کیا ہم آنے والی تباہی سے بچ سکتے ہیں؟

عبدالقادر حسن

ہمارے ایک دوست ہیں رائو صاحب ، معمر ہیں مگر ذہن اور دل دونوں جوان ہیں ۔وہ ٹیلی فون پر ھرروز کئی نکات بھیتے رہتے ہیں ،ان کا تازہ ترین نکتہ یہ ھے کہ پہلے ایک دور تھاجسے پتھر کا دور کہتے تھے ،اب وہ تو ماضی بعید میں کہیں گم ہوگیا مگر اب انسان پتھر کے ہیں ۔اب میں سوچتا ہوں کہ اپنے ارد گرد پتھر کے انسانوں کے ساتھ میں بھی ایک پتھر کیوں نہ ہوگیا ۔یہاں ہر اصول،ہراخلاق اور ہر نیکی کا مسلسل خون ہوتا رھتا ہے اور ایک مدت سے ہورہا ہے ۔ان میں سب سی بڑاخون خود پاکستان کا تھا اور سب سے بڑا شہید خود پاکستان ہے ۔میں وہ بد نصیب پاکستانی ہوں جب پاکستان بنا تھا تو مجھے اتنا شعور تھا کہ اب ہم انگریز کے غلام نہیں رہے اور ایک پسندیدہ ملک کے شہری بن گئی ہیں۔اس ملک کو ملک خداداد کہاگیا اور اس کے وجود کو پورے عالم اسلام کیلئے ایک رحمت اور نعمت قرار دیا گیا اور یہ سب کچھ بالکل ٹھیک تھالیکن آج غور کریں اور مراقبہ کریں ، تاریخ میں جھانکے تو پتا چلتا ہے کہ جب یہ ملک بن رہاتھا تو اس میں ایک ایسا بااثر طبقہ بھی آباد تھاجن کی نیتوں میں فطور تھا ۔ یہ چالاک اور عیار لوگ رفتہ رفتہ اس ملک پر قابض ہوگئے اور اسے پوری انسانی طمع و حرص اور بے پایاں لالچ کامرکز بنادیا یہاںتک کہ ہم گذشتہ چار برس اس بحث میں مصروف رہے کے کرپشن کے باہر پڑے ہویے مال کی واپسی کی کوشش کریں یانہ کریں ۔ہماری پوری پارلیمنٹ جو اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی نمائندگی کر تی ہے ،اس ایک خط کے متن پر الجھی رہی کہ اسے کس الفاظ میں لکھیں اور اس بات پر کہ اسے بھیجیں یا نہ بھیجیں ۔ آپ کی طرح میں بھی یہ سب دیکھتا رہی اور جلتا سڑتا رہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یہ توھین کس جرات اور ڈھٹائی کیساتھ بر سر عام کی جارہی ہے ،پوری دنیا یہ لطیفہ سن رہی ہے ۔ہمارا حال دیکھ رہی ہے۔

یہ ایک واقع ہے کہ پاکستان کے پاس ایک خوشحال بلکہ امیر ملک بننے کے لئے سب کچھ تھا ، وہ تمام مسائل میسر زراعت پر توجہ دی اور یوں صنعت و زراعت دونوں میںملک کی دو گانہ ترقی کا آغاز ہوا۔یہ وہ زمانہ تھا جب پالستان جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ خوشحال ملک تھا ۔حقائق بتاتے ہیں کہ دنیامیں پسماندہ ممالک ترقی کا ہنر سیکھنے کیلئے پاکستا ن آیا کر تے تھے ۔غیر مسلم دنیا ا س مسلمان ملک کو تشویش کی نظروں سے دیکھ رہی تھی کس کا دعوہ تھا کہ وہ اسلامی تہذیب و ثقافت اور روایات کی ترقی کیلئے وجود میں آیا ہے ۔کیا آپ کو یاد ھے کہ ہماری یونیو رسٹیوں میں بیرونی طلبہ کی ایک بڑی تعداد تھی اور اس میں اضافہ ہو رہاتھا ۔ہماری جدید خوشحال اور ترقی پذیر زندگی قابل رشک تھی لیکن پھر ملعون اشرافیہ کا ایک لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے آیاجس نے آتے ہی صنعتوں کو قومیانہ شروع کر دیا ،چھوٹے چھوٹے کارخانے بھی سرکاری تحویل میںچلے گئے ، زراعت کش نئی تکمیل ملنا بند ہوگئی ۔میرے چھوٹے سے بارانی گائوں میں اس زمانے اسی ہزار روپے کی مالیت کے زرعی آلات تھے ،جن کو زراعت کے محکمے کے لوگ چلاتے تھے ،وہ سب ختم ہوگیا ۔
ہماری عوامی حکومت نے ہماری ترقی کی پوری بساط ہی الٹ دی۔ہمیں بہت جلد معلوم ہوگیا کہ ہم تو اس عوامی سوشلزم والے انقلاب میں اوندھے منہ زمین پر پڑے ہیں ۔ہمارا یہی انقلاب تھا ۔انقلاب کے لغوی معنی الٹ پلٹ کے ہیں ۔اس کے بعد ہم جتنی بلندی پر پہنچے تھے،ہم اس بلندی سے نیچے کی طرف لڑھکنے شروع ہوگئے اور آج ہماری حالت قابل رحم ہے ۔آپ بہت جلد بڑے بھیانک نتائج سے دو چار ہونگے ۔زمین کا قہراور آسمان کا قہر دونوں بیک وقت ہم پر ٹوٹیں گے بلکہ بدامنی، قتل وخونریزی بے پناھ اورناقابل تصور حد تک رشوت ستانی اور ہماری اشرافیہ کی انتہائی خود غرضی اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ ہم پر ایک قہر نہیں تو کیا ہے ۔ نہ پانی ،نہ بجلی،نہ ریل،نہ جہاز ۔برسوں پہلے مدینہ منورہ میں مقیم صوفی باصفانذیر صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ کراچی میں جب میں جہاز سے اترتا ہوں تو مجھے خون کی بو آتی ھے۔یہ امن اور آفیت کا زمانہ تھا لیکن اس کے کوئی ڈیڑھ دو برس بعد کراچی میں ایک گروہ نے قتل اور بھتا گیری شروع کردی اور پھر چل سوچل ،آج کا کراچی دیکھ لیں ۔ایسے حالات میںایک مسلمان سے استغفار کا کہا جاتا ہے لیکن اب صرف زبانی کلامی معافی کا وقت شاید گزر چکا ہے ۔اب قومی مجرموں کو کٹہرے میں لانے اور سولیوں پر لٹکانے کاوقت ہے اور اس وقت کو اب ٹالانہیں جاسکتا ۔(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)

Related posts