گلوبلائزیشن کا پس منظراورحقیقت

ڈاکٹرحافظ محمدثانی

 

اسلام ایک آفاقی دین اورابدی ضابطہء زندگی ہے جبکہ مسلم امہ بلاتفریق رنگ ونسل اور قوم وملت ایک امت ہے ۔رسول اکرم  ﷺ نے غیر اسلامی اورغیر انسانی امتیازات کاخاتمہ فرماکر پوری انسانیت اورمخلوق کو اللہ کاکنبہ قرار دیا۔ مسلم امہ کاتصور عالمگیر حیثیت کاحامل اور بین الاقوامیت کے اصولوں پرمبنی ہے ، آپ ﷺ نے عرب وعجم ، کالے اورگورے ہر انسان کو آد م   کی اولاد قراردے کر پوری انسانیت کو ایک برادری اور مسلم امہ کو جسد واحد ، ایک امت قراردیا۔ مساوات اوراخوت واجتماعیت کایہ رنگ دینی مساوات اورملی یگانگت کامظہر ہے اس طرح اسلام نے اخوت ، اجتماعیت اورفلاح انسانیت کاوہ تصور عطاکیاجس کی مثال پوری انسانیت اورمذاہب کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے تاہم امت اورملت کایہ تصور صرف اورصرف اسلامی اخوت واجتماعیت اور دینی وملی یگانگت پر مبنی ہے ۔اس نظریے نے وحدت امت کے تصور کو اجاگر کیااورقوم رسول ہاشمی  ایک عالمگیر امت اورملت قرارپائی ۔ اقبال نے کیاخوب کہاہے     

اپنی   ملت   پر   قیاس    اقوام  مغرب  سے  نہ کر

خاص   ہے    ترکیب    میں   قوم   رسول    ہاشمی

اس طرح گویااسلامی عالمگیریت کاوہ اصول وضع ہواجس نے پوری امہ کووحدت کی لڑی میں پرودیا،خدمت اورفلاح انسانیت اس کی بنیاد قرار پائے ۔ یہ ایک عالمگیر مذہب دین اسلام اور عالمگیر امت مسلم امہ کی خصوصیت ہے ،جبکہ عہد حاضر میں اکیسویں صدی کے آغاز پر جبر واستبداد وظلم واستحصال ، استعماریت پسندی اورمعاشی استحصال پر مبنی جو دو اصول صلیب کے علمبرداروں اورصہیونیت کے ترجمانوں یورپ اورامریکانے انسانیت کے سامنے پیش کیے وہ نیوورلڈ آرڈر اور گلوبلائزیشن ہیں ۔ عالمی استعمار اورصہیونیت کے یہ دوہتھیار وہ ہیں جن کے ذریعے وہ عالمگیریت کے نام پرپوری دنیاکو اپناغلام بناناچاہتے ہیں ۔ یہ عالمگیر سطح پرمسلم امہ کے خلاف بالخصوص اور پورے مظلوم انسانیت کے خلاف بالعموم ایک سازش ہے ۔ جس کامقصد عالمگیر سطح پر معاشی استحصال کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ اقتصادی اور معاشی طور پر انسانیت کومفلوج کردینے کی عالمی کوششوں کاحصہ ہے ۔ The International Encyclopedia of  Business Managementکے مطابق یہ ایک عالمی تہذیب کے پھیلاؤ اوراسے وسعت دینے کے لئے نقش راہ ہے ۔ ١٤ اپریل ١٩٨٨ء کو روس نے جنیوامعاہدے پردستخط کرکے گویاامریکہ کی برتری کو تسلیم کرلیا۔ اورافغانستان سے شدیدپسپائی اورذلت آمیز شکست کے بعد اپنی فوجوں کی واپسی کے لئے رضامند ہوگیاجس کے بعد امریکہ ورلڈپاور،عالمی طاقت کے طور پردنیاکے سامنے آیاچنانچہ امریکہ کے تمام پالیسی ساز ادارے متحرک ہوگئے اورانہوں نے ایک نئے سامراجی دور کے لئے سفارشات مرتب کرناشروع کردیں ۔ بعد ازاں امریکہ نے ”نیوورلڈآرڈر”کی شکل میں دنیاپربلاشرکت غیرے اپنی حکمرانی اور سربراہی کے تصور کو عملاً ایک نظام بنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ گویانیوورلڈآرڈر سے مراد امریکہ کی وہ خارجہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ پوری دنیاکے نظام کو اپنے عسکری ،سیاسی اوراقتصادی مفادات وترجیحات کے تابع بناناچاہتاہے تاکہ وہ عرصئہ دراز تک اپنی عالمی یکتائی کے زور پر بین الاقوامی سرمایہ داریت اوراستحصالیت کو تحفظ دے سکے۔

