65سالہ انتخابی سیاست کے نتائج وثمرات

مولانامحمدزاہداقبال

2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے اورحزب اقتداروحزب اختلاف نگران حکومت کے قیام کے لئے مشاورت میں مصروف ہیں ۔ حزب اختلاف جلدازجلداسمبلیوں کی تحلیل اورعام انتخابات کے اعلان کی خواہشمند ہے جبکہ حزب اقتدارقانونی میعادپوری کرنے کے بعدبھی مزیدکچھ وقت اقتدار کے مزے لوٹناچاہتی ہے ۔ چونکہ عام انتخابات کاوقت آیا ہے اس لیے پورے ملک میں سیاسی سرگرمیاں بتدریج زورپکڑرہی ہیں ۔ سیاسی پارٹیاں جوڑتوڑ اورپارٹی لیڈر اپنے جوہردکھلانے میں مشغول ہیں ۔نئے اورپرانے سیاستدانوں کالنڈابازار لگاہواہے ۔ سیاسی جماعتوں نے نئے اورپرانے سیاستدانوں کوشامل کنے کے لئے دروازے ہی نہیں بلکہ پھاٹک کھول رکھے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں نے نئے اور پرانے سیاستدانوں کو شامل کرنے کے لئے دروازے ہی نہیں بلکہ پھاٹک کھول رکھے ہیں چنانچہ سیاستدان ہیں کہ ایک پھاٹک سے نکل کر دوسرے پھاٹک میں داخل ہونے کے لیے دیر نہیں کر رہے ہیں حتیٰ کہ 40سالہ سیاسی پس منظر رکھنے والے سیاستدان بھی قلا بازیاں کھا رہے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ کسی سیاستدان نے ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار نہ کی ہو۔سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ”اصولوں کی سیاست ”کے نام پر وہ وہ حربے اور ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں کہ ان کے اپنے کارکنان انگشت بدنداں ہیں۔ پرانی سیاسی پارٹیاں ملک و قوم کی خدمت کے نام پر عوام کے کندھوں پر سوار ہو کر دوبارہ ایوان ااقتدار میں براجمان ہونا چاہتی ہیں، جبکہ نئی پارٹیاں پرانے نعروں کو نئے الفاظ کا جامہ پہنا کر عوام سے ووٹ کی طلبگار ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ نئے انتخابات کے بعد انہیں بھی حصہ بقدر جثہ حکومت میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ 65سالہ انتخابی سیاست نے ملک و قوم کو کچھ بھی نہیں دیا۔ ہر پارٹی نے اقتدار میں آ کر ایسی ایسی پالیسیوں اور منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے جن کے نتیجے میں آج ملک ہر لحاظ سے تباہی و بددیانتی بربادی کا شکار ہے۔ ریاست کا کوئی محکمہ اور ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن، بدعنوانی، دھوکہ، فراڈاور کام چوری سے محفوظ ہو، ہر شعبے میں نچلی سطح سے لے کر اوپر تک کرپٹ لوگوں کی بھرمار ہے جو ناجائز ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہر قانون اور اصول کو توڑ کر پوری قوم کو قانون شکنی کے رخ پر ڈال چکے ہیں۔ یوں تو ہر شعبہ زوال کا شکار ہے لیکن معاشی خوشحالی کے جس بلند بانگ دعوئوں اور نعروں کے ساتھ سیاسی پارٹیاں انتخابات میں حصہ لے کر ایوان اقتدار میں پہنچتی ہیں آج اس کا ملک میں نام و شان تک نہیں ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں انتہائی حدوں کو چھونے کے باوجود دستیاب نہیں ہیں جس کے نتیجے میں صنعت تباہ حالی کا شکار ہے۔ فیکٹری مالکان اور مزدور سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمران طبقہ لمبی تان کر سو رہا ہے بلکہ وہ ترقیاتی کاموں کے نام پر آئی ایم ایف سے قرضے لے کراپنے اللوں تللوں پر اڑا رہا ہے چنانچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہر پاکستانی مزید 11900روپے کا مقروض ہوا اور اس وقت ہر پاکستانی 38600روپے کا مقروض ہے (روزنامہ جنگ لاہور 27جنوری2013ئ) پاکستان کے ہر شہری کو غیر ملکی قرضوں میں جکڑنے والے حکمران آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد پوری قوم کو قرضوں کی مزید قسط مل جانے کی ”خوشخبری” سناتے ہیں۔دراصل باطل و فاسد جمہوریت اور انتخابی سیاست کی بدولت ایسا نظام وجود نہیں آتا ہے جو بالآخر ملک و قوم کی ہلاکت و تباہی کا باعث بنتا ہے، جس کا واضح نمونہ اور عمدہ مثال پاکستان ہے۔ حالانکہ یہ ملک جمہوریت اور سرمایہ داری کے لیے نہیں بلکہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے معرض وجود میں آیا تھا لیکن مغرب زدہ اور مادہ پرست طبقے نے جمہوریت کو نافذ کر کے اور انتخابی سیاست کا ڈول ڈال کر ملک و قوم دونوں کی دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی تباہ کر دی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوری نظام کا بستر گول کر کے اسلامی نظام قائم کیا جائے کیونکہ جب تک جمہوری نظام قائم ہے اس وقت تک ملک و قوم کی تقدیر کبھی بھی نہیں بدل سکتی۔ اس لیے ملک کو تبای سے بچانے اور قوم کی دنیا و آخرت کو سنوارنے کے لیے اسلامی نظام خلافت کا قیام ناگزیر ہے لہٰذا اس کے لیے جدوجہد کرنا ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونا لازم ہے۔

Related posts