کیا جمہوریت کے ذریعے اسلامی نظام کانفاذممکن ہے؟

پیرطریقت،حضرت اقدس مولانامفتی حمیداللہ جان رحمہ اللہ

حضرت ابو بکر صدیق سے بخاری شریف میں عورت کی حکمرانی کے بارے میں حدیث مروی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع پہنچی کہ کسریٰ کی بیٹی حکمران بن گئی ہے توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”ہر گز وہ قوم کامیاب نہیں ہوتی جس کی سربراہ عورت ہو ۔”
جب بینظیر کا دور آیا اور وہ حکمران بن گئی ،تو علماء سے اس پر گفتگو ہوئی ،چنانچہ ایک مولوی صاحب نے رات ایک جلسہ میں تقریر کی تھی کہ” سلیمان علیہ السلام کے دور میں بلقیس حکمران بنی تھی ،تو اگر بلقیس حکمرانی کر سکتی ہے تو بے نظیر بھی کر سکتی ہے۔ ”
مجھے کسی نے صبح بتایا۔ میں نے کہا افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ بھی نہیں سوچتے ہیں کہ یہ ادیانِ سابقہ کی بات ہے او ر ادیانِ سابقہ کی بات تب حجت بن سکتی ہے کہ جب قرآن وسنت اس پر خاموش ہوں ،جب کہ حدیث میں صراحتاً آیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دور میں بھائی اپنی بہن سے شادی کر سکتا تھا حالانکہ اب یہ حکم نہیں ہے بلکہ یہ منسوخ ہے ،تو ادیانِ سابقہ میں تو بہت مختلف احکام تھے۔ اب ان سے استدلال کرنا یہ تو بہت عجیب بات ہے ۔ جمہوری نظام غیر اسلامی نظام ہے ۔صاف صاف کہتا ہوں۔ کیایہ عوامی جمہوریت ہے کہ نشہ کرنے والے پوڈری کا ووٹ اور ایک عالم کا ووٹ برابر ہے ؟انتخابات میںایک طرف توایک امیدوارکوووٹ دینے والے ایک سو علماء ہیں اور دوسری طرف ایک اورامیدوارکوووٹ دینے والے ایک سوایک نشہ کرنے والے پوڈری ہیں توجمہوری آئین کے مطابق ،پوری دنیا کے نظام کے مطابق (جو جمہوری نظام ہے )امیدوار نشہ کرنے والے پوڈریوں کاکامیاب ہو گا ،اسی طرح انتخابات میںایک طرف توایک امیدوارکوووٹ دینے والے ایک سو جج ہیں اور دوسری طرف ایک سو ایک پوڈری ہیں توامیدوار پوڈریوں کاکامیاب ہو گا ۔ایک طرف ایک سو علماء ہیں اور دوسری طرف ایک سو ایک عورتیں ہیں توامیدوار عورتو ں کاکامیاب ہو گا ۔یہ بدیہی بات ہے کہ مروجہ جمہوریت غیر اسلامی ہے اور انگریز خوداس بات کوتسلیم کرچکے ہیں ۔علامہ اقبال نے ایک انگریز کا قول نقل کرتے ہوئے دو شعر کہے تھے ، ایک کا ترجمہ یہ ہے کہ :ایک انگریز نے کہا کہ اگر چہ وہ جھوٹے ہیں مگر یہ بات سچ کہہ چکے ہیں :
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
یہ علامہ اقبال نقل کرتے ہیں یہ ان کا قول ہے ،اگر کوئی مولو ی کہتا ،تو کہتے یہ ملا لوگ دنیا سے کیا واقف ہیں ؟
جمہوریت ایک ملعون نظام ہے ،یہ انگریزوں نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کوہمارے اوپر مسلط رکھنے کے لئے دیا ہے ۔
ایک اشکال کا جواب ابھی دے دیتا ہوں ،تا کہ آپ لوگ (مخاطبین) فوراًیہ نہ کہیں کہ استاذ جی تو بڑے عالم ہیں ، حالانکہ حضرت اقدس مولانا عبد الحق صاحب رحمہ اللہ M P A رہ چکے ہیں ،حضرت اقدس مولانا مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ M P A رہ چکے ہیں ، حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا نعمت اللہ صاحب M P A رہ چکے ہیں ،حضرت اقدس مولانا شہید احمد صاحب رحمہ اللہ M P A رہ چکے ہیں ،حضرت مولانا اعظم طارق صاحب M P A رہ چکے ہیں ،علامہ غلام غوث ہزاروی M P A رہ چکے ہیں، یہ سب میرے سامنے ہیں الحمد للہ ،اور ہم ان کی حمایت بھی کر چکے تھے ،اور اس وقت ہم بھی جمہوری سیاست میں ملوّث تھے ،واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ میں نے جمہوری سیاست سے توبہ کر لی ہے اللہ وہ قبول فرمائے ۔
یادرکھیں!جمہوری سیاست سے اسلامی انقلاب نہیں آسکتا، ایک مرتبہ ایک مولاناصاحب نے کراچی میںپروگرام کیا اور علماء کو جمع کر دیا ،تو جب میں نے تقریرکرتے ہوئے یہ بات کہی کہ” جمہوریت نظامِ کفر ہے، اس سے اسلام کا آنا نا ممکن ہے ۔”