اس عالمی نظام کے پس پردہ محرکات اورترجیحات میں اہم ترین احیائے اسلام کی تحریکوں کوکچلنا،اسلام اور مسلم امہ کے خلاف کی فضاقائم کرنااور مسلم دنیابالخصوص اور پوری دنیاکی اقتصادی اور معاشی حالت کوکنڑول کرنااور اس پر اجارہ داری قائم کرنااس کے بنیادی اہداف ہیں ۔ جبکہ گلوبلائزیشن کی عالمگیرتحریک گوکہ عہد حاضر میں متعارف کرائی گئی ہے تاہم یہ تحریک ایک منظم ،مربوط اورطے شدہ سازش کاحصہ ہے چنانچہ انیسویں صدی کے اواخرمیں گلوبلائزیشن کے معنی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے منظم طورپرکوششوں کاآغازہوا،اگرچہ لفظ گلوبلائزیشن کاوجود اس وقت نہیں ہواتھا۔ چنانچہ ١٨٩٧ء میں سوئزرلینڈکے مشہورشہر باسل میں صہیونیوں کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ٥٠عالمی یہودی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ٣٠٠یہودیوں نے شرکت کی ۔ انہوں نے اس کانفرنس میں عالمی صہیونی حکومت کے قیام اورپوری دنیاکو غلام بنانے کامنصوبہ بنایا۔ اورنہایت خفیہ طریقے سے چند ایسی تجاویز پاس کیں جن کو صہیونیت کے علمبرداروں کی زبان میں پروٹوکولز کہاجاتاہے ۔ یہ پروٹوکولزایک کتاب کی صورت میں مرتب ہیں ۔ جو١٩ ابواب پرمشتمل ہے ۔ اس کتاب کے گیارہویں اورانیسویں باب میں عالمی حکومت کاتخیل ملتاہے ۔ ان پروٹوکولز میں یہودی مفکرین نے آنے والی نسلوں کویہ وصیت کی کہ عظیم تراسرائیل بہ الفاظ دیگر عالمی صہیونی حکومت کے قیام کے لئے تمام مادی وسائل پرقبضہ کرلیں تاکہ ان کے ذریعے حاصل ہونے والی دولت مستقبل کی مملکت کی راہیں ہموارکردے ۔ ذرائع ابلاغ کو اپنے کنڑول میں لے لیں تاکہ رائے عامہ ہموار کرنے میں آسانی ہو، چنانچہ گلوبلائزیشن آج اقتصادی (معیشت) اورمیڈیاکی راہ سے ایک مؤثر طاقت بنتاجارہاہے ۔ بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک کے سفر میں گلوبلائزیشن کے لئے راہیں ہموارکی گئیں اورآج یہ ایک عالمی حقیقت کاروپ دھارچکی ہے ۔ چند سیاسی اوراقتصادی حالات نے گلوبلائزیشن یاعالمگیریت کے فروغ میں بنیادی کرداراداکیااورعہد حاضر میں اسے نظریے سے حقیقت اورفکروخیال سے زندہ اورعالمگیرحقیقت کاروپ دے دیاہے ۔ آج گلوبلائزیشن کی اس منظم تحریک کے سبب مغرب عربوں کے مال ہتھیاکرخود اس کو سرمایہ کاری میں لگارہاہے ۔ وسائل سے مالامال عرب دنیاقرضوں کے بوجھ تلے دبی جارہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق عالم عرب ہرمنٹ میں تقریباً ٥٠ہزارڈالرقرض لیتاہے ، جبکہ اتنی ہی مقداریورپ ہرمنٹ میں سرمایہ کاری پرلگارہاہے ۔ گلوبلائزیشن یاعالمگیریت کاایک مقصد اقتصادی میدان میں مقامی حکومتوں کی قوت اوراقتدارکاخاتمہ کرکے عالمی معیشت پراسرائیلی اورامریکی بالادستی قائم کرناہے۔ اس کی بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ آزاد تجارت ومعیشت کے نام نہاد نعرے کے ذریعے پوری دنیا کی دولت سمیٹ کرچند ہاتھوں میں لے جاناچاہتی ہے۔ یہ اقتصادی اورمعاشی استحصال کاوہ عالمگیر ہتھکنڈاہے جس کے ذریعے چند بالادست بااختیار عالمی طاقتیں دنیاپراپناتسلط قائم کرناچاہتی ہیں۔ یہ معاشی استحصال کاعالمگیرہتھیاراورظلم واستبداد کااستعماری پیمانہ ہے ۔

Related posts