعوام الناس (غرباء )اکثریت میں آج کے دورمیں انتخابات ایک صنعت بن چکے ہیں۔ امیدواروں کے حق میں رائے بنانے والی کمپنیاں اورادارے بھاری رقوم لے کران کے تشخص اورتأثر(Image and Impact)بناتی ہیں۔ظاہرہے یہ سب کچھ عام آدمی کے بس کاکھیل نہیں ۔ایسی صورت حال میں منتخب ہونے والے ممبران ایک ایساادارہ اورسیاسی طبقہ وجودمیں لاتے ہیں جوعوام کانہیں خواص کانمائندہ ہوتاہے اوراس طرح یہ نمائندے اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہوجاتے ہیں ۔ایسے معاشروں میں صرف سرمایہ داروں کو قوت وحاکمیت حاصل ہوتی ہے اورجمہوریت ان کی اس فوقیت کاذریعہ بن جاتی ہے۔اس طرح عوام الناس محروم طبقے میں تبدیل ہوکے رہ جاتے ہیں۔لہذا بقول برنکن(Burnkein)کے مارکس(Marx)کاتجزیہ درست ثابت ہوتاہے کہ؛(جمہوریت دراصل ایک سرمایہ دارانہ بورژوائی معاشرہ کی پیداوارہے۔جس نے جائیدادکی ملکیت کے جاگیرداری نظام اوراشرافیہ کی سیاسی حاکمیت کے پرانے نظام کی کوکھ سے جنم لیاہے۔)
(5) پسماندہ ممالک میں ان پڑھ عوام کے لیے یہ طرزحکومت سیاسی لحاظ سے ناممکن العمل اورسماجی الجھنو ں کاگورکھ دھندابن کے رہ گیاہے کیونکہ سیاسی نظام کے عملی اظہارکے لیے تعلیم وشعوربنیادی ضرورت ہے۔پھرنمائندگی کرنے والوں اورنمائندوں کومنتخب کرنے والوں کے لئے چونکہ کوئی تعلیمی معیار مقرر نہیں ہوتالہذاجمہوریت ایک جاہلوں کی حکومتّ(Government of the ignorant people)بن کے رہ جاتی ہے۔جہالت عام ہونے اورسیاسی مہارت نہ ہونے کی بنیادپرایسی حکومت اورعوام دونوں پیشہ وارانہ مہارت اورمنظم نوکرشاہی کے غلبہ میں آجاتے ہیں۔
(6) حکومت کاایک اہم فریضہ اورکردارمعاشرے میں ہم آہنگی اوریک جہتی پیداکرتاہے جبکہ انتخابی جمہوریت میں پارٹی سسٹم کی وجہ سے معاشر ے میں مختلف طبقات کے مفادات کاباہمی ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے نااتفاقی اورطبقاتی سبقت کارجحان بڑھنے لگتاہے۔افرادمعاشرہ کے درمیان اس غیراعلان شدہ کشمکش (Undeclared Conflict)پیداکرنے کی بنیادپرجمہوریت پورے تمدن کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔اسی بنیاد پرقدیم سیاسی مفکرین تھیوسی ڈاٹیڈز( Thucydides)افلاطون (Plato)اور ارسطو(Aristotie) اس طرزحکومت کی مخالفت نظریاتی اورعملی دونوں پہلوؤں سے کرتے رہے۔اگرہم ڈنکن (Duncan) کے بقول وہ لوگ ایتھنز کی جمہوریت کوفکروعمل دونوں کے لحاظ سے ایساسمجھتے تھے یہ کہ طرزحکومت امن وجنگ کے حوالے سے منتقم مزاج اورغیرشائستہ ہے اورداخلی معاملات کے لحاظ سے غیر مستحکم اورادنیٰ درجہ کے رویہ کاحامل بھی ۔انہی بنیادوں پرآج کاسیاسی مفکراسے تشنئہ تکمیل سمجھتاہے۔(جمہوریت ایک پسندیدہ مگرنایاب طرزحکومت ہے۔یہ اپنی فکراورعملی طریقئہ کارکے لحاظ سے کمزوروعاجزہے۔اورہمیشہ کئی پہلؤں سے نامکمل ر ہتی ہے ۔)
(7) جمہوریت کاادھوراپن ایسامستقل نقص ہے جواس کی بنیادوں کے ساتھ وابستہ ہے۔وہ مقاصد جوبذریعہ جمہوریت حاصل ہونے ہوتے ہیںوہ دراصل خودجمہوریت کے ارتقاء کے لیے بطورخام مال درکارہوتے ہیں۔( i) مثال کے طورپرجمہوریت ایسے معاشرے میں نہیں پنپ سکتی جہاں تعلیم نہ ہو۔دوسری طرف تعلیم عام ہونے کی بنیادحصول تعلیم کے ایسے مواقع جوعوام الناس کویکساں طورپر آسانی سے حاصل ہوں ۔یہ خود ایک جمہوری معاشرے کے ذریعے ممکن ہے۔یعنی ایک طرف تعلیم ذریعہ ہے معاشرے کوجمہوریت کی راہ پرلانے کااوردوسری طرف تعلیم عام ہونا(ہرایک کے حق کے طورپر)نتیجہ ہے مستحکم جمہوریت کا۔ڈیوڈہیلڈ(David Held)لکھتاہے۔