تو ایک عالمِ دین نے فورا ًیہ سوال اٹھایا کہ ”پھر یہ سارے بزرگ جو سیاست میں کام کرتے رہے ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا ،اس میں تو فلاں بزرگ بھی تھے، فلاں بھی تھے ۔”
جیسے میں نے آپ کو گنتی کر کے ابھی بتا دیا ،تو میں نے پہلا جواب تو یہ دیا کہ مجھے افسوس ہے کہ ایک عالمِ دین نے یہ سوال کیا ہے۔ اگر کوئی جاہل کرتا تو شاید اس قدر افسوس نہ ہوتا ،وہ سائل میری بات پرحیران رہ گیا۔ میں نے کہا کیاکسی (فقہ کی )کتاب میں یہ لکھاہے کہ فلاں عالم کا عمل حجت ہے ؟حجتِ شرعیہ توچار ہیں ١۔کتاب اللہ ،٢۔سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،٣۔اجماعِ امت ،٤۔قیاسِ شرعی ۔
کسی کتاب میں یہ نہیں ہے کہ عالم کا فعل حجت ہے ،عالم کا فعل احکامِ شرعیہ کے لئے حجت نہیں ہے ،ہاں اگر قرآن و حدیث سے دلیل دیتے تو پھر ہم خوش ہوتے ،کہ ہماری تسلی ہو ئی ہے ،لیکن پھر میں نے تحقیقی جواب دے دیا کہ جمہوریت میںحصہ لینے والے بزرگ حضرات مخلص تھے ،،ان کے اخلاص پر ،ا ن کی دیانت پر ، ان کے تقویٰ پر ہم کو یقین ہے ،ہم ان بزرگوں کواپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں ،اور دور سے نہیں قریب سے دیکھ چکے ہیں ، ان سب کو میں الحمد للہ دیکھ چکا ہوں ،مولانا عبد الحق صاحب رحمہ اللہ(بانی،دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک) سے تو میری جمہوریت پر بات بھی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا حضرت ! جمہوریت کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟تو حضرت نے مجھ سے سوال کرتے ہوئے فرمایا:
” بچو!(یہ ان کا نوجوانوں کے لئے خاص لفظ یعنی تکیہ کلام تھا) کافر زیاد ہ ہیں کہ مسلمان ؟میں نے کہا کافر ،پھر فرمانے لگے ،فاسق زیادہ ہیں یا دیندار ؟ میں نے کہا فاسق ،پھر فرمانے لگے ،علماء زیادہ ہیں یا جاہل ؟میں نے کہا جاہل ، پھر فرمایا کہ جمہوریت مانتے ہو تو پھر مولو ی کاکیا حق بنتاہے کہ وہ کہے کہ مجھے بھی حکومت دو ،پھر تو گھر میں بیٹھ جاؤ،اکثریت کافروں کی ہے ،اکثریت فاسقوں کی ہے ،اکثریت جاہلوں کی ہے ، جب اکثریت ان کی ہے اور آپ اکثریت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں تو فیصلہ تو ہو چکاہے کہ حکومت ان کی ہونی چاہیے۔”
بات یہ ہے کہ وہ حضرات مخلص تھے۔ ہمیں ان کے اخلاص میں شک نہیں ہے ،اور وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت لعنت ہے ، لیکن چونکہ پاکستان بننے کے بعدابھی ابتدائی دور تھا اورتجربات کا دور تھاتو ان حضرات کا اس وقت یہ خیال تھا کہ اسلامی نظام کے نفاذکے لیے نیا راستہ بنانے کی بجائے شاید اسی کانٹے دارجمہوری راستے سے ہم گزر کر اسلامی نظام کے نفاذکے مقصد تک پہنچ سکیں ،یہ ان کا ایک اجتہادتھا ،لیکن پچاس ساٹھ سال کے بعد تجربہ نے یہ ثابت کر دیاہے کہ اس کانٹے دار جمہوری راستے میں ہم زخمی ہو گئے ،ہم بدنا م ہو گئے اور مقصد تک نہیں پہنچ سکے ،اسلامی نظام نہیں آیا ۔میں نے کہا و ہ حضرات اجتہادی غلطی کر چکے ہیں اور اجتہادی غلطی پر بھی ایک اجر ملتاہے ،ان کا اجتہاد تھا ، ان کا خیال تھا کہ شاید ہم اسلامی نظام کے نفاذکے مقصدتک پہنچ جائیں گے ،جمہوریت ایک چلتا ہوا راستہ ہے ،اگرچہ یہ کانٹے دار راستہ ہے ،وہ خود کہتے تھے ،جمہوریت ایک لعنت ہے ، مجھے مولانا عبد الحق صاحب نے آمنے سامنے کہا ،اس لئے ان بزرگوں کے اخلاص پر اور دیانت پرہمیں کوئی شک نہیں ہے ،مگر ہم یہ ضرورکہتے ہیں کہ اگر امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ، امام مالک ،امام احمد بن حنبل ،امام اوزاعی، امام لیث بن سعد وغیرہ وغیرہ جیسے آئمہ حضرات سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے تو اس دور کے علماء سے بھی اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے ۔
(ملفوظاتِ حمیدیہ،مرتب،محسن ہاشمی)

2017 نوائے امت ۔ اکتوبر

Related posts