Direct demoeracy requires relative equality of all participants a key condition of which is minimal economic and social differentiation(ii) (براہ راست(مطلق)جمہوریت کاتقضاہے کہ اس میں شریک سارے لوگوں میں قابل ذکرحدتک مساوات موجودہو ایک کلیدی شرط کے طورپرمعاشی اورسماجی تفاوت کم سے کم ہو۔)(iii) اسی طرح جان برنکن(John Brunkein)جمہوریت کی آبیاری کے لیے ضروری شرط یہ بیان کرتاہے کہ معاشرے کوپہلے اپنے سماجی رویوں میں جمہوری ہونا چاہئے۔)The society should se reasonadly democratic in its social attitudes(معاشرے کو اپنے سماجی رویوں کے اعتبارسے معقول حدتک جمہور ہوناچاہئے ) اگرکسی معاشرے میں جمہوریت پیداکرنے کے لیے کسی حدتک جمہوریت کاپہلے ہوناضروری ہے توپھرجمہوری طرزحکومت کافائدہ اورضرورت کیارہ جاتی ہے؟ ٰیہاں یہ الجھاؤ بھی پیداہوتاہے کہ آیاجمہوریت ایک ذریعہ ہے یاخودمنزل؟ اس سلسلہ میں ڈیوڈہیلڈ(David Held) کی رائے قابل توجہ ہے وہ لکھتا ہے:”جمہوریت مقصدنہیں ذرائع سے سروکار رکھتی ہے ۔یہ ایک سیاسی عمل کی ترکیب سے زیادہ کچھ نہیں ۔اس کے تحت مفادات کاارتقاء ہوتاہے کسی منصوبہ جنگ کے حوالے سے یاپھر کسی مترددمقابلے کی فضاء میں۔)
(8) گویاایک ایساراستہ اورذریعہ ثابت ہواجس کی اصل منزل جمہوری معاشرہ نہ تھی اوراس نے ایسی منزل پرپہنچادیا جودراصل چاہی نہیںگئی تھی لہذا عملی میدان میں ایک خاص طبقہ کی آزادیوں کوتحفظ اور خواہشات کوتکمیل کاتحفہ عطاکرنے میں یہ میکنزم کسی حدتک کامیاب رہاہے اورجمہوریت کے وہ اصل مقاصد جن کاتعین اسکو ترویج دیتے وقت ہواتھا یا وہ توقعات جواسے پھیلانے اورعام کرنے کاباعث بن رہی تھیں ابھی ایک ادھوراخواب ہیں۔
(9) جمہوریت نے معاشروں میں انفرادی خواہشات کی حوصلہ افزائی کوایک قانونی شکل دی ہے جس سے افرادمعاشرہ میں حرص وہوس کی مسابقت نے جنم لیاہے۔اجتماعی مفاد پس پشت ڈال دیاگیاہے۔اس طبقاتی مسابقت میں غریب اورکمزورپس کے رہ گیاہے۔ اس صورت حال کودیکھاجائے توشتراکی مفکرین کی یہ بات حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ،(جمہوریت ایک عوامی منڈی ہے۔ایک ادارتی طریقئہ کار جس کے تحت کمزوروں کونیست ونابود کیاجاتاہے اورایسے موزوں ترین فریق کومستحکم کیاجاتاہے ووٹ (عددی قوت)اور(سیاسی )طاقت کے ساتھ اس تقابلی معرکہ میںآگے بڑھ سکے ۔)
(10) اس تجزیہ سے یہ اہم بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جن مقاصد اورآئیڈیلزکو سامنے رکھ کے جدید جمہوریت کوفرغ دیاگیادراصل وہ ایسے میکنزم کامنطقی نتیجہ ہوہی نہیں سکتے تھے گویایہ ان مقصد کے حصول کاموزوں ذریعہ ہی ثابت نہیں ہوئی ۔ڈیماکریسی جوکچھ پیداکرسکتی تھی وہ کرچکی اورجوکچھ اس ذریعے حاصل ہوا ہے وہ ان آئیڈیلزکے ساتھ میل نہیں کھاتاجوعوام کی حکومت کے دلکش نعرے میں مضمرتھے ۔ اس حوالے سے رابرٹ ڈاہل(Rodert Dhl)کاتجزیہ حقیقت کی عکاسی یوکرتاہے۔(دراصل جمہوری فکر کوئی موزوںذریعہ ہی نہیں کسی غیرمادی یااعلیٰ سماجی فکرکوپروان چڑھانے کا بلکہ تاریخی لحاظ سے جوبات یقینی طورپرصحیح ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ (طرزسیاست وحاکمیت )خود جمہوری فکرکے لئے بھی موزوں ذریعہ نہیں ہے۔) لہذاانسانی معاشعروں کی طرف سے وہ تائید جاجمہوریت کو(Popular)کرتے وقت کی گئی تھی وہ بقول ڈال (Dahl) کے ایک فکری مغالطہ سے کم نہ تھی۔(ایک مبہم تائید ایسے خیال کی مشہورہوگیاہے۔) اس پرستم یہ ہے کہ آج مشرق ومغرب میں جمہوریت کوایک مقدس گائے (Sacrosanct) کادرجہ دیدیاگیاہے۔اس کی خامیاں تلاش کرناغیرضروری اورناجائز سمجھاجاتاہے اوراس خوبیوں کے بارے میں سوال کرنے کوغیرجمہوری رویہ گرداناجاتاہے۔

Related posts